<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:52:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:52:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کی مجوزہ بندش پر امریکی سپریم کورٹ سماعت کرے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1248971/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر امریکا میں مجوزہ بندش کے خلاف امریکی سپریم کورٹ آئندہ ماہ سماعت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/us-supreme-court-consider-tiktok-bid-halt-ban-2024-12-18/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹک ٹاک نے اپنی ممکنہ بندش کے امریکی قانون کےخلاف دو روز قبل سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے اسے سماعت کے لیے مقرر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن طور پر سپریم کورٹ نے ٹک ٹاک کی درخواست پلیٹ فارم کو دی گئی امریکی حکومت کی مہلت سے صرف 9 دن قبل ہی سماعت کے لیے مقرر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی بندش یا اسے کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنے کا قانون بنا رکھا ہے، جس کے تحت پلیٹ فارم 19 جنوری 2025 تک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنے کا پابند ہے، دوسری صورت میں ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ قانون کے تحت صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت میں مزید 90 دن کا اضافہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک نے مذکورہ امریکی قانون کے خلاف ٹرائل کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جہاں ان کی درخواست مسترد ہوگئی تھی اور اپیل کورٹ نے امریکی حکومت کے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل کورٹ سے ریلیف نہ ملنے کے بعد ٹک ٹاک نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جسے عدالت نے سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے 10 جنوری 2025 کو سماعت کرنے کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سپریم کورٹ نے بھی ٹک ٹاک کی درخواست مسترد کردی تو پلیٹ فارم کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا، پھر ٹک ٹاک کو اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنے پڑیں گے، دوسری صورت میں اس پر وہاں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں ٹک ٹاک کے 17 کروڑ صارفین ہیں جب کہ ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت امریکی عدالتوں نے پلیٹ فارم کو ریلیف دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ اب 20 جنوری 2025 کو عہدہ سنبھالیں گے جب کہ ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت ان کے عہدے سنبھالنے سے ایک دن پہلے 19 جنوری کو ختم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت میں تین ماہ کا اضافہ کریں گے یا پھر سپریم کورٹ سماعت کے پہلے ہی روز ایپلی کیشن کو دی گئی مہلت میں اضافے کا حکم دے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر امریکا میں مجوزہ بندش کے خلاف امریکی سپریم کورٹ آئندہ ماہ سماعت کرے گا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/us-supreme-court-consider-tiktok-bid-halt-ban-2024-12-18/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق ٹک ٹاک نے اپنی ممکنہ بندش کے امریکی قانون کےخلاف دو روز قبل سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے اسے سماعت کے لیے مقرر کردیا۔</p>
<p>حیران کن طور پر سپریم کورٹ نے ٹک ٹاک کی درخواست پلیٹ فارم کو دی گئی امریکی حکومت کی مہلت سے صرف 9 دن قبل ہی سماعت کے لیے مقرر کی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی بندش یا اسے کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنے کا قانون بنا رکھا ہے، جس کے تحت پلیٹ فارم 19 جنوری 2025 تک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنے کا پابند ہے، دوسری صورت میں ٹک ٹاک پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>مذکورہ قانون کے تحت صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت میں مزید 90 دن کا اضافہ کرے۔</p>
<p>ٹک ٹاک نے مذکورہ امریکی قانون کے خلاف ٹرائل کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جہاں ان کی درخواست مسترد ہوگئی تھی اور اپیل کورٹ نے امریکی حکومت کے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔</p>
<p>اپیل کورٹ سے ریلیف نہ ملنے کے بعد ٹک ٹاک نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جسے عدالت نے سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے 10 جنوری 2025 کو سماعت کرنے کا اعلان کردیا۔</p>
<p>اگر سپریم کورٹ نے بھی ٹک ٹاک کی درخواست مسترد کردی تو پلیٹ فارم کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا، پھر ٹک ٹاک کو اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنے پڑیں گے، دوسری صورت میں اس پر وہاں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>امریکا میں ٹک ٹاک کے 17 کروڑ صارفین ہیں جب کہ ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت امریکی عدالتوں نے پلیٹ فارم کو ریلیف دیا تھا۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ اب 20 جنوری 2025 کو عہدہ سنبھالیں گے جب کہ ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت ان کے عہدے سنبھالنے سے ایک دن پہلے 19 جنوری کو ختم ہوجائے گی۔</p>
<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت میں تین ماہ کا اضافہ کریں گے یا پھر سپریم کورٹ سماعت کے پہلے ہی روز ایپلی کیشن کو دی گئی مہلت میں اضافے کا حکم دے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1248971</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Dec 2024 21:12:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/19201135f2d8ec0.jpg?r=201209" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/19201135f2d8ec0.jpg?r=201209"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
