<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:29:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:29:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’منموہن سنگھ نے نواز شریف ماڈل اپنایا‘، وزیر اعظم نے قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان‘ کا افتتاح کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249774/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان 29-2024‘ پروگرام کا  افتتاح کرتے ہوئے اس موقع کو پاکستان کے لیے عظیم دن قرار دیا  اور کہا کہ بھارت کو ترقی دینے کے لیے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ماڈل کو اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان 29-2024‘ پروگرام کی  افتتاحی  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج عظیم دن ہے، بے پناہ چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پیچھے رہنے جانے پر رونے کا فائدہ نہیں، ایماندارانہ تجزیہ قوموں کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/poB3b4Xbzjg?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر کوئی سیاسی گفتگو نہیں کروں گا، جب 2023 میں آئی ایم ایف پروگرام کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے تھے، پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا، اس سے بچنے کے لیے ہماری قیادت اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا کہ سیاست نہیں، ریاست کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور نتائج میں پیدا حالات کا سامنا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام روکنے کے لیے خطوط لکھےگئے تھے کہ پروگرام نہ کیا جائے، اس سے بڑی عوام کے ساتھ زیادتی کیا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے 38 فیصد مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا، کاروباری حضرات  22 فیصد شرح سود دیکھ کر خوفزدہ تھے، زر مبادلہ  کے ذخائر محدود تھے، مجبوری میں ہمیں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام لینا پڑا، اس کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں نے بھرپور تعاون کیا، ان کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249757"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگروام ہوگا، اس کی مثالیں موجود ہیں، پڑوسی ملک نے 90 کی دہائی کے بعد دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ قدرت نے اس ملک کو وسائل دیے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے ہمیں ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام کیوں لینا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ریاستی ملکیتی اداروں نے 6 کھرب کا نقصان کیا، آئی ایم ایف پروگرام میں ہمیں 7 ارب ڈالرز قرض میں مل رہے ہیں تاکہ استحکام آئے اور پاکستان شرح نمو کی طرف جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اگر 6 کھرب کے نقصانات اس غریب قوم نے برداشت کیے جو دریا برد ہوگئے،  4 کھرب میں بننے والی بجلی 2 کھرب میں بکے تو 2  ارب کا خسارہ کس کے کھاتے میں ڈالیں، 70 سال میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی تو قرضے نہیں لیں گے تو کیا کریں گے، یہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہم قائد اعظم کے فرمودات کے تحت چلتے تو آج پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا نہ ہوتا اور ترقی کے لیے درکار وسائل موجود ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آج ہم کتنا پیچھے چلے گئے ہیں، اس کا  کوئی شمار نہیں، اس پر رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں، لعن، طعن کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہاں گریبان میں جھانک کر، ایماندارانہ تجزیہ قوموں کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم فیصلہ کرلیں کہ ماضی میں نقصانات ہوئے، جو خامیاں یا کمزوریاں ہوئیں، ان کو سامنے رکھ کر پوری قوم کام، کام  اور کام، محنت، محنت اور محنت کا سفر اختیار کرے تو بلا خوف تردید میں آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا، ہمیں راستہ بدلنا ہوگا، بلکل نئی طرح استعمال کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ہم متکبرانہ اور نا پسندیدہ رویوں کی وجہ سے دنیا میں تنہا ہوگئے،  ایک دوست ملک سے ہم نے ایک ارب ڈالرز کا قرضہ مانگا، وہاں کے اکابرین نے مجھے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ آدھا ارب ڈالر پاکستان کو دے دیتے ہیں، شہباز شریف صاحب آپ کے ملک سے جواب آیا کہ یہ واپس رکھو، ہمیں نہیں چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ بتائیے کہ ایک تو آپ مانگ رہے ہیں اور اوپر سے آپ اکڑ رہے ہیں کہ ہمیں نہیں چاہیے،   یہ کتنا بڑا تضاد ہے، اس کے علاوہ ایک اور دوست کے خلاف جو  باتیں کی گئیں، وہ میں اپنی زبان پر بھی نہیں لا سکتا، یا تو ہمارے اندر یہ صلاحیت ہوتی کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا، ایک طرف ہم نے کشکول اٹھایا ہوا ہے، دوسری طرف کہہ رہے کہ ہمیں نہیں لینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا  کہ منموہن سنگھ نے نواز شریف  کے ماڈل کو اختیار کیا، نواز شریف کے دور حکومت میں جو اصلاحات ہوئیں، ان پر عمل کیا، جو ریفارمز یہاں ہوئیں، ان کو اختیار کیا، اس کے بعد باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حکومتیں-ادارے-مل-کر-کام-کر-رہے-ہیں-ماضی-ایسی-شراکت-نہیں-دیکھی" href="#حکومتیں-ادارے-مل-کر-کام-کر-رہے-ہیں-ماضی-ایسی-شراکت-نہیں-دیکھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’حکومتیں، ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، ماضی ایسی شراکت نہیں دیکھی‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 2013 سے 2018 کا دور آیا جس میں ہماری معیشت نواز شریف کی حکومت میں شرح نمو 6 فیصد سے بھی تجاوز کرگئی، مہنگائی ساڑھے تین فیصد پر تھی، وہ وقت آج بھی لوگوں کے ذہن میں بڑا تازہ ہے، اب ماضی میں جائے بغیر آگے بڑھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249245"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پالیسی ریٹ 13 فیصد پر ہے،  گورنر اسٹیٹ بینک بیٹھے ہیں، ان کے پاس ابھی بھی 8 پوائنٹس کی گنجائش ہے، اگر یہ چاہیں تو ایک قلم سے اس کو 13 سے 6 فیصد پر لے آئیں، لیکن میں ان کے اوپر پر زور نہیں دوں گا، کیونکہ اب وہ خود مختار بن گئے ہیں، اب کیا کریں، ان کو خود مختاری جنہوں نے دلوائی، کن وجوہات کی بنا پر، میں ان کو نہیں جانتا، لیکن میں ان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہماری برآمدات میں اضافہ ہوا، اس میں تمام اداروں کا کردار ہے، یہ انتہائی خوش کن، خوبصورت، منفرد تبدیلی ہے کہ حکومتیں اور ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، میں نے ماضی میں اس طرح کی شراکت نہیں دیکھی، مجھے بڑے وسوسے ہیں لیکن دعا کرتا ہوں کہ یہ پارٹنر شپ قیامت چلتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ 3 ٹریلین دریا برد ہو رہے ہیں، جب ہوگا تو قرض نہیں لیں گے تو کیا کریں گے، یہ ہے وہ چیلنج جس کا سامنا ہے، میکرو استحکام آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ بلا مبالغہ کہوں گا کہ میں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں ملک کی بہتری کے لیے اس طرح کے  تعاون کا تجربہ نہیں کیا جو  میں نے پہلی دفعہ آرمی چیف اور ادارے کی طرف سے دیکھا، اللہ کرے کہ یہ اس طرح ہمیشہ جاری رہے، کیونکہ ہم اپنی اننگز کھیل کر گھر چلے جائیں گے، لیکن یہ ملک قیامت  تک چلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ استحکام آچکا، اب شرح نمو اس صورت میں بڑھے گی جب آپ کے ان پٹس جیسے  گیس اور خاص طور پر بجلی سستی ہو، اگر بجلی خطے میں سب سے مہنگی ہے تو پھر پائیدار ترقی کا سوال پیدا نہیں ہوتا، اس شعبے میں گردشی قرض 250 ارب کا ہے، گیس کے شعبے میں 3 کھرب کا گردشی قرض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میرا-بس-چلے-تو-ٹیکس-کم-کردو" href="#میرا-بس-چلے-تو-ٹیکس-کم-کردو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;میرا بس چلے تو ٹیکس کم کردو&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے کئی عوامل ہیں، جب آپ بجلی چوروں کو پکڑتے ہیں تو وہ احتجاج کرتے ہیں، جب تک بجلی سستی نہیں کریں گے، اس وقت تک صنعت و حرفت کا پہیہ نہیں چلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب شرح سود کم ہوگئی ہے، اب لوگ بینک سے پیسے نکالیں گے، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری معیشت درآمدات پر  مبنی ہے، اگر  درآمدات بند ہوجائیں تو پوری صنعت بند  ہوجائے، میں کسی کو دوش نہیں دے رہا، یہ ہماری مجموعی ناکامی ہے، اب آج ہمیں برآمدات پر مبنی شرح نمو کی ضرورت ہے، وہ ہوا میں نہیں آئے گی، اس کے لیے آپ کو ایک ماحول بنانا ہوگا، اس پر ہم کام کر رہے ہیں، آڑان پاکستان کا محور برآمدات  پر مبنی شرح نمو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہاکہ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ٹیکس  کم کرنے ہوں گے، اگر میرا بس چلے تو میں پاکستان میں ٹیکس 10٫15 فیصد ٹیکس کم کردوں،  تاکہ چوری بھی کم ہو اور صلاحیت میں بھی بہتری آئے، لیکن اس کا وقت آئے گا، ابھی ہم آئی ایم ایف پروگرام کر رہے ہیں، اس کا وقت آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ملک-کو-آگے-چلنا-ہے-تو-اشرافیہ-کو-قربانی-دینی-ہوگی" href="#ملک-کو-آگے-چلنا-ہے-تو-اشرافیہ-کو-قربانی-دینی-ہوگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ملک کو آگے چلنا ہے تو اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے لیے ہمیں سیاسی استحکام چاہیے، اگر آپ کو ترقی کرنی ہے تو نقصان کا باعث بننے والے اداروں کی نجکاری کرنی ہوگی، ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ پر، پی آئی اے میں ہمیں دھچکا لگا ہے، ٹیم نے پوری کوشش کی، اس میں کوئی شک نہیں، دوبارہ کوشش کریں گے، اب یورپی یونین نے پی آئی اے کو پروازوں کی اجازت دے دی ہے، اس لیے اس کا گراف اوپر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249226"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاری کے حوالے سے کہا گیا کہ آئی پی پیز  معاہدوں سے اعتماد کو دھچکا لگا، مجھے بتائیں اس کے علاوہ کسی شعبے کو نہیں چھیڑا گیا،  اس بجلی کا واحد خریدار پاکستان ہے، اس کی اہمیت میں آپ کو بتا چکا، سستی بجلی نہیں ہوگی تو صنعت نہیں چلے گی،  یہ سب آئی پی پیز دس گنا منافع لے چکے ہیں، اس پر پھر کیپیسٹی چارجز،  پھر فرنس آئل اس می بھی ریلیف۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میثاق-معیشت-پر-اتفاق-کرلیں-تو-ہمارے-آدھے-مسائل-حل-ہوجائیں" href="#میثاق-معیشت-پر-اتفاق-کرلیں-تو-ہمارے-آدھے-مسائل-حل-ہوجائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’میثاق معیشت پر اتفاق کرلیں تو ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے دور میں ایل این جی کے 4 منصوبے لگائے، اس وقت نیپرا کا ایل این جی ٹیرف ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا، نواز شریف نے ساڑھے 4 لاکھ ڈالر میں ایل این جی پلانٹ لگائے تھے، یعنی 100 فیصد کم، اس کے بعد نیپرا کو نواز شریف کی کارکردگی کی بنیاد پر اپنا ٹیرف از سر نو تبدیل کرنا پڑا، اس کے بعد پرائیویٹ سیکٹر نے ایل این جی کا منصوبہ نہیں لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ملک کو آگے چلنا ہے تو اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی، مانتا ہوں کہ وہ معاہدے تھے، لیکن آپ اس کو پورے تناظر میں دیکھیں، اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کیوں کیا گیا، میرے بعض ساتھی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے، میں احترام کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز  شریف  نے کہا اگر آج بھی ہم میثاق معیشت پر اتفاق کرلیں تو ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، اس کا کام اس کو نجی شعبے میں فروغ دینے کے لیے سہولیات دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں اسلام آباد میں قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان29-2024‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار  نے کہا کہ  جب حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ  وزیراعظم کے دلیرانہ اقدامات کی وجہ سے معیشت مستحکم ہورہی ہے، پاکستان کے عوام باہمت اور باصلاحیت ہیں، پاکستان کو چیلنجز درپیش ہیں تو بے پناہ موقع بھی میسر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  ہم نے موقع سے فائدہ اٹھاکر ملک کو ترقی اور خوشحالی سےہمکنار کرناہے، ہمیں سماجی شعبے پرخصوصی توجہ دینا ہوگی، ہمیں آبادی اور وسائل میں عدم تعاون کو بہتر بنانا ہے، قرضوں کی ادائیگی معیشت پر بڑا بوجھ ہے،نجات حاصل کرناہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز احسن اقبال نے کہا تھا کہ اگلے پانچ برسوں کے لیے قومی معیشت کی بہتری کا منصوبہ شروع کیا جائے گا جو  کئی نکات پر مبنی ہے جنہیں ملک کی ترقی و خوشحالی کےلیے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ پاکستان کو برآمدی معیشت کے فروغ کے لیے اپنے تمام مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور آٹومیشن، نینوٹیکنالوجی اور خصوصی ٹیکنالوجی جیسے ای کامرس پر توجہ دینی چاہئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان 29-2024‘ پروگرام کا  افتتاح کرتے ہوئے اس موقع کو پاکستان کے لیے عظیم دن قرار دیا  اور کہا کہ بھارت کو ترقی دینے کے لیے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ماڈل کو اختیار کیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان 29-2024‘ پروگرام کی  افتتاحی  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج عظیم دن ہے، بے پناہ چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پیچھے رہنے جانے پر رونے کا فائدہ نہیں، ایماندارانہ تجزیہ قوموں کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/poB3b4Xbzjg?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر کوئی سیاسی گفتگو نہیں کروں گا، جب 2023 میں آئی ایم ایف پروگرام کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے تھے، پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا، اس سے بچنے کے لیے ہماری قیادت اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا کہ سیاست نہیں، ریاست کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور نتائج میں پیدا حالات کا سامنا کریں گے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام روکنے کے لیے خطوط لکھےگئے تھے کہ پروگرام نہ کیا جائے، اس سے بڑی عوام کے ساتھ زیادتی کیا ہوسکتی ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے 38 فیصد مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا، کاروباری حضرات  22 فیصد شرح سود دیکھ کر خوفزدہ تھے، زر مبادلہ  کے ذخائر محدود تھے، مجبوری میں ہمیں ایک اور آئی ایم ایف پروگرام لینا پڑا، اس کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں نے بھرپور تعاون کیا، ان کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249757"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگروام ہوگا، اس کی مثالیں موجود ہیں، پڑوسی ملک نے 90 کی دہائی کے بعد دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ قدرت نے اس ملک کو وسائل دیے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے ہمیں ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام کیوں لینا پڑا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ریاستی ملکیتی اداروں نے 6 کھرب کا نقصان کیا، آئی ایم ایف پروگرام میں ہمیں 7 ارب ڈالرز قرض میں مل رہے ہیں تاکہ استحکام آئے اور پاکستان شرح نمو کی طرف جائے۔</p>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اگر 6 کھرب کے نقصانات اس غریب قوم نے برداشت کیے جو دریا برد ہوگئے،  4 کھرب میں بننے والی بجلی 2 کھرب میں بکے تو 2  ارب کا خسارہ کس کے کھاتے میں ڈالیں، 70 سال میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی تو قرضے نہیں لیں گے تو کیا کریں گے، یہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہم قائد اعظم کے فرمودات کے تحت چلتے تو آج پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا نہ ہوتا اور ترقی کے لیے درکار وسائل موجود ہوتے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آج ہم کتنا پیچھے چلے گئے ہیں، اس کا  کوئی شمار نہیں، اس پر رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں، لعن، طعن کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہاں گریبان میں جھانک کر، ایماندارانہ تجزیہ قوموں کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم فیصلہ کرلیں کہ ماضی میں نقصانات ہوئے، جو خامیاں یا کمزوریاں ہوئیں، ان کو سامنے رکھ کر پوری قوم کام، کام  اور کام، محنت، محنت اور محنت کا سفر اختیار کرے تو بلا خوف تردید میں آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا، ہمیں راستہ بدلنا ہوگا، بلکل نئی طرح استعمال کرنی ہوگی۔</p>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ہم متکبرانہ اور نا پسندیدہ رویوں کی وجہ سے دنیا میں تنہا ہوگئے،  ایک دوست ملک سے ہم نے ایک ارب ڈالرز کا قرضہ مانگا، وہاں کے اکابرین نے مجھے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ آدھا ارب ڈالر پاکستان کو دے دیتے ہیں، شہباز شریف صاحب آپ کے ملک سے جواب آیا کہ یہ واپس رکھو، ہمیں نہیں چاہیے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ بتائیے کہ ایک تو آپ مانگ رہے ہیں اور اوپر سے آپ اکڑ رہے ہیں کہ ہمیں نہیں چاہیے،   یہ کتنا بڑا تضاد ہے، اس کے علاوہ ایک اور دوست کے خلاف جو  باتیں کی گئیں، وہ میں اپنی زبان پر بھی نہیں لا سکتا، یا تو ہمارے اندر یہ صلاحیت ہوتی کہ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا، ایک طرف ہم نے کشکول اٹھایا ہوا ہے، دوسری طرف کہہ رہے کہ ہمیں نہیں لینا۔</p>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا  کہ منموہن سنگھ نے نواز شریف  کے ماڈل کو اختیار کیا، نواز شریف کے دور حکومت میں جو اصلاحات ہوئیں، ان پر عمل کیا، جو ریفارمز یہاں ہوئیں، ان کو اختیار کیا، اس کے بعد باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔</p>
<h1><a id="حکومتیں-ادارے-مل-کر-کام-کر-رہے-ہیں-ماضی-ایسی-شراکت-نہیں-دیکھی" href="#حکومتیں-ادارے-مل-کر-کام-کر-رہے-ہیں-ماضی-ایسی-شراکت-نہیں-دیکھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’حکومتیں، ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، ماضی ایسی شراکت نہیں دیکھی‘</h1>
<p>انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 2013 سے 2018 کا دور آیا جس میں ہماری معیشت نواز شریف کی حکومت میں شرح نمو 6 فیصد سے بھی تجاوز کرگئی، مہنگائی ساڑھے تین فیصد پر تھی، وہ وقت آج بھی لوگوں کے ذہن میں بڑا تازہ ہے، اب ماضی میں جائے بغیر آگے بڑھنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249245"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پالیسی ریٹ 13 فیصد پر ہے،  گورنر اسٹیٹ بینک بیٹھے ہیں، ان کے پاس ابھی بھی 8 پوائنٹس کی گنجائش ہے، اگر یہ چاہیں تو ایک قلم سے اس کو 13 سے 6 فیصد پر لے آئیں، لیکن میں ان کے اوپر پر زور نہیں دوں گا، کیونکہ اب وہ خود مختار بن گئے ہیں، اب کیا کریں، ان کو خود مختاری جنہوں نے دلوائی، کن وجوہات کی بنا پر، میں ان کو نہیں جانتا، لیکن میں ان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہوں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہماری برآمدات میں اضافہ ہوا، اس میں تمام اداروں کا کردار ہے، یہ انتہائی خوش کن، خوبصورت، منفرد تبدیلی ہے کہ حکومتیں اور ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، میں نے ماضی میں اس طرح کی شراکت نہیں دیکھی، مجھے بڑے وسوسے ہیں لیکن دعا کرتا ہوں کہ یہ پارٹنر شپ قیامت چلتے رہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے نہیں کہا کہ 3 ٹریلین دریا برد ہو رہے ہیں، جب ہوگا تو قرض نہیں لیں گے تو کیا کریں گے، یہ ہے وہ چیلنج جس کا سامنا ہے، میکرو استحکام آچکی ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ بلا مبالغہ کہوں گا کہ میں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں ملک کی بہتری کے لیے اس طرح کے  تعاون کا تجربہ نہیں کیا جو  میں نے پہلی دفعہ آرمی چیف اور ادارے کی طرف سے دیکھا، اللہ کرے کہ یہ اس طرح ہمیشہ جاری رہے، کیونکہ ہم اپنی اننگز کھیل کر گھر چلے جائیں گے، لیکن یہ ملک قیامت  تک چلے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ استحکام آچکا، اب شرح نمو اس صورت میں بڑھے گی جب آپ کے ان پٹس جیسے  گیس اور خاص طور پر بجلی سستی ہو، اگر بجلی خطے میں سب سے مہنگی ہے تو پھر پائیدار ترقی کا سوال پیدا نہیں ہوتا، اس شعبے میں گردشی قرض 250 ارب کا ہے، گیس کے شعبے میں 3 کھرب کا گردشی قرض ہے۔</p>
<h1><a id="میرا-بس-چلے-تو-ٹیکس-کم-کردو" href="#میرا-بس-چلے-تو-ٹیکس-کم-کردو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>میرا بس چلے تو ٹیکس کم کردو</h1>
<p>انہوں نے کہا کہ اس کے کئی عوامل ہیں، جب آپ بجلی چوروں کو پکڑتے ہیں تو وہ احتجاج کرتے ہیں، جب تک بجلی سستی نہیں کریں گے، اس وقت تک صنعت و حرفت کا پہیہ نہیں چلے گا۔</p>
<p>وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب شرح سود کم ہوگئی ہے، اب لوگ بینک سے پیسے نکالیں گے، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری معیشت درآمدات پر  مبنی ہے، اگر  درآمدات بند ہوجائیں تو پوری صنعت بند  ہوجائے، میں کسی کو دوش نہیں دے رہا، یہ ہماری مجموعی ناکامی ہے، اب آج ہمیں برآمدات پر مبنی شرح نمو کی ضرورت ہے، وہ ہوا میں نہیں آئے گی، اس کے لیے آپ کو ایک ماحول بنانا ہوگا، اس پر ہم کام کر رہے ہیں، آڑان پاکستان کا محور برآمدات  پر مبنی شرح نمو ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہاکہ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ٹیکس  کم کرنے ہوں گے، اگر میرا بس چلے تو میں پاکستان میں ٹیکس 10٫15 فیصد ٹیکس کم کردوں،  تاکہ چوری بھی کم ہو اور صلاحیت میں بھی بہتری آئے، لیکن اس کا وقت آئے گا، ابھی ہم آئی ایم ایف پروگرام کر رہے ہیں، اس کا وقت آئے گا۔</p>
<h1><a id="ملک-کو-آگے-چلنا-ہے-تو-اشرافیہ-کو-قربانی-دینی-ہوگی" href="#ملک-کو-آگے-چلنا-ہے-تو-اشرافیہ-کو-قربانی-دینی-ہوگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ملک کو آگے چلنا ہے تو اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی‘</h1>
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے لیے ہمیں سیاسی استحکام چاہیے، اگر آپ کو ترقی کرنی ہے تو نقصان کا باعث بننے والے اداروں کی نجکاری کرنی ہوگی، ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ پر، پی آئی اے میں ہمیں دھچکا لگا ہے، ٹیم نے پوری کوشش کی، اس میں کوئی شک نہیں، دوبارہ کوشش کریں گے، اب یورپی یونین نے پی آئی اے کو پروازوں کی اجازت دے دی ہے، اس لیے اس کا گراف اوپر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249226"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاری کے حوالے سے کہا گیا کہ آئی پی پیز  معاہدوں سے اعتماد کو دھچکا لگا، مجھے بتائیں اس کے علاوہ کسی شعبے کو نہیں چھیڑا گیا،  اس بجلی کا واحد خریدار پاکستان ہے، اس کی اہمیت میں آپ کو بتا چکا، سستی بجلی نہیں ہوگی تو صنعت نہیں چلے گی،  یہ سب آئی پی پیز دس گنا منافع لے چکے ہیں، اس پر پھر کیپیسٹی چارجز،  پھر فرنس آئل اس می بھی ریلیف۔</p>
<h1><a id="میثاق-معیشت-پر-اتفاق-کرلیں-تو-ہمارے-آدھے-مسائل-حل-ہوجائیں" href="#میثاق-معیشت-پر-اتفاق-کرلیں-تو-ہمارے-آدھے-مسائل-حل-ہوجائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’میثاق معیشت پر اتفاق کرلیں تو ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں‘</h1>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے دور میں ایل این جی کے 4 منصوبے لگائے، اس وقت نیپرا کا ایل این جی ٹیرف ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا، نواز شریف نے ساڑھے 4 لاکھ ڈالر میں ایل این جی پلانٹ لگائے تھے، یعنی 100 فیصد کم، اس کے بعد نیپرا کو نواز شریف کی کارکردگی کی بنیاد پر اپنا ٹیرف از سر نو تبدیل کرنا پڑا، اس کے بعد پرائیویٹ سیکٹر نے ایل این جی کا منصوبہ نہیں لگایا۔</p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ملک کو آگے چلنا ہے تو اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی، مانتا ہوں کہ وہ معاہدے تھے، لیکن آپ اس کو پورے تناظر میں دیکھیں، اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کیوں کیا گیا، میرے بعض ساتھی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے، میں احترام کرتا ہوں۔</p>
<p>شہباز  شریف  نے کہا اگر آج بھی ہم میثاق معیشت پر اتفاق کرلیں تو ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، اس کا کام اس کو نجی شعبے میں فروغ دینے کے لیے سہولیات دینا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں اسلام آباد میں قومی اقتصادی پلان ’اڑان پاکستان29-2024‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار  نے کہا کہ  جب حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا۔</p>
<p>اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ  وزیراعظم کے دلیرانہ اقدامات کی وجہ سے معیشت مستحکم ہورہی ہے، پاکستان کے عوام باہمت اور باصلاحیت ہیں، پاکستان کو چیلنجز درپیش ہیں تو بے پناہ موقع بھی میسر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  ہم نے موقع سے فائدہ اٹھاکر ملک کو ترقی اور خوشحالی سےہمکنار کرناہے، ہمیں سماجی شعبے پرخصوصی توجہ دینا ہوگی، ہمیں آبادی اور وسائل میں عدم تعاون کو بہتر بنانا ہے، قرضوں کی ادائیگی معیشت پر بڑا بوجھ ہے،نجات حاصل کرناہوگی۔</p>
<p>گزشتہ روز احسن اقبال نے کہا تھا کہ اگلے پانچ برسوں کے لیے قومی معیشت کی بہتری کا منصوبہ شروع کیا جائے گا جو  کئی نکات پر مبنی ہے جنہیں ملک کی ترقی و خوشحالی کےلیے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ پاکستان کو برآمدی معیشت کے فروغ کے لیے اپنے تمام مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور آٹومیشن، نینوٹیکنالوجی اور خصوصی ٹیکنالوجی جیسے ای کامرس پر توجہ دینی چاہئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249774</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Dec 2024 20:45:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/31170535dfa280f.jpg?r=170554" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/31170535dfa280f.jpg?r=170554"/>
        <media:title>فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/12/311649504564ea2.jpg?r=170551" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/12/311649504564ea2.jpg?r=170551"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
