<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 08:12:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 08:12:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا پراپرٹی ٹیکس کم کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249711/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے پراپرٹی کے شعبے میں ٹیکس شرح کم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس کے باعث کاروبار جمود کو شکار ہے اور ٹیکسوں کی بلند شرح سے تعمیراتی شعبے کی شرح نمو 15 فیصد گری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری جمود کے باعث ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس کلیکشن کا شارٹ فال اکتوبر میں 101 ارب روپے ہو گیا تھا، جس کی وجہ درآمدات میں کمی اور مہنگائی کا تیزی سے نیچے آنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245443"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ میں جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ بنیادی طور پر درآمدی مرحلے اور مقامی سیلز ٹیکس کی وصولی میں تنزلی کی وجہ سے محصولات کم اکٹھا ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں ٹیکس وصولی 980 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 879 ارب روپے رہی تھی، یہ 101 ارب روپے کے بڑا فرق کو ظاہر کرتی ہے، تاہم محصولات میں گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 24 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب 711 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 کے پہلے 4 مہینوں میں 34 کھرب 42 ارب روپے کی محصولات اکٹھا کی گئیں تھیں، جو جولائی تا اکتوبر کے لیے 36 کھرب 32 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 190 ارب روپے یا 5.23 فیصد کی کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پہلے 4 مہینوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں محصولات میں 25 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے پراپرٹی کے شعبے میں ٹیکس شرح کم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس کے باعث کاروبار جمود کو شکار ہے اور ٹیکسوں کی بلند شرح سے تعمیراتی شعبے کی شرح نمو 15 فیصد گری ہے۔</p>
<p>حکومتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری جمود کے باعث ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں کمی ہوئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس کلیکشن کا شارٹ فال اکتوبر میں 101 ارب روپے ہو گیا تھا، جس کی وجہ درآمدات میں کمی اور مہنگائی کا تیزی سے نیچے آنا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245443"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈان اخبار کی رپورٹ میں جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ بنیادی طور پر درآمدی مرحلے اور مقامی سیلز ٹیکس کی وصولی میں تنزلی کی وجہ سے محصولات کم اکٹھا ہوئی ہیں۔</p>
<p>اکتوبر میں ٹیکس وصولی 980 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 879 ارب روپے رہی تھی، یہ 101 ارب روپے کے بڑا فرق کو ظاہر کرتی ہے، تاہم محصولات میں گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 24 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب 711 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔</p>
<p>مالی سال 2025 کے پہلے 4 مہینوں میں 34 کھرب 42 ارب روپے کی محصولات اکٹھا کی گئیں تھیں، جو جولائی تا اکتوبر کے لیے 36 کھرب 32 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 190 ارب روپے یا 5.23 فیصد کی کمی تھی۔</p>
<p>تاہم، پہلے 4 مہینوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں محصولات میں 25 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249711</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Dec 2024 19:45:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ثناء اللہ خانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/30194300687545f.jpg?r=194308" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/30194300687545f.jpg?r=194308"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
