<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Lahore</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:21:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:21:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوازشریف، آصف زرداری اور عمران خان کے مل بیٹھنے سے دیرینہ ملکی مسائل کا حل ممکن ہے، رانا ثنا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249595/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور صدر آصف علی زرداری ساتھ مل کر بیٹھیں تو ملک کے 70 سالہ بحران کا خاتمہ 70 دن میں ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سربراہان کے نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیے جائیں اور ان کے ویسے خیالات ہوں، جو نواز شریف کے پچھلے سال وطن واپسی کے دوران تھے تو ملک میں جاری 70 سالہ بحران کا خاتمہ ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نوازشریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کا نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہونا چاہیے، ہم سیاست دانوں کو ساتھ بیٹھنا چاہیے لیکن اس سے پہلے یہ بہت ضروری ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین اور میثاق جمہوریت اہم سیاسی دستاویز ہیں، میثاق جمہوریت میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا اور پھر بات چیت میں پیش رفت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم مذاکرات کو خلوص دل کے ساتھ کامیاب بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر آج پی ٹی آئی اپنے مینڈینٹ کی بات کرتی ہے تو پھر سابقہ دور کی بھی بات ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گزشتہ سال 21 اکتوبر کی تقریر کے حوالے سے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے اور مسائل کا واحد حل صرف مذاکرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ سال سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل جانے کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی میں اضافہ ہوا، کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی کے مظاہروں اور حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ (نومبر) پی ٹی آئی کی ’فائنل کال‘ کے بعد کشیدگی مزید بڑھی تھی، جبکہ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ڈی چوک پر احتجاج کرنے والے درجنوں کارکنان کی موت ہوگئی ہے، تاہم اس دعوے کو حکومت نے مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد عمران خان نے مذاکرات کے لیے 5 اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اس کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تجویز پر پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے 22 دسمبر کو حکومتی کمیٹی تشکیل دی تھی، حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے پہلی باضابطہ ملاقات 23 دسمبر کو ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1249458/"&gt;26 دسمبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو چیئرمین سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) صاحبزادہ حامد رضا نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی جاری مذاکرات کو 31 جنوری تک منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی شامل ہیں جبکہ پیپلزپارٹی سے راجا پرویز اشرف، نویدقمر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، استحکام پاکستان پارٹی سے علیم خان، مسلم لیگ (ق) سے چوہدری سالک اور بلوچستان عوامی پارٹی سے سردار خالد مگسی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور صدر آصف علی زرداری ساتھ مل کر بیٹھیں تو ملک کے 70 سالہ بحران کا خاتمہ 70 دن میں ہو جائے گا۔</p>
<p>صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سربراہان کے نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیے جائیں اور ان کے ویسے خیالات ہوں، جو نواز شریف کے پچھلے سال وطن واپسی کے دوران تھے تو ملک میں جاری 70 سالہ بحران کا خاتمہ ہوجائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نوازشریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کا نام مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہونا چاہیے، ہم سیاست دانوں کو ساتھ بیٹھنا چاہیے لیکن اس سے پہلے یہ بہت ضروری ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کیا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین اور میثاق جمہوریت اہم سیاسی دستاویز ہیں، میثاق جمہوریت میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا اور پھر بات چیت میں پیش رفت ہوئی۔</p>
<p>رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم مذاکرات کو خلوص دل کے ساتھ کامیاب بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر آج پی ٹی آئی اپنے مینڈینٹ کی بات کرتی ہے تو پھر سابقہ دور کی بھی بات ہونی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیراعظم کے مشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گزشتہ سال 21 اکتوبر کی تقریر کے حوالے سے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے بات چیت پر زور دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے اور مسائل کا واحد حل صرف مذاکرات ہیں۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ سال سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل جانے کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی میں اضافہ ہوا، کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی کے مظاہروں اور حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ (نومبر) پی ٹی آئی کی ’فائنل کال‘ کے بعد کشیدگی مزید بڑھی تھی، جبکہ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ڈی چوک پر احتجاج کرنے والے درجنوں کارکنان کی موت ہوگئی ہے، تاہم اس دعوے کو حکومت نے مسترد کردیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد عمران خان نے مذاکرات کے لیے 5 اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا، اس کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تجویز پر پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے 22 دسمبر کو حکومتی کمیٹی تشکیل دی تھی، حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے پہلی باضابطہ ملاقات 23 دسمبر کو ہوئی تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1249458/">26 دسمبر</a></strong> کو چیئرمین سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) صاحبزادہ حامد رضا نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی جاری مذاکرات کو 31 جنوری تک منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی شامل ہیں جبکہ پیپلزپارٹی سے راجا پرویز اشرف، نویدقمر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، استحکام پاکستان پارٹی سے علیم خان، مسلم لیگ (ق) سے چوہدری سالک اور بلوچستان عوامی پارٹی سے سردار خالد مگسی شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249595</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Dec 2024 21:12:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/28202422ccc8dcc.png?r=202810" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/28202422ccc8dcc.png?r=202810"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
