<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 18:45:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 18:45:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی نے درخواست دیے بغیر ڈی چوک پر احتجاج کیا، سیکریٹری داخلہ کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248320/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی سیکریٹری داخلہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف توہین عدالت کیس میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ تحریک انصاف نے درخواست دیے بغیر ڈی چوک پر احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے احتجاج پر تاجروں کی توہین عدالت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم علی آغا نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف توہین عدالت کیس میں جواب جمع کرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایت کے مطابق ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں وزیر داخلہ، سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد کو شامل کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے بارہا رابطہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ احتجاج کے لیے نئے قانون کے تحت درخواست دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں کہا گیا ہے کہ ان رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی، پی ٹی آئی کو مخصوص جگہ کے حوالے سے کہا گیا، پھر بھی انہوں نے ڈی چوک پر احتجاج جاری رکھا، سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ میں بطور سول سرونٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، انتظامیہ نے شہریوں کی مشکلات کم سے کم کرنے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوران سماعت ڈائریکٹر محکمہ قانون، ڈی ایس پی لیگل اسٹیٹ کونسل اور دیگر پیش ہوئے، چیف کمشنر آفس اور آئی جی اسلام آباد آفس کی جانب سے بھی رپورٹ جمع کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم اس احتجاج کے لیے وفاقی حکومت یا اسلام آباد کی انتظامیہ سے اجازت حاصل نہیں کی تھی۔ تاجروں نے اس حوالے سے عدالت سے رجوع کیا تھا، اس پر عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کرکے انہیں بتائیں کہ اجازت کے بغیر اسلام آباد میں احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکام کے باوجود پی ٹی آئی نے ڈی چوک تک احتجاجی مارچ کیا، اس پر تاجروں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو سماعت کے دوران ایک موقع پر سیکریٹری داخلہ نے تفصیلی رپورٹس جمع کروانے کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ رپورٹس میں ایسا کیا ہے جو آپ وقت مانگ رہے ہیں؟ ہمارا بڑا سادہ سا حکم تھا کہ آپ امن و امان کو بحال رکھیں، مظاہرین اور شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ریاستی وکیل کو رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی سیکریٹری داخلہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف توہین عدالت کیس میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ تحریک انصاف نے درخواست دیے بغیر ڈی چوک پر احتجاج کیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے احتجاج پر تاجروں کی توہین عدالت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔</p>
<p>وفاقی سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم علی آغا نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف توہین عدالت کیس میں جواب جمع کرا دیا۔</p>
<p>جواب میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایت کے مطابق ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں وزیر داخلہ، سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد کو شامل کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے بارہا رابطہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ احتجاج کے لیے نئے قانون کے تحت درخواست دیں۔</p>
<p>جواب میں کہا گیا ہے کہ ان رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی، پی ٹی آئی کو مخصوص جگہ کے حوالے سے کہا گیا، پھر بھی انہوں نے ڈی چوک پر احتجاج جاری رکھا، سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ میں بطور سول سرونٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، انتظامیہ نے شہریوں کی مشکلات کم سے کم کرنے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات کیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوران سماعت ڈائریکٹر محکمہ قانون، ڈی ایس پی لیگل اسٹیٹ کونسل اور دیگر پیش ہوئے، چیف کمشنر آفس اور آئی جی اسلام آباد آفس کی جانب سے بھی رپورٹ جمع کرائی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم اس احتجاج کے لیے وفاقی حکومت یا اسلام آباد کی انتظامیہ سے اجازت حاصل نہیں کی تھی۔ تاجروں نے اس حوالے سے عدالت سے رجوع کیا تھا، اس پر عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کرکے انہیں بتائیں کہ اجازت کے بغیر اسلام آباد میں احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکام کے باوجود پی ٹی آئی نے ڈی چوک تک احتجاجی مارچ کیا، اس پر تاجروں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو سماعت کے دوران ایک موقع پر سیکریٹری داخلہ نے تفصیلی رپورٹس جمع کروانے کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ رپورٹس میں ایسا کیا ہے جو آپ وقت مانگ رہے ہیں؟ ہمارا بڑا سادہ سا حکم تھا کہ آپ امن و امان کو بحال رکھیں، مظاہرین اور شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔</p>
<p>عدالت نے ریاستی وکیل کو رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248320</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Dec 2024 14:44:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/11140358874222a.jpg?r=144414" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/11140358874222a.jpg?r=144414"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اسلام آباد ہائیکورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
