<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:28:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:28:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس 4 ہزار 400 پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249199/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست خریداری کے رجحان کی بدولت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4 ہزار 411 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4 ہزار  411 پوائنٹس یا 3.87 فیصد کے اضافے سے ایک لاکھ 13 ہزار 924 کی سطح پر جاپہنچا، آخری کاروباری روز جمعہ کو انڈیکس ایک لاکھ 9 ہزار 513 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیز سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا کہ گزشتہ ہفتے صحت مند اصلاح کے بعد مارکیٹ میں آج نئی سرمایہ کاری کا تجربہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس اضافے کی بنیادی وجہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران فکسڈ انکم کے منافع میں تیزی سے کمی کو قرار دیا، جس کی وجہ سے ایکویٹیز تیزی سے پرکشش آپشن بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ ویلیو ایشن معقول ہے، لیکن یہ پچھلے سال کی طرح سستی نہیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ مستقبل میں شرح سود میں کمی سست رہے گی، جس سے مارکیٹ کی توجہ آمدنی میں اضافے کی طرف زیادہ ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میکسیکو اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آہستہ آہستہ ری ریٹنگ سے مزید کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے، جس سے ریٹیل شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوگا، جہاں گزشتہ 5 سال میں خوردہ فروشی میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان کو پہلے ضروری ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود اہم ریٹیل دلچسپی کو راغب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج فرم اے کے ڈی سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شرح سود سنگل ڈیجٹ تک آنے کی توقع پر مالی سال 25 میں کے ایس ای-100 کی ترقی کا سفر جاری رہنے کا امکان ہے، گزشتہ 2 سال کے دوران مارکیٹ کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توقع ہے کہ دسمبر 2025 تک کے ایس ای 100 انڈیکس 165,215 تک پہنچ جائے گا، جس میں 55.5 فیصد کا زبردست منافع حاصل ہوگا، بنیادی طور پر کھاد کمپنیوں کے مضبوط منافع، تلاش اور پیداوار اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے نقد بہاؤ میں بہتری اور بینکوں کے ایکویٹی پر اعلیٰ پائیدار منافع (آر او ای) کی وجہ سے مارکیٹ مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست خریداری کے رجحان کی بدولت بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4 ہزار 411 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔</p>
<p>پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4 ہزار  411 پوائنٹس یا 3.87 فیصد کے اضافے سے ایک لاکھ 13 ہزار 924 کی سطح پر جاپہنچا، آخری کاروباری روز جمعہ کو انڈیکس ایک لاکھ 9 ہزار 513 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>چیز سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا کہ گزشتہ ہفتے صحت مند اصلاح کے بعد مارکیٹ میں آج نئی سرمایہ کاری کا تجربہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس اضافے کی بنیادی وجہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران فکسڈ انکم کے منافع میں تیزی سے کمی کو قرار دیا، جس کی وجہ سے ایکویٹیز تیزی سے پرکشش آپشن بن گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ ویلیو ایشن معقول ہے، لیکن یہ پچھلے سال کی طرح سستی نہیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ مستقبل میں شرح سود میں کمی سست رہے گی، جس سے مارکیٹ کی توجہ آمدنی میں اضافے کی طرف زیادہ ہو جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے میکسیکو اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آہستہ آہستہ ری ریٹنگ سے مزید کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے، جس سے ریٹیل شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوگا، جہاں گزشتہ 5 سال میں خوردہ فروشی میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان کو پہلے ضروری ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود اہم ریٹیل دلچسپی کو راغب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p>بروکریج فرم اے کے ڈی سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شرح سود سنگل ڈیجٹ تک آنے کی توقع پر مالی سال 25 میں کے ایس ای-100 کی ترقی کا سفر جاری رہنے کا امکان ہے، گزشتہ 2 سال کے دوران مارکیٹ کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توقع ہے کہ دسمبر 2025 تک کے ایس ای 100 انڈیکس 165,215 تک پہنچ جائے گا، جس میں 55.5 فیصد کا زبردست منافع حاصل ہوگا، بنیادی طور پر کھاد کمپنیوں کے مضبوط منافع، تلاش اور پیداوار اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے نقد بہاؤ میں بہتری اور بینکوں کے ایکویٹی پر اعلیٰ پائیدار منافع (آر او ای) کی وجہ سے مارکیٹ مضبوط ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249199</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Dec 2024 16:29:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/23112208bf9395b.gif?r=112326" type="image/gif" medium="image" height="288" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/23112208bf9395b.gif?r=112326"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
