<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 20:18:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 20:18:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیٹ بند کیا نہ اس کی رفتار سست کی، حکومت کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247663/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ بند کیا ہے، نہ اس کی رفتار سست کی گئی جب کہ ڈیٹا انٹرنیٹ (موبائل انٹرنیٹ) بھی 100 فیصد چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گزشتہ ماہ 24 نومبر سے انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہے، تاہم گزشتہ 10 روز کے دوران بعض دونوں میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مختلف شہروں میں موبائل انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے صارفین نہ تو سوشل میڈیا ایپس چلا پا رہے ہیں اور نہ ہی آسانی سے آن لائن خریداری ہو پا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247329"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ نے 23 نومبر کو بتایا تھا کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کی وجہ سے 24 نومبر کو اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل کی جائے گی، تاہم 2 دسمبر تک بھی شہریوں کو سست رفتاری کی وجہ سے سوشل میڈیا ایپس چلانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دوسری جانب مملکت وزیر برائے انفارمیشن و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے برانڈ بینڈ انٹرنیٹ بند کیا، نہ اس کی رفتار سست کی اور نہ ہی ڈیٹا انٹرنیٹ بند کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو نیوز سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.instagram.com/geonewsdottv/reel/DDCc5wnCzt6/"&gt;&lt;strong&gt;بات کرتے ہوئے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; شزا فاطمہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت انٹرنیٹ بند ہی نہیں کر سکتی، ملک کا زیادہ تر کاروبار اب آئی ٹی پر منتقل ہو چکا ہے اور اسی وجہ سے ملک بھر میں سائبر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ کے مطابق لوگوں کو تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے اور موصول کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے، تاہم مذکورہ مسئلہ بھی جلد حل کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹرنیٹ کو بند نہیں کیا اور یہ کہ ڈیٹا انٹرنیٹ بھی 100 فیصد چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر پابندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر پر پابندی کو آزادی اظہار رائے پر قدغن کے طور پر نہ لیا جائے، ایکس کو صرف دو فیصد انٹرنیٹ پاکستانی صارفین استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگاتی تو فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرتی، جنہیں ایکس کے مقابلے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ بند کیا ہے، نہ اس کی رفتار سست کی گئی جب کہ ڈیٹا انٹرنیٹ (موبائل انٹرنیٹ) بھی 100 فیصد چل رہا ہے۔</p>
<p>کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گزشتہ ماہ 24 نومبر سے انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہے، تاہم گزشتہ 10 روز کے دوران بعض دونوں میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>ملک کے مختلف شہروں میں موبائل انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے صارفین نہ تو سوشل میڈیا ایپس چلا پا رہے ہیں اور نہ ہی آسانی سے آن لائن خریداری ہو پا رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247329"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزارت داخلہ نے 23 نومبر کو بتایا تھا کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کی وجہ سے 24 نومبر کو اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل کی جائے گی، تاہم 2 دسمبر تک بھی شہریوں کو سست رفتاری کی وجہ سے سوشل میڈیا ایپس چلانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔</p>
<p>تاہم دوسری جانب مملکت وزیر برائے انفارمیشن و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے برانڈ بینڈ انٹرنیٹ بند کیا، نہ اس کی رفتار سست کی اور نہ ہی ڈیٹا انٹرنیٹ بند کیا گیا۔</p>
<p>جیو نیوز سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.instagram.com/geonewsdottv/reel/DDCc5wnCzt6/"><strong>بات کرتے ہوئے</strong></a> شزا فاطمہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت انٹرنیٹ بند ہی نہیں کر سکتی، ملک کا زیادہ تر کاروبار اب آئی ٹی پر منتقل ہو چکا ہے اور اسی وجہ سے ملک بھر میں سائبر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>شزا فاطمہ کے مطابق لوگوں کو تصاویر اور ویڈیوز بھیجنے اور موصول کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے، تاہم مذکورہ مسئلہ بھی جلد حل کردیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹرنیٹ کو بند نہیں کیا اور یہ کہ ڈیٹا انٹرنیٹ بھی 100 فیصد چل رہا ہے۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر پابندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر پر پابندی کو آزادی اظہار رائے پر قدغن کے طور پر نہ لیا جائے، ایکس کو صرف دو فیصد انٹرنیٹ پاکستانی صارفین استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگاتی تو فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرتی، جنہیں ایکس کے مقابلے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247663</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Dec 2024 19:49:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/02184445067a807.jpg?r=184506" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/02184445067a807.jpg?r=184506"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
