<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:05:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:05:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد احتجاج: عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247656/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، بشریٰ بی بی اور بیرسٹر گوہر سمیت 96 دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے،کوہسار پولیس نے مقدمہ نمبر 1 ہزار 32 میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین، مراد سعید، عمر ایوب، شیر افضل مروت، فیصل جاوید، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ حاصل کرلیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے زلفی بخاری، سلمان اکرم راجہ، رؤف حسن،علی زمان، پیر مصور ،میاں خلیق الرحمان، سہیل آفریدی ،شہرام خان ترکئی،بریگیڈیر (ر) مشتاق اللہ ، میجر (ر) راشد ٹیپو کے بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایم این اے عبدالطیف ،فاتح الملک ،علی ناصر ،صوبائی وزیر ریاض خان، خالد خورشیدکے بھی وارنٹ جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدالتی احکامات کے باوجود وکلا کی  عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر راولپنڈی پولیس کے سربراہ (سی پی او) ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور ایس ایچ اوتھانہ نیوٹاؤن کو توہین عدالت نوٹس جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سی پی او سمیت تینوں افسران کو کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247652"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو عمران خان سے وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم دیا تھا، بانی کے وکلا نے ملاقات کے لیے عدالتی احکامات تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو وصول کرائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، عدالتی احکام پر عمل نہ کرنے پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے رجوع کیا تھا، عدالت نے پولیس افسران کو کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے، اس کے بعد علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے متضاد اعداد و شمار پیش کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وفاقی حکومت، اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے حکام نے کہا تھا کہ مظاہرین نے سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، لاٹھیوں، ڈنڈوں اور برچھیوں سے نشانہ بنایا، متعدد مقامات پر پرتشدد احتجاج میں پولیس کے 170 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جو ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، بشریٰ بی بی اور بیرسٹر گوہر سمیت 96 دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے،کوہسار پولیس نے مقدمہ نمبر 1 ہزار 32 میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔</p>
<p>پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین، مراد سعید، عمر ایوب، شیر افضل مروت، فیصل جاوید، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ حاصل کرلیے۔</p>
<p>عدالت کی جانب سے زلفی بخاری، سلمان اکرم راجہ، رؤف حسن،علی زمان، پیر مصور ،میاں خلیق الرحمان، سہیل آفریدی ،شہرام خان ترکئی،بریگیڈیر (ر) مشتاق اللہ ، میجر (ر) راشد ٹیپو کے بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایم این اے عبدالطیف ،فاتح الملک ،علی ناصر ،صوبائی وزیر ریاض خان، خالد خورشیدکے بھی وارنٹ جاری کیے گئے۔</p>
<p>قبل ازیں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدالتی احکامات کے باوجود وکلا کی  عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر راولپنڈی پولیس کے سربراہ (سی پی او) ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور ایس ایچ اوتھانہ نیوٹاؤن کو توہین عدالت نوٹس جاری کیے۔</p>
<p>راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سی پی او سمیت تینوں افسران کو کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247652"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو عمران خان سے وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم دیا تھا، بانی کے وکلا نے ملاقات کے لیے عدالتی احکامات تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو وصول کرائے تھے۔</p>
<p>تاہم، عدالتی احکام پر عمل نہ کرنے پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے رجوع کیا تھا، عدالت نے پولیس افسران کو کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے، اس کے بعد علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے متضاد اعداد و شمار پیش کیے تھے۔</p>
<p>دوسری جانب وفاقی حکومت، اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے حکام نے کہا تھا کہ مظاہرین نے سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، لاٹھیوں، ڈنڈوں اور برچھیوں سے نشانہ بنایا، متعدد مقامات پر پرتشدد احتجاج میں پولیس کے 170 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جو ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247656</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Dec 2024 17:36:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/02171634e0d74ca.png?r=173622" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/02171634e0d74ca.png?r=173622"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:  فوٹو بشکریہ فیس بُک/ عمران خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
