<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 18:57:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 18:57:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>26 نومبر کو احتجاج کے خلاف 4 مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249431/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی عدالت نے 26 نومبر کو احتجاج کے خلاف درج 4 مقدمات میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے 26 نومبر کے احتجاج پر درج 4 مقدمات کی ضمانت کے لیے بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بشریٰ بی بی ضمانت کے حصول کے لیے وکلا کے ساتھ خود عدالت میں پیش ہوئیں، عدالت نے 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کرلی، بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں ایک اور 3 مقدمات تھانہ رمنا میں درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی آئی کے مظاہرین 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 نومبر کو  وفاقی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی عدالت نے 26 نومبر کو احتجاج کے خلاف درج 4 مقدمات میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے 26 نومبر کے احتجاج پر درج 4 مقدمات کی ضمانت کے لیے بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔</p>
<p>بشریٰ بی بی ضمانت کے حصول کے لیے وکلا کے ساتھ خود عدالت میں پیش ہوئیں، عدالت نے 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کرلی، بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں ایک اور 3 مقدمات تھانہ رمنا میں درج ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پی آئی آئی کے مظاہرین 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>27 نومبر کو  وفاقی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249431</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Dec 2024 12:53:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/26111242c47f304.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/26111242c47f304.jpg"/>
        <media:title>بشریٰ بی بی — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
