<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 01:00:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 01:00:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قوانین منسوخ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248306/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قوانین منسوخ کردیے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردی گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قوانین منسوخ کردیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی جانب سے قوانین منسوخ کیے جانے کے بعد اختیارات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کو منتقل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نگران حکومت نے دسمبر 2023 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اینڈ ایجنسی قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232372"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232372"&gt;3 مئی 2024&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو وفاقی حکومت نے ایف آئی اے سے سائبر کرائم کی تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا تھا، اور سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نام سے الگ ادارہ قائم کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیش ایجنسی کے سربراہ کے لیے ایسا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرے گی جو کم سے کم 21 گریڈ کا افسر یا 63 برس سے کم عمر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی کو صوبے کے آئی جی کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ ان کے ماتحت ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1244761"&gt;وفاقی کابینہ نے 23 اکتوبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی رولز (این سی سی آئی اے) کی منظوری دی، جس کے تحت سوشل میڈیا پرپروپیگنڈا، ہراسانی اور افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قوانین منسوخ کردیے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردی گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قوانین منسوخ کردیے گئے ہیں۔</p>
<p>وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی جانب سے قوانین منسوخ کیے جانے کے بعد اختیارات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کو منتقل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ نگران حکومت نے دسمبر 2023 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اینڈ ایجنسی قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232372"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1232372">3 مئی 2024</a></strong> کو وفاقی حکومت نے ایف آئی اے سے سائبر کرائم کی تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا تھا، اور سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نام سے الگ ادارہ قائم کردیا گیا تھا۔</p>
<p>بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیش ایجنسی کے سربراہ کے لیے ایسا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرے گی جو کم سے کم 21 گریڈ کا افسر یا 63 برس سے کم عمر ہو۔</p>
<p>ڈی جی کو صوبے کے آئی جی کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ ان کے ماتحت ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کام کریں گے۔</p>
<p>بعد ازاں، <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1244761">وفاقی کابینہ نے 23 اکتوبر</a></strong> کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی رولز (این سی سی آئی اے) کی منظوری دی، جس کے تحت سوشل میڈیا پرپروپیگنڈا، ہراسانی اور افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248306</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Dec 2024 14:28:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/11123925a51b493.jpg?r=124058" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/11123925a51b493.jpg?r=124058"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
