<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 00:50:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 00:50:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موجودہ حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کردیا، فواد حسن فواد کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248937/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے حکومت پر پی آئی اے نجکاری کا عمل سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا تمام کام مکمل کرلیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت نے پی آئی اے نجکاری کا عمل سبوتاژ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق نگراں وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے لاہور میں پلڈاٹ کے سیمنار سے خطاب میں کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کا تمام کام مکمل کرلیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت نے پی آئی اے نجکاری کا عمل سبوتاژ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نجکاری کے لیے واضح مقصد اور بیانیہ ہونا چاہیے، دنیا مین کوئی ایک ایسا ملک بتائیں جہاں نجکاری کمیٹی کا سربراہ وزیر خارجہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم بڑی حکومت پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں ایسی حکومت چاہیے جو چھوٹی حکومت کرنے پر یقین رکھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فواد حسن فواد سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری ہیں، جنہیں نیب نے 4 ارب 56 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کا الزام میں گرفتار بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم احتساب عدالت لاہور نے  فواد حسن فواد، ان کی اہلیہ اور بھائی اور دیگر اہلخانہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس سے بری کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد حسن فواد اور ان کے اہل خانہ نے نیب ریفرنس سے بریت کے لیے لاہور کی احتساب عدالت میں دسمبر 2022 میں درخواستیں دائر کی تھیں اور احتساب عدالت کی جج نے 2 فروری 2023 کو فواد حسن فواد کی بریت کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب نے فواد حسن فواد کے خلاف اس کے علاوہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیس بھی بنایا تھا اور انہیں جولائی 2018 میں گرفتار کرلیا تھا، بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد نے حکومت پر پی آئی اے نجکاری کا عمل سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا تمام کام مکمل کرلیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت نے پی آئی اے نجکاری کا عمل سبوتاژ کردیا۔</p>
<p>سابق نگراں وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے لاہور میں پلڈاٹ کے سیمنار سے خطاب میں کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کا تمام کام مکمل کرلیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت نے پی آئی اے نجکاری کا عمل سبوتاژ کردیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نجکاری کے لیے واضح مقصد اور بیانیہ ہونا چاہیے، دنیا مین کوئی ایک ایسا ملک بتائیں جہاں نجکاری کمیٹی کا سربراہ وزیر خارجہ ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم بڑی حکومت پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں ایسی حکومت چاہیے جو چھوٹی حکومت کرنے پر یقین رکھتی ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1212222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ فواد حسن فواد سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری ہیں، جنہیں نیب نے 4 ارب 56 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کا الزام میں گرفتار بھی کیا تھا۔</p>
<p>تاہم احتساب عدالت لاہور نے  فواد حسن فواد، ان کی اہلیہ اور بھائی اور دیگر اہلخانہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس سے بری کردیا تھا۔</p>
<p>فواد حسن فواد اور ان کے اہل خانہ نے نیب ریفرنس سے بریت کے لیے لاہور کی احتساب عدالت میں دسمبر 2022 میں درخواستیں دائر کی تھیں اور احتساب عدالت کی جج نے 2 فروری 2023 کو فواد حسن فواد کی بریت کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنا دیا تھا۔</p>
<p>نیب نے فواد حسن فواد کے خلاف اس کے علاوہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیس بھی بنایا تھا اور انہیں جولائی 2018 میں گرفتار کرلیا تھا، بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے فواد حسن فواد کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کردیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248937</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Dec 2024 14:12:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/1914093528f7aa3.jpg?r=141226" type="image/jpeg" medium="image" height="395" width="658">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/1914093528f7aa3.jpg?r=141226"/>
        <media:title>— فوٹو: فواد حسن فواد، فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
