<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:29:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:29:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مزید 8 آئی پی پیز کے ٹیرف کا ازسرنو جائزہ لینے کی منظوری، 200 ارب روپے کی بچت متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248242/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی کابینہ نے 8 مزید انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ٹیرف کا از سر نو جائزہ لینے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ  کے اجلاس میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے 8 مزید آئی پی پیز کے ٹیرف ریویو کی منظوری دی، کابینہ نے جے ڈی ڈبلیو، چنیوٹ پاور، حمزہ شوگر، المعز  پاور پلانٹ کے ساتھ ٹیرف کے ازسر نو جائزے کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے انڈسٹری، تھل انڈسٹریز اور چنار انرجی کے ساتھ ٹیرف ریویو کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ نے آئی پی پیز  کے حوالے سے تشکیل کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں ٹیرف ریویو کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران  وفاقی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیصلے سے قومی خزانے کو 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں 5 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں کے خاتمے سے عوام کو سالانہ 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا اور قومی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی، ان 5 آئی پی پیز کے مالکان نے رضاکارانہ طور پر ان معاہدوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان معاہدوں کے ختم ہونے سے عوام کے لیے بجلی کی قیمت کم ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے 5 آئی پی پیز جن کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے گئے تھے ان میں حب کو، روش پاور، لال پیر، صبا اور اٹلس پاور پلانٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں کچھ بنیادی اصولوں کو پورا کیا گیا ہے جس میں سے ایک ان کی پچھلی کپیسٹی، انرجی کی واجبُ الاَدا رقم دی جائیں گی، پلانٹس کو وقت سے قبل ختم کرنے کے لیے کوئی جرمانہ نہیں دیا جائے گا، آئندہ سالوں میں معاہدوں کے تحت جو ریٹرن ملنا تھا وہ بھی نہیں ادا کیا جائے گا، گزشتہ واجبُ الاَدا رقم کی دیر سے ادا  ہونے والی ادائیگیوں کے چارجز بھی ادا نہیں کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1245834"&gt;خبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سامنے آئی تھی کہ حکومت نے بگاس پر مبنی پاور پلانٹس کے ساتھ ٹیرف میں کمی کے لیے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1994 اور 2002 کی توانائی پالیسی کے تحت قائم کردہ 18 آزاد پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں (پی پی ایز) پر نظرثانی کرنے میں 4 سے 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک ماہ قبل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر توانائی اویس خان لغاری نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدوں کو وقت سے پہلے ختم کردیا تھا جس سے سالانہ 70 ارب روپے کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدرات قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کرنے والی کمیٹی میں شامل وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے بتایا تھا کہ 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے سے تقریباً سالانہ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے بتایا تھا  کہ آئی پی پیز کے ساتھ جاری بات چیت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا حصہ ہے جس سے صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گزشتہ ماہ 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں بگاس پر مبنی آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت مکمل کی گئی ہے جس کے تحت بین الاقوامی کوئلہ کی بنیاد پر مبنی قیمتوں کو امریکی ڈالر سے علیحدہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی پیز کا ڈالر کے ساتھ لین دین ختم کرکے اسے پاکستانی روپے کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی کا کہنا تھا کہ بگاس پر مبنی آئی پی پیز میں تبدیلی کی باضابطہ سمری وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی بگاس کی بنیاد پر بننے والی بجلی کو کوئلہ کی قیمت کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا اور وہ بھی ڈالرز میں تو بالکل نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ ممالک میں شوگر ملز کی آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے اب دیگر ممالک میں موجود ٹیرف کے اسٹرکچر کے مطابق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت کی مقامی ایندھن پر انحصار بڑھنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کا دارومدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے ردوبدل پر ہے جو غیر ملکی زرمبادلے کے آؤٹ فلو کے نتیجے میں نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے بتایا کہ 2019 میں توانائی کی بڑھتی ہوئی اور ناقابل خرید قیمتوں نے حکومت کو آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی اور ٹیرف کا جائزہ لینے پر مجبور کیا تھا، ان میں سے کئی آئی پی پیز 27 سے 30 فیصد تک منافع کمارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آئی پی پیز کے عدالت سے حکم امتناع کی وجہ سے ٹیرف کیلکولیشن کے لیے ہیٹ ریٹ اور افیشنسی ٹیسٹ کا تعین نہیں کرپارہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246444"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محسن عزیر نے بتایا کہ آئی پی پیز کی جانب سے پاور پلانٹس کو لگانے میں کی گئی سرمایہ کاری کو سرمایہ لگانے والوں نے 4 سال میں حاصل کرلیا تھا جبکہ کوئلے سے چلنے والے کچھ پلانٹس 2 سال میں اپنی پوری سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان آئی پی پیز کو تقریباً 13 سے 17 فیصد منافع دیا گیا جو کسی بھی دوسرے ملک سے دو گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے کاروبار سے پیچھے ہٹ کر دوسرے ممالک کی طرح توانائی مارکٗیٹوں کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی 1994 اور 2002 سے قائم کی گئی سرکاری ملکیت والے پاور پلانٹس کے علاوہ آئی پی پیز کے ساتھ تیسرے مرحلے میں بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مرحلہ اگلے 3 سے 6 ماہ تک مکمل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محسن عزیر اور کمیٹی کے دیگر ممبران نے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بچت حاصل کرنے پر ٹاسک فورس کو سراہا، کمیٹی ممبران کا خیال ہے اس سے عوام پر بوجھ کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے خیبر پختونخوا میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں آئی پی پی کی لاگت کو شامل کرنے کے حوالے سے اٹھائے گئے ایک مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مشیر خاص ارشد مجید محمند نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمت کا تعین توانائی کے متعدد ذرائع کی بنیاد پر کیا اور ملک بھر میں بجلی کے نرخ یکساں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی کابینہ نے 8 مزید انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ٹیرف کا از سر نو جائزہ لینے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ  کے اجلاس میں کیا گیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے 8 مزید آئی پی پیز کے ٹیرف ریویو کی منظوری دی، کابینہ نے جے ڈی ڈبلیو، چنیوٹ پاور، حمزہ شوگر، المعز  پاور پلانٹ کے ساتھ ٹیرف کے ازسر نو جائزے کی منظوری دی۔</p>
<p>اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے انڈسٹری، تھل انڈسٹریز اور چنار انرجی کے ساتھ ٹیرف ریویو کی منظوری دی۔</p>
<p>کابینہ نے آئی پی پیز  کے حوالے سے تشکیل کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں ٹیرف ریویو کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجلاس کے دوران  وفاقی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیصلے سے قومی خزانے کو 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں 5 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں کے خاتمے سے عوام کو سالانہ 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا اور قومی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی، ان 5 آئی پی پیز کے مالکان نے رضاکارانہ طور پر ان معاہدوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان معاہدوں کے ختم ہونے سے عوام کے لیے بجلی کی قیمت کم ہو گی۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے 5 آئی پی پیز جن کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے گئے تھے ان میں حب کو، روش پاور، لال پیر، صبا اور اٹلس پاور پلانٹس شامل ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں کچھ بنیادی اصولوں کو پورا کیا گیا ہے جس میں سے ایک ان کی پچھلی کپیسٹی، انرجی کی واجبُ الاَدا رقم دی جائیں گی، پلانٹس کو وقت سے قبل ختم کرنے کے لیے کوئی جرمانہ نہیں دیا جائے گا، آئندہ سالوں میں معاہدوں کے تحت جو ریٹرن ملنا تھا وہ بھی نہیں ادا کیا جائے گا، گزشتہ واجبُ الاَدا رقم کی دیر سے ادا  ہونے والی ادائیگیوں کے چارجز بھی ادا نہیں کیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1245834">خبر</a></strong> سامنے آئی تھی کہ حکومت نے بگاس پر مبنی پاور پلانٹس کے ساتھ ٹیرف میں کمی کے لیے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1994 اور 2002 کی توانائی پالیسی کے تحت قائم کردہ 18 آزاد پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں (پی پی ایز) پر نظرثانی کرنے میں 4 سے 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔</p>
<p>اس سے ایک ماہ قبل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر توانائی اویس خان لغاری نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدوں کو وقت سے پہلے ختم کردیا تھا جس سے سالانہ 70 ارب روپے کی بچت ہوگی۔</p>
<p>سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدرات قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کرنے والی کمیٹی میں شامل وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے بتایا تھا کہ 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے سے تقریباً سالانہ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔</p>
<p>محمد علی نے بتایا تھا  کہ آئی پی پیز کے ساتھ جاری بات چیت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا حصہ ہے جس سے صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گزشتہ ماہ 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں بگاس پر مبنی آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت مکمل کی گئی ہے جس کے تحت بین الاقوامی کوئلہ کی بنیاد پر مبنی قیمتوں کو امریکی ڈالر سے علیحدہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>آئی پی پیز کا ڈالر کے ساتھ لین دین ختم کرکے اسے پاکستانی روپے کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔</p>
<p>محمد علی کا کہنا تھا کہ بگاس پر مبنی آئی پی پیز میں تبدیلی کی باضابطہ سمری وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>محمد علی نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی بگاس کی بنیاد پر بننے والی بجلی کو کوئلہ کی قیمت کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا اور وہ بھی ڈالرز میں تو بالکل نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ ممالک میں شوگر ملز کی آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے اب دیگر ممالک میں موجود ٹیرف کے اسٹرکچر کے مطابق ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت کی مقامی ایندھن پر انحصار بڑھنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کا دارومدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے ردوبدل پر ہے جو غیر ملکی زرمبادلے کے آؤٹ فلو کے نتیجے میں نکلتا ہے۔</p>
<p>محمد علی نے بتایا کہ 2019 میں توانائی کی بڑھتی ہوئی اور ناقابل خرید قیمتوں نے حکومت کو آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی اور ٹیرف کا جائزہ لینے پر مجبور کیا تھا، ان میں سے کئی آئی پی پیز 27 سے 30 فیصد تک منافع کمارہی تھیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آئی پی پیز کے عدالت سے حکم امتناع کی وجہ سے ٹیرف کیلکولیشن کے لیے ہیٹ ریٹ اور افیشنسی ٹیسٹ کا تعین نہیں کرپارہی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246444"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سینیٹر محسن عزیر نے بتایا کہ آئی پی پیز کی جانب سے پاور پلانٹس کو لگانے میں کی گئی سرمایہ کاری کو سرمایہ لگانے والوں نے 4 سال میں حاصل کرلیا تھا جبکہ کوئلے سے چلنے والے کچھ پلانٹس 2 سال میں اپنی پوری سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔</p>
<p>محمد علی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان آئی پی پیز کو تقریباً 13 سے 17 فیصد منافع دیا گیا جو کسی بھی دوسرے ملک سے دو گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے کاروبار سے پیچھے ہٹ کر دوسرے ممالک کی طرح توانائی مارکٗیٹوں کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی 1994 اور 2002 سے قائم کی گئی سرکاری ملکیت والے پاور پلانٹس کے علاوہ آئی پی پیز کے ساتھ تیسرے مرحلے میں بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مرحلہ اگلے 3 سے 6 ماہ تک مکمل ہوجائے گا۔</p>
<p>سینیٹر محسن عزیر اور کمیٹی کے دیگر ممبران نے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بچت حاصل کرنے پر ٹاسک فورس کو سراہا، کمیٹی ممبران کا خیال ہے اس سے عوام پر بوجھ کم ہوگا۔</p>
<p>کمیٹی نے سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے خیبر پختونخوا میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں آئی پی پی کی لاگت کو شامل کرنے کے حوالے سے اٹھائے گئے ایک مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مشیر خاص ارشد مجید محمند نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمت کا تعین توانائی کے متعدد ذرائع کی بنیاد پر کیا اور ملک بھر میں بجلی کے نرخ یکساں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248242</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Dec 2024 18:07:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/101648311998322.jpg?r=164840" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/101648311998322.jpg?r=164840"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
