<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 19 May 2026 18:24:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 19 May 2026 18:24:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یونان کشتی حادثے میں ایف آئی اے کے 31 افسران و اہلکار ملوث، نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249570/</link>
      <description>&lt;p&gt;یونان کشتی حادثے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے 31 افسران اور اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ایف آئی اے کے 31 افسران و اہلکار یونان کشتی حادثے میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ حرکت میں آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ فیصل آباد ایئرپورٹ کے 19، سیالکوٹ ایئرپورٹ کے 3، لاہور ایئرپورٹ کے 2، اسلام آباد ایئرپورٹ کے 2، جب کہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے 5 افسران کے نام بھی مشتبہ اہلکاروں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ افسران میں انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز اور کانسٹیبل شامل ہیں جو  یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کو بیرون بھجوانے میں ملوث رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے معصوم پاکستانیوں کو جھانسہ دے کر غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک لے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی زیر صدارت یونان میں کشتی الٹنے کے حادثے میں پاکستانیوں کی اموات اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248741"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران شہباز شریف نے 2023 کے کشتی حادثے کے بعد ایسے عناصر کے خلاف کارروائی میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سست روی میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا تھا کہ گزشتہ سال یونان کے اسی علاقے میں ایک دردناک واقعہ ہوا جس میں 262 پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے، انسانی اسمگلنگ پاکستان کے لیے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ہے لہٰذا اس کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ سست روی سے کیے گئے اقدامات کی بدولت اس قسم کے واقعات کا دوبارہ رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یونان کشتی حادثے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے 31 افسران اور اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ایف آئی اے کے 31 افسران و اہلکار یونان کشتی حادثے میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ حرکت میں آگیا ہے۔</p>
<p>ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ فیصل آباد ایئرپورٹ کے 19، سیالکوٹ ایئرپورٹ کے 3، لاہور ایئرپورٹ کے 2، اسلام آباد ایئرپورٹ کے 2، جب کہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے 5 افسران کے نام بھی مشتبہ اہلکاروں میں شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ افسران میں انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز اور کانسٹیبل شامل ہیں جو  یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کو بیرون بھجوانے میں ملوث رہے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے معصوم پاکستانیوں کو جھانسہ دے کر غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک لے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>وزیراعظم کی زیر صدارت یونان میں کشتی الٹنے کے حادثے میں پاکستانیوں کی اموات اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248741"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجلاس کے دوران شہباز شریف نے 2023 کے کشتی حادثے کے بعد ایسے عناصر کے خلاف کارروائی میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سست روی میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا تھا کہ گزشتہ سال یونان کے اسی علاقے میں ایک دردناک واقعہ ہوا جس میں 262 پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے، انسانی اسمگلنگ پاکستان کے لیے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ہے لہٰذا اس کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ سست روی سے کیے گئے اقدامات کی بدولت اس قسم کے واقعات کا دوبارہ رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249570</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Dec 2024 15:55:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/28134340254abdf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/28134340254abdf.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
