<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 23:43:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 23:43:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں حسینہ واجد دور کا ’پولیس کا خوفناک یونٹ‘ بند کرنے کی سفارش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248670/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں ہونے والی زیادتیوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے سفارش کی ہے کہ پولیس کے ’خوفناک مسلح یونٹ‘ ریپڈ ایکشن بٹالین کو تحلیل کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 77 سالہ حسینہ واجد 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک بھارت فرار ہو گئی تھیں، جب ڈھاکہ میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے دوران وزیر اعظم کے محل پر دھاوا بول دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد کی حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، ان میں سیکڑوں سیاسی مخالفین کا ماورائے عدالت قتل اور سیکڑوں کو غیر قانونی طور پر اغوا کرکے غائب کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگراں حکومت کی جانب سے جبری گمشدگیوں سے متعلق قائم کردہ انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے ابتدائی شواہد ملے ہیں کہ حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے، جو مبینہ طور پر ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کی جانب سے کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکومت کے دوران انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے جواب میں امریکا نے 2021 میں اپنے 7 سینئر افسران کے ساتھ آر اے بی نیم فوجی پولیس فورس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے ایک رکن نور خان لٹن نے کہا کہ آر اے بی نے کبھی بھی قانون کی پاسداری نہیں کی اور شاذ و نادر ہی اس کو مظالم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا گیا، ان مظالم میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اغوا جیسے جرائم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں ہونے والی زیادتیوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے سفارش کی ہے کہ پولیس کے ’خوفناک مسلح یونٹ‘ ریپڈ ایکشن بٹالین کو تحلیل کر دیا جائے۔</p>
<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 77 سالہ حسینہ واجد 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک بھارت فرار ہو گئی تھیں، جب ڈھاکہ میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے دوران وزیر اعظم کے محل پر دھاوا بول دیا گیا تھا۔</p>
<p>حسینہ واجد کی حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، ان میں سیکڑوں سیاسی مخالفین کا ماورائے عدالت قتل اور سیکڑوں کو غیر قانونی طور پر اغوا کرکے غائب کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>نگراں حکومت کی جانب سے جبری گمشدگیوں سے متعلق قائم کردہ انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے ابتدائی شواہد ملے ہیں کہ حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے، جو مبینہ طور پر ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کی جانب سے کی گئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکومت کے دوران انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے جواب میں امریکا نے 2021 میں اپنے 7 سینئر افسران کے ساتھ آر اے بی نیم فوجی پولیس فورس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔</p>
<p>کمیشن کے ایک رکن نور خان لٹن نے کہا کہ آر اے بی نے کبھی بھی قانون کی پاسداری نہیں کی اور شاذ و نادر ہی اس کو مظالم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا گیا، ان مظالم میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اغوا جیسے جرائم شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248670</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Dec 2024 13:28:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/161325142b4e12a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/161325142b4e12a.jpg"/>
        <media:title>۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل فوٹو: ریپڈ ایکشن بٹالین (رائٹرز)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
