<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Peshawar</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 22:20:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 22:20:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دو ماہ میں کچھ ثابت نہ ہو تو بندے پر پستول یا کوئی اور چیز ڈال دیتے ہیں، پشاور ہائی کورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248706/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  اعجاز انور  نے کہا ہے کہ یہ پہلے بندے کو اٹھاتے ہیں، دو تین مہینے اپنے پاس رکھتے ہیں اور جب کچھ نہیں نکلتا تو پھر ان کے خلاف پستول یا کوئی اور چیز ڈال دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پی ایچ ڈی طالب علم اسد علی خان کی گمشدگی کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور  نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل بادشاہ ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ یکم اکتوبر سے پی ایچ ڈی طالب علم کو اٹھایا ہے، ان کے ایک بھائی وکیل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی ٹی ڈی والے پہلے پستول مانگ رہے تھے اب کہتے ہیں کہ ہینڈ گرنیڈ مانگ رہے ہیں، 12 دن بعد رابطہ کیا کہ پستول دے دیں ہم نے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت چیف جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم کو اٹھایا جانا حکومت کی بے ہسی ہے، یہ پہلے بندے کو اٹھاتے ہیں دو تین مہینے اپنے پاس رکھتے ہیں اور جب کچھ نہیں نکلتا تو پھر ان کے خلاف پستول یا کوئی اور چیز ڈال دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ہم کہتے ہیں کہ گرینیڈ ڈال دیں لیکن ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل  نے عدالت کو بتایا کہ یہ لوگ جب آجاتے ہیں تو پھر کوئی عدالت میں بیان نہیں دیتا کہ کس نے اٹھایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو بلالیں وہ خود بتائے گیں کہ ملزم کہاں پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پولیس بھی مجبور ہوتی ہے، یہ نہیں بتاتے، یہاں ایک کیس میں  کیمرے میں نظر آرہا تھا کہ بندے کو اٹھایا ہے لیکن اس کو بھی پولیس پھر نہیں مان رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  اعجاز انور  نے کہا ہے کہ یہ پہلے بندے کو اٹھاتے ہیں، دو تین مہینے اپنے پاس رکھتے ہیں اور جب کچھ نہیں نکلتا تو پھر ان کے خلاف پستول یا کوئی اور چیز ڈال دیتے ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پی ایچ ڈی طالب علم اسد علی خان کی گمشدگی کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور  نے کی۔</p>
<p>دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل بادشاہ ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ یکم اکتوبر سے پی ایچ ڈی طالب علم کو اٹھایا ہے، ان کے ایک بھائی وکیل ہیں۔</p>
<p>وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی ٹی ڈی والے پہلے پستول مانگ رہے تھے اب کہتے ہیں کہ ہینڈ گرنیڈ مانگ رہے ہیں، 12 دن بعد رابطہ کیا کہ پستول دے دیں ہم نے دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوران سماعت چیف جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم کو اٹھایا جانا حکومت کی بے ہسی ہے، یہ پہلے بندے کو اٹھاتے ہیں دو تین مہینے اپنے پاس رکھتے ہیں اور جب کچھ نہیں نکلتا تو پھر ان کے خلاف پستول یا کوئی اور چیز ڈال دیتے ہیں۔</p>
<p>وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ہم کہتے ہیں کہ گرینیڈ ڈال دیں لیکن ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔</p>
<p>سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل  نے عدالت کو بتایا کہ یہ لوگ جب آجاتے ہیں تو پھر کوئی عدالت میں بیان نہیں دیتا کہ کس نے اٹھایا تھا۔</p>
<p>وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو بلالیں وہ خود بتائے گیں کہ ملزم کہاں پر ہے۔</p>
<p>جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پولیس بھی مجبور ہوتی ہے، یہ نہیں بتاتے، یہاں ایک کیس میں  کیمرے میں نظر آرہا تھا کہ بندے کو اٹھایا ہے لیکن اس کو بھی پولیس پھر نہیں مان رہی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں عدالت نے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248706</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Dec 2024 20:28:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/16194822611c357.png?r=200154" type="image/png" medium="image" height="481" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/16194822611c357.png?r=200154"/>
        <media:title>— فائل فوٹو بشکریہ پشاور ہائی کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
