<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 16:07:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 16:07:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میانمار : آمرانہ حکومت کے فضائی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250424/</link>
      <description>&lt;p&gt;میانمار کے مغرب میں واقع ریاست راکھین کے ایک گاؤں میں  آمرانہ حکومت کے فضائی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ایک امدادی کارکن اور نسلی اقلیتی مسلح گروپ نے غیرملکی  خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکان آرمی (اے اے) راکھین ریاست میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوج کے ساتھ شدید لڑائی میں مصروف ہے جہاں اس نے گزشتہ سال بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راکھین تنازع اس خونی انتشار کا ہی تسلسل ہے جس نے 2021 کی بغاوت میں آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت کے خاتمے کے بعد سے میانمار کو بڑی مسلح بغاوت کی آگ میں دھکیل دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے اے کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی دوپہر  ایک  بج کر 20 منٹ پر فوجی جیٹ طیارے نے رامری جزیرے پر واقع کیوک نی ماؤ کے علاقے میں  بمباری کی جس سے آگ بھڑک اٹھی جس نے 500 سے زائد مکانات کو لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 40 بے گناہ شہری ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقے میں امدادی کاموں میں مصروف مقامی ریسکیو گروپ کے ایک رکن  نے اے ایف پی کو بتایا کہ 41 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو ور کر  نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس اتنی بیٹاڈائن اور میتھلیٹڈ اسپرٹ بھی نہیں ہے کہ زخمیوں کا علاج کر سکیں جب کہ نقل و حرکت بھی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جلے-ہوئے-کھنڈرات" href="#جلے-ہوئے-کھنڈرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جلے ہوئے کھنڈرات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بمباری کے بعد سامنے آنے کی تصاویر میں مایوس رہائشیوں کو جلے ہوئے،  دھواں چھوڑتےکھنڈرات اور منہدم عمارتوں کے درمیان چلتے ہوئے دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی نے کارروائی رد عمل جاننے کے لیے جنتا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کالز کا جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239780"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رامری جزیرے میں چین کی حمایت  سے ڈیپ سی بندرگاہ بنائی جا رہی ہے جو تکمیل  کے بعد بیجنگ کے لیے بحر ہند تک رسائی کے لیے گیٹ وے کا کام کرے گا جب کہ خطے بے امنی کی وجہ سے تعمیراتی کام رک گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کو ملک بھر میں کئی محاذوں پر اپنی مخالفت سے نمٹنے کے لیے جد و جہد کر رہی ہے اور اس پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے بمباری کرنے کا تسلسل کے ساتھ الزام لگایا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بغاوت کی مخالفت میں ابھرنے والی نوجوانوں کی قیادت میں پیپلز ڈیفنس فورسز کے ساتھ، فوج طویل عرصے سے قائم مضبوط مسلح نسلی اقلیتی مسلح گروہوں سے بھی لڑ رہی ہے جن میں  اے اے بھی شامل ہے جو ملک کے سرحدی علاقوں  کے بڑے علاقے کو کنٹرول کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام نے خبردار کیا تھا کہ  لڑائی کے باعث تجارتی سرگرمیوں اور زرعی پیداوار میں کمی کے باعث راکھین ریاست قحط کی طرف بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے کہا  کہ میانمار میں تنازعات کے باعث  35 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے، گزشتہ برس ان کی تعداد 15 لاکھ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا کہ آئندہ سال کا آؤٹ لک تشویشناک ہے اور ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو امداد کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میانمار کے مغرب میں واقع ریاست راکھین کے ایک گاؤں میں  آمرانہ حکومت کے فضائی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>یہ بات ایک امدادی کارکن اور نسلی اقلیتی مسلح گروپ نے غیرملکی  خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔</p>
<p>اراکان آرمی (اے اے) راکھین ریاست میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوج کے ساتھ شدید لڑائی میں مصروف ہے جہاں اس نے گزشتہ سال بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔</p>
<p>راکھین تنازع اس خونی انتشار کا ہی تسلسل ہے جس نے 2021 کی بغاوت میں آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت کے خاتمے کے بعد سے میانمار کو بڑی مسلح بغاوت کی آگ میں دھکیل دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247327"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اے اے کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی دوپہر  ایک  بج کر 20 منٹ پر فوجی جیٹ طیارے نے رامری جزیرے پر واقع کیوک نی ماؤ کے علاقے میں  بمباری کی جس سے آگ بھڑک اٹھی جس نے 500 سے زائد مکانات کو لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 40 بے گناہ شہری ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔</p>
<p>علاقے میں امدادی کاموں میں مصروف مقامی ریسکیو گروپ کے ایک رکن  نے اے ایف پی کو بتایا کہ 41 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہوئے۔</p>
<p>ریسکیو ور کر  نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس اتنی بیٹاڈائن اور میتھلیٹڈ اسپرٹ بھی نہیں ہے کہ زخمیوں کا علاج کر سکیں جب کہ نقل و حرکت بھی مشکل ہے۔</p>
<h1><a id="جلے-ہوئے-کھنڈرات" href="#جلے-ہوئے-کھنڈرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جلے ہوئے کھنڈرات</h1>
<p>بمباری کے بعد سامنے آنے کی تصاویر میں مایوس رہائشیوں کو جلے ہوئے،  دھواں چھوڑتےکھنڈرات اور منہدم عمارتوں کے درمیان چلتے ہوئے دکھایا گیا۔</p>
<p>اے ایف پی نے کارروائی رد عمل جاننے کے لیے جنتا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کالز کا جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239780"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رامری جزیرے میں چین کی حمایت  سے ڈیپ سی بندرگاہ بنائی جا رہی ہے جو تکمیل  کے بعد بیجنگ کے لیے بحر ہند تک رسائی کے لیے گیٹ وے کا کام کرے گا جب کہ خطے بے امنی کی وجہ سے تعمیراتی کام رک گیا ہے۔</p>
<p>فوج کو ملک بھر میں کئی محاذوں پر اپنی مخالفت سے نمٹنے کے لیے جد و جہد کر رہی ہے اور اس پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے بمباری کرنے کا تسلسل کے ساتھ الزام لگایا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>بغاوت کی مخالفت میں ابھرنے والی نوجوانوں کی قیادت میں پیپلز ڈیفنس فورسز کے ساتھ، فوج طویل عرصے سے قائم مضبوط مسلح نسلی اقلیتی مسلح گروہوں سے بھی لڑ رہی ہے جن میں  اے اے بھی شامل ہے جو ملک کے سرحدی علاقوں  کے بڑے علاقے کو کنٹرول کرتی ہے۔</p>
<p>نومبر میں اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام نے خبردار کیا تھا کہ  لڑائی کے باعث تجارتی سرگرمیوں اور زرعی پیداوار میں کمی کے باعث راکھین ریاست قحط کی طرف بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے کہا  کہ میانمار میں تنازعات کے باعث  35 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے، گزشتہ برس ان کی تعداد 15 لاکھ تھی۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا کہ آئندہ سال کا آؤٹ لک تشویشناک ہے اور ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو امداد کی ضرورت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250424</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jan 2025 19:57:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/091954512edf2d8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/091954512edf2d8.jpg"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
