<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 04:29:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 04:29:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی احتجاج کے دوران ڈیوٹی سے انکار کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247844/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران جان بوجھ کر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے کیپٹیل سٹی پولیس کے اہلکاروں کی فہرست تیار کرلی گئی جنہیں انسپکٹر جنرل (آئی جی)  کی ہدایت پر نوکری سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی پر نہ پہنچنے والے پولیس اہلکاروں میں ایک انسپکٹر اور 126 دیگر اہلکار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ اہلکار جان بوجھ کر احتجاج میں ڈیوٹی کرنے سے انکار کرتے ہوئے غیرحاضر رہے،  معاملے پر اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے تمام زونز کو خط لکھ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ  آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر غیرحاضر اہلکاروں کو برطرف کیا جاسکتا ہے، ضابطے کی تمام کارروائی کو پورا کرنے کے بعد اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا جائےگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی آئی احتجاج کے دوران غیرحاضر پولیس ملازمین اور افسران کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران جان بوجھ کر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے کیپٹیل سٹی پولیس کے اہلکاروں کی فہرست تیار کرلی گئی جنہیں انسپکٹر جنرل (آئی جی)  کی ہدایت پر نوکری سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی پر نہ پہنچنے والے پولیس اہلکاروں میں ایک انسپکٹر اور 126 دیگر اہلکار شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ اہلکار جان بوجھ کر احتجاج میں ڈیوٹی کرنے سے انکار کرتے ہوئے غیرحاضر رہے،  معاملے پر اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے تمام زونز کو خط لکھ دیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ  آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر غیرحاضر اہلکاروں کو برطرف کیا جاسکتا ہے، ضابطے کی تمام کارروائی کو پورا کرنے کے بعد اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا جائےگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی آئی احتجاج کے دوران غیرحاضر پولیس ملازمین اور افسران کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247844</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Dec 2024 23:27:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/0423214276bcaec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/0423214276bcaec.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
