<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:36:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 08:36:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ نے نئے اسکولوں کی رجسٹریشن اسکول بس پالیسی سے مشروط کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249509/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے نئے اسکولوں کی رجسٹریشن کو اسکول بس پالیسی سے مشروط کرتے ہوئے 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ طلب کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہدکریم کی عدالت میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے نئے اسکولوں کی رجسٹریشن کو اسکول بسوں کی پالیسی کے ساتھ مشروط کردیا، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ اسکولوں کی رجسٹریشن میں اسکول بسوں کو لازمی قرار دیا جائے، نئے اسکولوں کی رجسٹریشن بند کریں، ہر اسکول کو یہ پالیسی اپنانا ہوگی، 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ جمع کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سیکریٹری اسکولز سے استفسار کیا کہ 50 فیصد بچوں کے لیے بسیں شروع کرنے کے عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ بچوں کی اسکول بسوں کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے، سیکریٹری اسکولز نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246172"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ بسوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق تمام ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکن جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی واسا کو واٹر میٹر کا کام پھر سے شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واسا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے چینی کمپنی کے ساتھ پیسوں کے مسائل تھے، کمپنی یہاں اکاؤنٹ کھلوانا چاہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ کام بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، اس کو جلدی شروع کریں، اگلے ایک ماہ میں پھر سے اسموگ شروع ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے نئے اسکولوں کی رجسٹریشن کو اسکول بس پالیسی سے مشروط کرتے ہوئے 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ طلب کرلی۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہدکریم کی عدالت میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔</p>
<p>عدالت نے نئے اسکولوں کی رجسٹریشن کو اسکول بسوں کی پالیسی کے ساتھ مشروط کردیا، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ اسکولوں کی رجسٹریشن میں اسکول بسوں کو لازمی قرار دیا جائے، نئے اسکولوں کی رجسٹریشن بند کریں، ہر اسکول کو یہ پالیسی اپنانا ہوگی، 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ جمع کروائیں۔</p>
<p>عدالت نے سیکریٹری اسکولز سے استفسار کیا کہ 50 فیصد بچوں کے لیے بسیں شروع کرنے کے عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ بچوں کی اسکول بسوں کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے، سیکریٹری اسکولز نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246172"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ بسوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق تمام ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔</p>
<p>رکن جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی واسا کو واٹر میٹر کا کام پھر سے شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>واسا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے چینی کمپنی کے ساتھ پیسوں کے مسائل تھے، کمپنی یہاں اکاؤنٹ کھلوانا چاہتی تھی۔</p>
<p>جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ کام بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، اس کو جلدی شروع کریں، اگلے ایک ماہ میں پھر سے اسموگ شروع ہو جائے گی۔</p>
<p>بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249509</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Dec 2024 12:13:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/271125030e8c077.png?r=112516" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/271125030e8c077.png?r=112516"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
