<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 04:11:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 04:11:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈی چوک احتجاج کے بعد گرفتار 61 ملزمان مقدمات سے ڈسچارج، دوبارہ نہ پکڑنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248690/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ڈی چوک میں احتجاج کے بعد گرفتار کیے گئے 61 ملزمان کو کیس سے ڈسچارج کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے بعد گرفتار کیے گئے 188 ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان کے وکیل انصر کیانی نے موقف اختیار کیا کہ ہفتہ کے روز عدالت نے ملزمان کو ڈسچارج کیا تھا لیکن پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا ہے، اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ ڈسچارج کیے گئے ملزمان کی ہتکھڑی کھولیں اور انہیں دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248567"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ ماہ 24 نومبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا تھا، اس دوران ڈی چوک جانے پر مظاہرین اور سکیورٹی پر ماور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی، جس کے بعد &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1247216"&gt;ڈی چوک کو مظاہرین سے خالی&lt;/a&gt; کروالیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے کارکنوں کا ’قتل عام‘ کیا گیا، کئی کارکن گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی نے 12 کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن کی پولیس کے افسران نے بتایا تھا کہ مظاہرین مسلح تھے، انہوں نے فورسز کے اہلکاروں پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1247371"&gt;سیدھی گولیاں چلائیں&lt;/a&gt;، اہلکاروں کے پاس اسلحہ نہیں تھا، سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے، اس کے بعد پولیس نے کئی مقدمات درج کرکے متعدد شرپسندوں کو گرفتار کرلیا تھا، جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ڈی چوک میں احتجاج کے بعد گرفتار کیے گئے 61 ملزمان کو کیس سے ڈسچارج کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے بعد گرفتار کیے گئے 188 ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا۔</p>
<p>ملزمان کے وکیل انصر کیانی نے موقف اختیار کیا کہ ہفتہ کے روز عدالت نے ملزمان کو ڈسچارج کیا تھا لیکن پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا ہے، اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ ڈسچارج کیے گئے ملزمان کی ہتکھڑی کھولیں اور انہیں دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248567"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ ماہ 24 نومبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا تھا، اس دوران ڈی چوک جانے پر مظاہرین اور سکیورٹی پر ماور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی، جس کے بعد <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1247216">ڈی چوک کو مظاہرین سے خالی</a> کروالیا گیا تھا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے کارکنوں کا ’قتل عام‘ کیا گیا، کئی کارکن گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی نے 12 کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن کی پولیس کے افسران نے بتایا تھا کہ مظاہرین مسلح تھے، انہوں نے فورسز کے اہلکاروں پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1247371">سیدھی گولیاں چلائیں</a>، اہلکاروں کے پاس اسلحہ نہیں تھا، سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے، اس کے بعد پولیس نے کئی مقدمات درج کرکے متعدد شرپسندوں کو گرفتار کرلیا تھا، جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248690</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Dec 2024 17:09:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/16170451b61ccba.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/16170451b61ccba.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
