<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:00:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:00:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم لیگ (ن) کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں کہ وہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کریں، بلاول بھٹو</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249581/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، ان کے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ وہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے، ہمارے ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مسائل جتنے بھی ہوں، کم مسائل میں بھی محنت کر کے اپنے عوام کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس کے ساتھ اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ چھوٹے صوبے ہیں، چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، وفاق کا رویہ کچھ ایسا ہی رہتا ہے، جہاں تک پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان معاہدہ ہوا، ہم نے حکومت سازی میں اس حد تک ساتھ دیا کہ وزیراعظم کو ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ طے کیا تھا کہ نہ صرف صوبوں کو ان کا حق ملنا چاہیے، مزید کہا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور وفاق کی سطح پر  ترقیاتی منصوبوں پاکستان پیپلزپارٹی کی ان پٹ بھی لے جائے گی اور ان کو فنڈنگ بھی دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ایک وعدہ کیا گیا، اس پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں ہورہا، مگر جس طریقے سے وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے، اور تمام صوبوں کو ان کا حق دینا چاہیے، اس حوالے سے حکومت میں بہتری کی گنجائش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہماری شکایت کو سنجیدہ لیا جائے گا اور معنی خیز ڈائیلاگ کے نتیجے میں ہم جو صوبے کے اعتراضات ہیں، ان کو بھی دور کرسکتے ہیں اور جو سیاسی وعدے کیے گئے ہیں، اس پر بھی عملدرآمد کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249524"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جہاں تک مینڈیٹ کا معاملہ ہے، وہ تو پارلیمانی نظام میں آپ کے سامنے ہے، حکومت کا جو طریقہ کار ہے، چاہے وہ پالیسی بنانا ہو، یا وہ قانون سازی کا عمل ہو، ان کے خیال میں شاید ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے، اور ان کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پیپلزپارٹی کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان میں ان کی پوزیشن ایسی نہیں ہے، جو 90 کی دہائی میں ان کے پاس دو تہائی اکثریت تھی، اس وقت ان کے پاس باقی سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اجتماعی فیصلے کرنے کا مینڈیٹ تو ہے، یکطرفہ فیصلہ کرنا اور بھی ایسا یکطرفہ فیصلہ کرنا، جو متنازع ہو، جو پانی کے بنیادی حق پر ہو، جو 1991 کے ارسا کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں کے اختلافات اس اجلاس میں بھی اٹھائے جائیں، ان کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے آپ کسی منصوبے پر آگے بڑھتے جائیں گے تو اس کے لیے تو بالکل   ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، اسی طریقے سے منصوبے متنازع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مل بیٹھ کر بات چیت کرکے سب کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے بعد اگر کوئی منصوبہ بنایا جائے گا تو وہ کامیاب ہو گا ورنہ ایک زمانے میں کسی نے سوچا تھا کہ وہ کالاباغ ڈیم بنائے گا، آپ مجھے بتائیں کہ وہ ڈیم کہاں ہے؟ وہ بھی یکطرفہ فیصلہ تھا، یہ بھی ایک یکطرفہ فیصلہ ہے، اس زمانے کے یکطرفہ فیصلے کو ہم نے ہی ناکام کروایا، آج کی سیاسی صورتحال میں بھی یکطرفہ فیصلے ہوں گے ان پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کو کسی نہ کسی طریقے سے پینے کے صاف پانی کسی منصوبے کی صورت میں پہنچادوں، میں جانتا ہوں کہ  این ایف سی ایوارڈ کے مطابق جائز حق ایک بار بھی نہیں ملا ہے، اس کا موازنہ کسی بھی بزنس یا اداے سے کریں کہ اگر ان پٹ  پوری طریقے سے نہیں آتا تو پھر آؤٹ پر کسی نہ کسی صورت میں اثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا ریجن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو لیڈ کیا ہے، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) کا دور، پی ڈی ایم کا دور، آج کا جو بھی دور، ان تمام حکومتوں میں اگر ہمیں اپنا صحیح طریقے سے شیئر نہیں مل رہا تھا، تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اب کام نہیں ہوسکتا، ہم نے اپنے طریقے سے دوسرا بندوبست کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر بہتری آرہی ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے، ہم اس کو ویلکم کرتے ہیں، اگر معاشی بہتری آرہی ہے تو ہماری جماعت کو مؤقف ہوگا کہ اس بہتری کو اب عوام کو محسوس ہونا چاہیے، وہ ان پٹ ہم حکومت کو ضرور دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کا اپنا منصوبہ تھا کہ پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانی ہے، اس کے لیے آپ کو آئی سیکٹر اور ٹیک سیکٹر سے 60 ارب ڈالر کی برآمدات چاہئیں تھیں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ان-کی-سیاست-موٹروے-سے-شروع-ہو-کر-میٹرو-پر-ختم-ہوتی-ہے" href="#ان-کی-سیاست-موٹروے-سے-شروع-ہو-کر-میٹرو-پر-ختم-ہوتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ان کی سیاست موٹروے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہوتی ہے‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج زراعت کے بعد کسی ایک شعبے میں پاکستان کی معیشت کو رسپانس دے سکتے ہیں تو یہ آئی ٹی سیکٹر، ڈیجیٹل سیکٹر، ٹیکنالوجی سیکٹر ہے، پاکستان کا ٹیکنالوجی سیکٹر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، انٹرنیٹ کو جو آج کل انفرااسٹرکچر ہے، انہیں سمجھ نہیں آتی، ان کی سیاست موٹروے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249224"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں کمی کے بجائے اسے تیز کرنا تھا، ہم نے اسے محدود کرنے کے بجائے  ان علاقوں میں پہنچانا تھا جہاں ابھی تک انٹرنیٹ نہیں پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے کہا کہ کیسا حکومتی یکطرفہ فیصلہ ہے، وہ بھی ہر روز دوسرا نیا بہانہ، کبھی مانتے ہیں کہ بند کرنے جا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں کیا، کبھی کہتے ہیں کہ تار کٹ جاتا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، اب مجھے بتائیں کہ پاکستان کے انٹرنیٹ کیبل میں  ایسا کیا ہے کہ سمندر کی مچھلیاں صرف پاکستان کی انٹرنیٹ کیبلز کھاتی رہتی ہیں، وہ بھی جب اسلام آباد میں کوئی دھرنا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پانی بھی پیتا ہے، سڑک بھی استعمال کرتا ہے، تو وہ باقی چیزیں بھی بند کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کے عوام سیاسی استحکام چاہتے ہیں،  پاکستان کے عوام سیکیورٹی چاہتے ہیں، اگر وہ پاکستان کے عوام کے سامنے ڈیجیٹل کے حوالے سے کہتے کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ڈس انفارمشین ہوتی ہے، انتہاپسند تنظیمیں اسے استعمال کرکے نفرتیں پھیلاتی ہیں، لوگوں کو جانی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس کے لیے میں بھی تیار ہوتا، میڈیا میں بھی لوگ تیار ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ یکطرفہ کسی سے بات کیے بغیر کسی کا انٹرنیٹ بند کردیں گے، اور وہ بھی اس ملک میں جہاں 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے، تو آپ نے ان 70 فیصد کو خلاف کر دیا، ہم تو نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کمیٹی تشکیل دی تھی کہ ہماری سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس سے قبل حکومت کے ساتھ انگیج کیا جائے اور جو مسائل ہیں، ان کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہم سی ای سی کے سامنے جب وہ رپورٹ دیں تو وہ مثبت رپورٹ ہو اور اس کا کوئی نتیجہ نکلے  تو اس سلسلے میں کل ہماری اجلاس ہوا اور اس میں صدر زرداری سے یہ درخواست کی کہ ہم یوم کشمیر کے فوراً بعد اپنی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے، تو ہم نے وہ فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، ان کے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ وہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کریں۔</p>
<p>لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے، ہمارے ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مسائل جتنے بھی ہوں، کم مسائل میں بھی محنت کر کے اپنے عوام کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس کے ساتھ اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ چھوٹے صوبے ہیں، چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، وفاق کا رویہ کچھ ایسا ہی رہتا ہے، جہاں تک پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان معاہدہ ہوا، ہم نے حکومت سازی میں اس حد تک ساتھ دیا کہ وزیراعظم کو ووٹ دیا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ طے کیا تھا کہ نہ صرف صوبوں کو ان کا حق ملنا چاہیے، مزید کہا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور وفاق کی سطح پر  ترقیاتی منصوبوں پاکستان پیپلزپارٹی کی ان پٹ بھی لے جائے گی اور ان کو فنڈنگ بھی دی جائے گی۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ایک وعدہ کیا گیا، اس پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں ہورہا، مگر جس طریقے سے وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے، اور تمام صوبوں کو ان کا حق دینا چاہیے، اس حوالے سے حکومت میں بہتری کی گنجائش ہے۔</p>
<p>چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہماری شکایت کو سنجیدہ لیا جائے گا اور معنی خیز ڈائیلاگ کے نتیجے میں ہم جو صوبے کے اعتراضات ہیں، ان کو بھی دور کرسکتے ہیں اور جو سیاسی وعدے کیے گئے ہیں، اس پر بھی عملدرآمد کرسکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249524"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ جہاں تک مینڈیٹ کا معاملہ ہے، وہ تو پارلیمانی نظام میں آپ کے سامنے ہے، حکومت کا جو طریقہ کار ہے، چاہے وہ پالیسی بنانا ہو، یا وہ قانون سازی کا عمل ہو، ان کے خیال میں شاید ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے، اور ان کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہے۔</p>
<p>چیئرمین پیپلزپارٹی کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان میں ان کی پوزیشن ایسی نہیں ہے، جو 90 کی دہائی میں ان کے پاس دو تہائی اکثریت تھی، اس وقت ان کے پاس باقی سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اجتماعی فیصلے کرنے کا مینڈیٹ تو ہے، یکطرفہ فیصلہ کرنا اور بھی ایسا یکطرفہ فیصلہ کرنا، جو متنازع ہو، جو پانی کے بنیادی حق پر ہو، جو 1991 کے ارسا کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں کے اختلافات اس اجلاس میں بھی اٹھائے جائیں، ان کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے آپ کسی منصوبے پر آگے بڑھتے جائیں گے تو اس کے لیے تو بالکل   ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے، اسی طریقے سے منصوبے متنازع ہوتے ہیں۔</p>
<p>چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ مل بیٹھ کر بات چیت کرکے سب کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے بعد اگر کوئی منصوبہ بنایا جائے گا تو وہ کامیاب ہو گا ورنہ ایک زمانے میں کسی نے سوچا تھا کہ وہ کالاباغ ڈیم بنائے گا، آپ مجھے بتائیں کہ وہ ڈیم کہاں ہے؟ وہ بھی یکطرفہ فیصلہ تھا، یہ بھی ایک یکطرفہ فیصلہ ہے، اس زمانے کے یکطرفہ فیصلے کو ہم نے ہی ناکام کروایا، آج کی سیاسی صورتحال میں بھی یکطرفہ فیصلے ہوں گے ان پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کو کسی نہ کسی طریقے سے پینے کے صاف پانی کسی منصوبے کی صورت میں پہنچادوں، میں جانتا ہوں کہ  این ایف سی ایوارڈ کے مطابق جائز حق ایک بار بھی نہیں ملا ہے، اس کا موازنہ کسی بھی بزنس یا اداے سے کریں کہ اگر ان پٹ  پوری طریقے سے نہیں آتا تو پھر آؤٹ پر کسی نہ کسی صورت میں اثر ہوگا۔</p>
<p>بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا ریجن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو لیڈ کیا ہے، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) کا دور، پی ڈی ایم کا دور، آج کا جو بھی دور، ان تمام حکومتوں میں اگر ہمیں اپنا صحیح طریقے سے شیئر نہیں مل رہا تھا، تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اب کام نہیں ہوسکتا، ہم نے اپنے طریقے سے دوسرا بندوبست کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر بہتری آرہی ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے، ہم اس کو ویلکم کرتے ہیں، اگر معاشی بہتری آرہی ہے تو ہماری جماعت کو مؤقف ہوگا کہ اس بہتری کو اب عوام کو محسوس ہونا چاہیے، وہ ان پٹ ہم حکومت کو ضرور دیں گے۔</p>
<p>بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کا اپنا منصوبہ تھا کہ پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانی ہے، اس کے لیے آپ کو آئی سیکٹر اور ٹیک سیکٹر سے 60 ارب ڈالر کی برآمدات چاہئیں تھیں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔</p>
<h1><a id="ان-کی-سیاست-موٹروے-سے-شروع-ہو-کر-میٹرو-پر-ختم-ہوتی-ہے" href="#ان-کی-سیاست-موٹروے-سے-شروع-ہو-کر-میٹرو-پر-ختم-ہوتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ان کی سیاست موٹروے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہوتی ہے‘</h1>
<p>انہوں نے کہا کہ آج زراعت کے بعد کسی ایک شعبے میں پاکستان کی معیشت کو رسپانس دے سکتے ہیں تو یہ آئی ٹی سیکٹر، ڈیجیٹل سیکٹر، ٹیکنالوجی سیکٹر ہے، پاکستان کا ٹیکنالوجی سیکٹر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، انٹرنیٹ کو جو آج کل انفرااسٹرکچر ہے، انہیں سمجھ نہیں آتی، ان کی سیاست موٹروے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249224"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں کمی کے بجائے اسے تیز کرنا تھا، ہم نے اسے محدود کرنے کے بجائے  ان علاقوں میں پہنچانا تھا جہاں ابھی تک انٹرنیٹ نہیں پہنچا تھا۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے کہا کہ کیسا حکومتی یکطرفہ فیصلہ ہے، وہ بھی ہر روز دوسرا نیا بہانہ، کبھی مانتے ہیں کہ بند کرنے جا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں کیا، کبھی کہتے ہیں کہ تار کٹ جاتا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، اب مجھے بتائیں کہ پاکستان کے انٹرنیٹ کیبل میں  ایسا کیا ہے کہ سمندر کی مچھلیاں صرف پاکستان کی انٹرنیٹ کیبلز کھاتی رہتی ہیں، وہ بھی جب اسلام آباد میں کوئی دھرنا ہو۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پانی بھی پیتا ہے، سڑک بھی استعمال کرتا ہے، تو وہ باقی چیزیں بھی بند کردیں۔</p>
<p>چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کے عوام سیاسی استحکام چاہتے ہیں،  پاکستان کے عوام سیکیورٹی چاہتے ہیں، اگر وہ پاکستان کے عوام کے سامنے ڈیجیٹل کے حوالے سے کہتے کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ڈس انفارمشین ہوتی ہے، انتہاپسند تنظیمیں اسے استعمال کرکے نفرتیں پھیلاتی ہیں، لوگوں کو جانی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس کے لیے میں بھی تیار ہوتا، میڈیا میں بھی لوگ تیار ہوتے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ یکطرفہ کسی سے بات کیے بغیر کسی کا انٹرنیٹ بند کردیں گے، اور وہ بھی اس ملک میں جہاں 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے، تو آپ نے ان 70 فیصد کو خلاف کر دیا، ہم تو نہیں کریں گے۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کمیٹی تشکیل دی تھی کہ ہماری سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس سے قبل حکومت کے ساتھ انگیج کیا جائے اور جو مسائل ہیں، ان کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہم سی ای سی کے سامنے جب وہ رپورٹ دیں تو وہ مثبت رپورٹ ہو اور اس کا کوئی نتیجہ نکلے  تو اس سلسلے میں کل ہماری اجلاس ہوا اور اس میں صدر زرداری سے یہ درخواست کی کہ ہم یوم کشمیر کے فوراً بعد اپنی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے، تو ہم نے وہ فیصلہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249581</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Dec 2024 18:53:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/28163635e1bbd22.png?r=164447" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/28163635e1bbd22.png?r=164447"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
