<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 15:35:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 15:35:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2023 کے مقابلے 2024 میں 5.4 فیصد کم مقدمات نمٹائے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1249981/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے تنخواہوں میں 65 فیصد اضافے کے باوجود سال 2023 کے مقابلے 2024 میں 5.4 فیصد کم مقدمات نمٹائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1882745/ihc-decided-54pc-less-cases-in-2024-than-previous-year"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں عدالت عالیہ کے 8 ججز نے 10 ہزار 571 مقدمات کا فیصلہ کیا جبکہ 2023 میں عدالت مجموعی طور پر 11 ہزار 170 مقدمات کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار  کے مطابق 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 ہزار 525، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہزار 616، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے ایک ہزار 490، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک ہزار 195، جسٹس میاں گل اورنگزیب نے ایک ہزار 21، جسٹس بابر ستار نے 964، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 925 اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز  نے 835 مقدمات کے فیصلے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 کی ڈسپوزل رپورٹ کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ سال نمٹائے گئے 11 ہزار 170  مقدمات میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ہزار 529، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہزار 571، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایک ہزار 173، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک ہزار 134، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ایک ہزار 79، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے 963، جسٹس بابر ستار نے 790 جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 835 مقدمات کے فیصلے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245920"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمات نمٹانے کی تعداد میں کمی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں 65 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2023 میں وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور گھر کے کرایہ الاؤنس میں اضافہ کیا تھا، ہائی کورٹ کے ججز کے گھروں کا کرایہ 65 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح ججز کا اعلیٰ عدالتی الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار 431 روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار روپے کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافے کے بعد ہائی کورٹ کے جج کی ماہانہ تنخواہ 20 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، مقدمات نمٹانے کی رفتار میں کمی کے باعث بیک لاگ میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری شفقت تارڑ کا کہنا تھا کہ درخواستیں دائر کرنے کا عمل ان کے نمٹائے جانے سے تجاوز کر گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے 2024 میں 2500 سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا اور حیرت ہے کہ باقی جج اس تعداد کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین عادل عزیز قاضی نے ڈان کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2024 کے دوران سیاسی درخواستوں کی بھرمار تھی، ججز نے ان مقدمات کو معمول کی درخواستوں کے مقابلے میں ’زیادہ وقت‘ دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے تنخواہوں میں 65 فیصد اضافے کے باوجود سال 2023 کے مقابلے 2024 میں 5.4 فیصد کم مقدمات نمٹائے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1882745/ihc-decided-54pc-less-cases-in-2024-than-previous-year"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں عدالت عالیہ کے 8 ججز نے 10 ہزار 571 مقدمات کا فیصلہ کیا جبکہ 2023 میں عدالت مجموعی طور پر 11 ہزار 170 مقدمات کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>اعداد و شمار  کے مطابق 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 ہزار 525، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہزار 616، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے ایک ہزار 490، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک ہزار 195، جسٹس میاں گل اورنگزیب نے ایک ہزار 21، جسٹس بابر ستار نے 964، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 925 اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز  نے 835 مقدمات کے فیصلے کیے۔</p>
<p>2023 کی ڈسپوزل رپورٹ کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ سال نمٹائے گئے 11 ہزار 170  مقدمات میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ہزار 529، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہزار 571، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایک ہزار 173، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک ہزار 134، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ایک ہزار 79، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے 963، جسٹس بابر ستار نے 790 جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 835 مقدمات کے فیصلے کیے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245920"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مقدمات نمٹانے کی تعداد میں کمی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں 65 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>نومبر 2023 میں وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور گھر کے کرایہ الاؤنس میں اضافہ کیا تھا، ہائی کورٹ کے ججز کے گھروں کا کرایہ 65 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح ججز کا اعلیٰ عدالتی الاؤنس 3 لاکھ 42 ہزار 431 روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ 90 ہزار روپے کر دیا گیا۔</p>
<p>اضافے کے بعد ہائی کورٹ کے جج کی ماہانہ تنخواہ 20 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، مقدمات نمٹانے کی رفتار میں کمی کے باعث بیک لاگ میں اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری شفقت تارڑ کا کہنا تھا کہ درخواستیں دائر کرنے کا عمل ان کے نمٹائے جانے سے تجاوز کر گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے 2024 میں 2500 سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا اور حیرت ہے کہ باقی جج اس تعداد کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکے۔</p>
<p>اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین عادل عزیز قاضی نے ڈان کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2024 کے دوران سیاسی درخواستوں کی بھرمار تھی، ججز نے ان مقدمات کو معمول کی درخواستوں کے مقابلے میں ’زیادہ وقت‘ دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1249981</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jan 2025 15:11:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/03123824ffdfedd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/03123824ffdfedd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
