<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:51:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 14:51:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کا حمایت یافتہ اخراجات کا بل مسترد، امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249007/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کو ری پبلکنز پارٹی کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت ہافتہ اخراجات سے متعلق پیکیج مسترد کر دیا، جس کے بعد امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائس آف امریکا کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.urduvoa.com/a/trump-backed-spending-deal-fails-in-house-shutdown-approaches-20dec2024/7908095.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود 38 ری پبلکنز نے پیکیج کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ 3 ڈیموکریٹس ارکان کے علاوہ تمام نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ نمائندگان میں حکومتی اخراجات کے پیکیج پر ووٹنگ کے دوران 235 ارکان نے اس کی مخالفت کی، جب کہ 174 نے حمایت میں ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی فنڈنگ کی میعاد جمعہ کی شب ختم ہو رہی ہے، اگر قانون ساز ڈیڈلائن میں توسیع کرنے میں ناکام رہے تو امریکی حکومت جزوی شٹ ڈاؤن پر چلی جائے گی، جس کی وجہ سے حکومتی ادارے معمول کے مطابق کام جاری نہیں رکھ پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شٹ ڈاؤن کے باعث مالیاتی امور سے لے کر نیشنل پارکس میں کوڑا اٹھانے تک سرکاری خدمات متاثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے خبردار کیا ہے کہ کرسمس کی چھٹیوں کے موقع پر مسافروں کو ہوائی اڈوں پر طویل قطاروں میں انتظار بھی کرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن سے جب صحافیوں نے سوال کیا کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم ایک اور حل کے ساتھ آئیں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکی کانگریس کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹک اور ری پبلکن اراکین ایک عبوری بجٹ پیکیج پر کام کر رہے تھے، تاکہ وفاقی اداروں کو اگلے سال 14 مارچ تک کام کرنے کے لیے فنڈز دستیاب رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ اور ان کے حامی امیر ترین شخص ایلون مسک نے عبوری بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ڈیموکریٹس کے لیے ایک ’فضول تحفہ‘ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز بل پر ووٹنگ سے قبل ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں نے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس نے حکومت کو شٹ ڈاؤن کی اجازت دی تو دوسری جماعت غلطی پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شٹ-ڈاؤن-سے-کیا-ہوگا" href="#شٹ-ڈاؤن-سے-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;شٹ ڈاؤن سے کیا ہوگا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں شٹ ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ ملازمت سے معطل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد سرکاری کام رک جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ ’ناگزیر‘ کاموں سے منسلک اہل کاروں کو معطل نہیں کیا جاتا، لیکن شٹ ڈاؤن ختم ہونے تک انہیں ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شٹ ڈاؤن کے دوران ٹیکس جمع کرنے اور ڈاک کے محکمے جیسے ادارے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر وفاقی ادارہ اور محکمہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں پیشگی منصوبہ بندی کرتا ہے، جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ ملازمین کو ادائیگیوں کے بغیر بھی کام جاری رکھنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1981 سے لے کر اب تک 14 بار گورنمنٹ شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے جن میں سے کئی بار محض ایک یا دو روز کے لیے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں طویل ترین شٹ ڈاؤن بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے تنازع کی وجہ سے ہوا تھا، دسمبر 2018 میں شروع ہونے و الا یہ شٹ ڈاؤن 34 دن تک جاری رہنے کے بعد جنوری 2019 میں ختم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1095513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شٹ ڈاؤن کے دوران وفاقی حکومت کے 22 لاکھ ملازمین میں سے 8 لاکھ کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ شٹ ڈاؤن اس صورت میں ہوتا ہے، جب وفاقی حکومت اخراجات کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل نہ کر پائے، اگر کانگریس قرضوں کی بالائی حد میں اضافے کی منظوری نہ دے تو امریکا کا محکمہ خزانہ قرضوں کی ادائیگی نہیں کرپاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس اخراجات کے لیے وفاقی حکومت کے قرضوں کی بالائی حد کا تعین بھی کرتی ہے جسے ہر کچھ عرصے بعد بڑھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت پر شٹ ڈاؤن کے مقابلے میں قرضوں کی بالائی حد بڑھانے کی عدم منظوری زیادہ گہرے اقتصادی اثرات مرتب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کو ری پبلکنز پارٹی کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت ہافتہ اخراجات سے متعلق پیکیج مسترد کر دیا، جس کے بعد امریکا میں شٹ ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>وائس آف امریکا کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.urduvoa.com/a/trump-backed-spending-deal-fails-in-house-shutdown-approaches-20dec2024/7908095.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود 38 ری پبلکنز نے پیکیج کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ 3 ڈیموکریٹس ارکان کے علاوہ تمام نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔</p>
<p>ایوانِ نمائندگان میں حکومتی اخراجات کے پیکیج پر ووٹنگ کے دوران 235 ارکان نے اس کی مخالفت کی، جب کہ 174 نے حمایت میں ووٹ دیا۔</p>
<p>حکومتی فنڈنگ کی میعاد جمعہ کی شب ختم ہو رہی ہے، اگر قانون ساز ڈیڈلائن میں توسیع کرنے میں ناکام رہے تو امریکی حکومت جزوی شٹ ڈاؤن پر چلی جائے گی، جس کی وجہ سے حکومتی ادارے معمول کے مطابق کام جاری نہیں رکھ پائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شٹ ڈاؤن کے باعث مالیاتی امور سے لے کر نیشنل پارکس میں کوڑا اٹھانے تک سرکاری خدمات متاثر ہوں گی۔</p>
<p>امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے خبردار کیا ہے کہ کرسمس کی چھٹیوں کے موقع پر مسافروں کو ہوائی اڈوں پر طویل قطاروں میں انتظار بھی کرنا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن سے جب صحافیوں نے سوال کیا کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم ایک اور حل کے ساتھ آئیں گے‘۔</p>
<p>اس سے قبل امریکی کانگریس کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹک اور ری پبلکن اراکین ایک عبوری بجٹ پیکیج پر کام کر رہے تھے، تاکہ وفاقی اداروں کو اگلے سال 14 مارچ تک کام کرنے کے لیے فنڈز دستیاب رہیں۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ اور ان کے حامی امیر ترین شخص ایلون مسک نے عبوری بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ڈیموکریٹس کے لیے ایک ’فضول تحفہ‘ قرار دیا تھا۔</p>
<p>ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز بل پر ووٹنگ سے قبل ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں نے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس نے حکومت کو شٹ ڈاؤن کی اجازت دی تو دوسری جماعت غلطی پر ہوگی۔</p>
<h1><a id="شٹ-ڈاؤن-سے-کیا-ہوگا" href="#شٹ-ڈاؤن-سے-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>شٹ ڈاؤن سے کیا ہوگا؟</h1>
<p>امریکا میں شٹ ڈاؤن کی صورت میں لاکھوں وفاقی ملازمین بغیر تنخواہ ملازمت سے معطل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد سرکاری کام رک جاتے ہیں۔</p>
<p>البتہ ’ناگزیر‘ کاموں سے منسلک اہل کاروں کو معطل نہیں کیا جاتا، لیکن شٹ ڈاؤن ختم ہونے تک انہیں ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔</p>
<p>شٹ ڈاؤن کے دوران ٹیکس جمع کرنے اور ڈاک کے محکمے جیسے ادارے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔</p>
<p>ہر وفاقی ادارہ اور محکمہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں پیشگی منصوبہ بندی کرتا ہے، جس میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ ملازمین کو ادائیگیوں کے بغیر بھی کام جاری رکھنا ہو گا۔</p>
<p>کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1981 سے لے کر اب تک 14 بار گورنمنٹ شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے جن میں سے کئی بار محض ایک یا دو روز کے لیے ہوئے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں طویل ترین شٹ ڈاؤن بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ہونے والے تنازع کی وجہ سے ہوا تھا، دسمبر 2018 میں شروع ہونے و الا یہ شٹ ڈاؤن 34 دن تک جاری رہنے کے بعد جنوری 2019 میں ختم ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1095513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس شٹ ڈاؤن کے دوران وفاقی حکومت کے 22 لاکھ ملازمین میں سے 8 لاکھ کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ شٹ ڈاؤن اس صورت میں ہوتا ہے، جب وفاقی حکومت اخراجات کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل نہ کر پائے، اگر کانگریس قرضوں کی بالائی حد میں اضافے کی منظوری نہ دے تو امریکا کا محکمہ خزانہ قرضوں کی ادائیگی نہیں کرپاتا۔</p>
<p>کانگریس اخراجات کے لیے وفاقی حکومت کے قرضوں کی بالائی حد کا تعین بھی کرتی ہے جسے ہر کچھ عرصے بعد بڑھانا پڑتا ہے۔</p>
<p>حکومت پر شٹ ڈاؤن کے مقابلے میں قرضوں کی بالائی حد بڑھانے کی عدم منظوری زیادہ گہرے اقتصادی اثرات مرتب کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249007</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Dec 2024 14:34:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/20122922f52be49.jpg?r=133025" type="image/jpeg" medium="image" height="513" width="770">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/20122922f52be49.jpg?r=133025"/>
        <media:title>واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے
— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
