<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:04:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:04:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام سے فرار ہونے کے بعد معزول صدر بشار الاسد کا پہلا بیان سامنے آگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248715/</link>
      <description>&lt;p&gt;شام چھوڑنے کے بعد بشار الاسد سے منسوب پہلا  بیان سامنے آگیا جس میں معزول شامی صدر نے اپنی حکمرانی کا دفاع کیا اور رواں ماہ کے شروع میں دمشق پر حزب اختلاف کے مسلح جنگجوؤں کے قریب ہونے کے بعد اپنی روانگی کی پہے سے منصوبہ بندی کرنے کے دعوے کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2024/12/16/bashar-al-assad-releases-first-statement-since-he-fled-syria"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق   ایک بیان  جس کے بارے میں کہا جا ہے کہ اسے خود بشارالاسد نے لکھا، جو شامی ایوان صدر کے ٹیلی گرام چینل پر جاری کیا گیا اس میں بتایا گیا کہ سابق صدر شام سے کیسے اور کیوں فرار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پہلی بات شام سے میری روانگی کا نہ تو پہلے سے کوئی منصوبہ تھا،  نہ ہی یہ فیصلہ لڑائی کے آخری گھنٹوں میں کیا گیا جیسا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا اس دعوے کے برعکس میں دمشق میں ہی رہا اور  اتوار 8 دسمبر 2024 کی صبح تک اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ جیسے ہی باغی جنگجو جنہیں بشاالاسد نے دہشت گرد قوتیں قرار دیا، دارالحکومت میں داخل ہوئے، وہ جنگی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ساحلی شہر لطاکیہ میں واقع روسی اڈے پر چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق لیکن  یہ اڈہ مسلح مخالف جنگجوؤں کے ڈرون حملوں کی زد میں آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کہا گیا کہ قابل قبول ذرائع نہ ہونے کے بعد فوجی اڈہ چھوڑنے کے لیے  ماسکو نے درخواست کی کہ بیس کمان خالی کرنے کا بندوبست کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے, روس کی جانب سے اپنے خاندان کے ساتھ پناہ ملنے کے بعد سے بشارالاسد نے میڈیا کے سامنے نہیں آٗنہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 8 دسمبر کو شام کے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے قبضے کے نتیجے میں معزول صدر بشارالاسد کے طویل مدتی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا اور وہ روس فرار ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شام چھوڑنے کے بعد بشار الاسد سے منسوب پہلا  بیان سامنے آگیا جس میں معزول شامی صدر نے اپنی حکمرانی کا دفاع کیا اور رواں ماہ کے شروع میں دمشق پر حزب اختلاف کے مسلح جنگجوؤں کے قریب ہونے کے بعد اپنی روانگی کی پہے سے منصوبہ بندی کرنے کے دعوے کو مسترد کردیا۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2024/12/16/bashar-al-assad-releases-first-statement-since-he-fled-syria">رپورٹ</a></strong> کے مطابق   ایک بیان  جس کے بارے میں کہا جا ہے کہ اسے خود بشارالاسد نے لکھا، جو شامی ایوان صدر کے ٹیلی گرام چینل پر جاری کیا گیا اس میں بتایا گیا کہ سابق صدر شام سے کیسے اور کیوں فرار ہوئے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پہلی بات شام سے میری روانگی کا نہ تو پہلے سے کوئی منصوبہ تھا،  نہ ہی یہ فیصلہ لڑائی کے آخری گھنٹوں میں کیا گیا جیسا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا اس دعوے کے برعکس میں دمشق میں ہی رہا اور  اتوار 8 دسمبر 2024 کی صبح تک اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ جیسے ہی باغی جنگجو جنہیں بشاالاسد نے دہشت گرد قوتیں قرار دیا، دارالحکومت میں داخل ہوئے، وہ جنگی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ساحلی شہر لطاکیہ میں واقع روسی اڈے پر چلے گئے۔</p>
<p>بیان کے مطابق لیکن  یہ اڈہ مسلح مخالف جنگجوؤں کے ڈرون حملوں کی زد میں آگیا۔</p>
<p>اس میں کہا گیا کہ قابل قبول ذرائع نہ ہونے کے بعد فوجی اڈہ چھوڑنے کے لیے  ماسکو نے درخواست کی کہ بیس کمان خالی کرنے کا بندوبست کیا جائے۔</p>
<p>بیان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے, روس کی جانب سے اپنے خاندان کے ساتھ پناہ ملنے کے بعد سے بشارالاسد نے میڈیا کے سامنے نہیں آٗنہیں کی۔</p>
<p>یاد رہے کہ 8 دسمبر کو شام کے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے قبضے کے نتیجے میں معزول صدر بشارالاسد کے طویل مدتی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا اور وہ روس فرار ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248715</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Dec 2024 22:54:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/16224436bdd541c.jpg?r=224604" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/16224436bdd541c.jpg?r=224604"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
