<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 04:10:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 04:10:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیر اعظم کو خط، ’غیر قانونی‘ گرفتار شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247845/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وزیرا عظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے وہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 کے احتجاج کے بعد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی طور پر گرفتار شہریوں کو فوری رہا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور  نے وزیر ا عظم شہباز شریف سے یہ مطالبہ ایک خط لکھ کر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خط میں علی امین گنڈاپور نے لکھا کہ  ڈی چوک احتجاج  کے بعد اسلام آباد میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے و الا مزدور طبقہ نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ خیبر پختونخوا کے شہریوں سے ایسا رویہ رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہا کہ  اسلام اباد میں غیر قانونی گرفتار خیبر پختونخوا کے شہریوں کو فوری رہا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس نے پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں تقریباً ایک ہزار 400  مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور  پولیس نے احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمات میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمات میں انسداد دہشت گردی دفعات سمیت دیگر شامل کی گئی ہیں، ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان سمیت متعدد رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمات میں مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمات میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹر اعظم سواتی، تیمور مسعود، شہریار ریاض سمیت دیگر مقامی رہنما اور سیکڑوں کارکن نامزد ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وزیرا عظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے وہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 کے احتجاج کے بعد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی طور پر گرفتار شہریوں کو فوری رہا کیا جائے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور  نے وزیر ا عظم شہباز شریف سے یہ مطالبہ ایک خط لکھ کر کیا ہے۔</p>
<p>اپنے خط میں علی امین گنڈاپور نے لکھا کہ  ڈی چوک احتجاج  کے بعد اسلام آباد میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے و الا مزدور طبقہ نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ خیبر پختونخوا کے شہریوں سے ایسا رویہ رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا مزید کہا کہ  اسلام اباد میں غیر قانونی گرفتار خیبر پختونخوا کے شہریوں کو فوری رہا کیا جائے۔</p>
<p>یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن وفاقی دارالحکومت سے ’فرار‘ ہوگئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247362"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس نے پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں تقریباً ایک ہزار 400  مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور  پولیس نے احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے ہیں۔</p>
<p>مقدمات میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمات میں انسداد دہشت گردی دفعات سمیت دیگر شامل کی گئی ہیں، ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان سمیت متعدد رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>مقدمات میں مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔</p>
<p>مقدمات میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹر اعظم سواتی، تیمور مسعود، شہریار ریاض سمیت دیگر مقامی رہنما اور سیکڑوں کارکن نامزد ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247845</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Dec 2024 00:03:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/0423323461dda40.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/0423323461dda40.jpg"/>
        <media:title>فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/04234026cba84df.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/04234026cba84df.png"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
