<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:40:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:40:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ کا شام میں 12سال بعد اپنا سفارتخانہ کھولنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248575/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ نے شام میں 12سال بعد اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب میڈیا نے ترک وزیرخارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نئے ناظم الامور برہان کھوراوعلو  شام کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘  کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trt.net.tr/urdu/trkhyh/2024/12/14/dmshq-myn-trkh-sfrt-khnh-aj-sy-pny-srgrmyn-shrw-khr-rh-hy-2220452"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق موریطانیہ میں ترکیہ کے سفیر برہان کھوراوعلو کو دمشق سفارتخانے کا  عبوری چارج ڈی افیئرز کے طور پر تعینات کرنے کی یاد دہانی کراتے  ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ برہان کھوراوعلو اور ان کی ٹیم دمشق چلی گئی ہے اور سفارت خانہ فعال طور پر کام شروع کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کے دارالحکومت دمشق  میں سفارتی دفاتر کی اکثریت کے موجود ہونے والے راودا میدا کے قریب واقع   ترک سفارت خانہ کچھ عرصے تک خدمات انجام دیتا رہا جب حکومت نے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا سہارا لیا، لیکن 26 مارچ 2012 کو  اس نے اپنی  سرگرمیوں کو ختم کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم استنبول میں شام کے قونصلیٹ جنرل نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، عرب میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ترکیہ نے بشار الاسد حکومت کے خلاف مسلح اپوزیشن گروہوں سے رابطے رکھے تھے، ترکیہ نے شام میں مسلح اپوزیشن کی مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 8 دسمبر کو شام کے صدر بشار الاسد 24 سالہ اقتدار کے خاتمے پر ملک سے فرار ہوگئے تھے، باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر دمشق کی فتح کا اعلان نشر ہوتے ہی ہزاروں افراد نے دارالحکومت کے مرکز میں واقع امیہ چوک میں آزادی کا جشن منایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باغیوں کی جانب سے اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’ظالم بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا ہے، دمشق کی جیل سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام جنگجو اور شہری ریاست شام کی املاک کا تحفظ اور دیکھ بھال کریں، شام زندہ باد۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ نے شام میں 12سال بعد اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کر دیا۔</p>
<p>عرب میڈیا نے ترک وزیرخارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نئے ناظم الامور برہان کھوراوعلو  شام کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ترکیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘  کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.trt.net.tr/urdu/trkhyh/2024/12/14/dmshq-myn-trkh-sfrt-khnh-aj-sy-pny-srgrmyn-shrw-khr-rh-hy-2220452"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق موریطانیہ میں ترکیہ کے سفیر برہان کھوراوعلو کو دمشق سفارتخانے کا  عبوری چارج ڈی افیئرز کے طور پر تعینات کرنے کی یاد دہانی کراتے  ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ برہان کھوراوعلو اور ان کی ٹیم دمشق چلی گئی ہے اور سفارت خانہ فعال طور پر کام شروع کر رہا ہے۔</p>
<p>شام کے دارالحکومت دمشق  میں سفارتی دفاتر کی اکثریت کے موجود ہونے والے راودا میدا کے قریب واقع   ترک سفارت خانہ کچھ عرصے تک خدمات انجام دیتا رہا جب حکومت نے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا سہارا لیا، لیکن 26 مارچ 2012 کو  اس نے اپنی  سرگرمیوں کو ختم کر دیا تھا۔</p>
<p>تاہم استنبول میں شام کے قونصلیٹ جنرل نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ادھر، عرب میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ترکیہ نے بشار الاسد حکومت کے خلاف مسلح اپوزیشن گروہوں سے رابطے رکھے تھے، ترکیہ نے شام میں مسلح اپوزیشن کی مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 8 دسمبر کو شام کے صدر بشار الاسد 24 سالہ اقتدار کے خاتمے پر ملک سے فرار ہوگئے تھے، باغیوں کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر دمشق کی فتح کا اعلان نشر ہوتے ہی ہزاروں افراد نے دارالحکومت کے مرکز میں واقع امیہ چوک میں آزادی کا جشن منایا تھا۔</p>
<p>باغیوں کی جانب سے اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’ظالم بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا ہے، دمشق کی جیل سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام جنگجو اور شہری ریاست شام کی املاک کا تحفظ اور دیکھ بھال کریں، شام زندہ باد۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248575</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Dec 2024 23:10:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/14230001b7d1a71.png?r=230012" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/14230001b7d1a71.png?r=230012"/>
        <media:title>— فوٹو: ٹی آر ٹی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
