<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:40:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:40:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک کا 19 جنوری کو امریکا میں ایپ بند کرنے کا عندیہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250425/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے 19 جنوری تک ایپلی کیشن کو امریکا میں بند کرنے کا عندیہ دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی حکومت یا سپریم کورٹ نے ایپلی کیشن کی پابندی کی تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی یا اسے رعایت دینے کا اعلان نہیں کیا گیا تو ایپلی کیشن کو امریکا میں 19 جنوری کو بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کمپنی کو 19 جنوری تک ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو کسی بھی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنے کا قانون بنا رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کے مطابق ٹک ٹاک کی مالک کمپنی امریکا میں ٹک ٹاک کے آپریشنز 19 جنوری تک کسی بھی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنے کی پابند ہے، دوسری صورت میں ایپلی کیشن کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ معاملے پر ٹک ٹاک نے امریکی عدالتوں میں درخواست دائر کی تھیں، جہاں سے دونوں نچلی عدالتوں میں ٹک ٹاک کو کوئی ریلیف نہیں ملا، اب کمپنی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت جلد ہی ہونے والی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ عدالت ٹک ٹاک پر پابندی کے کیس میں چینی ایپلی کیشن کو رعایت فراہم کرے، امریکی حکومت اس کا سیاسی حل تلاش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/supreme-court-tiktok-china-speech-national-security-22d672d946b6b4065ae5fb7f3e0d8bed"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) نے بتایا ہے کہ ٹک ٹاک کی مالک کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکی حکومت یا سپریم کورٹ نے ایپلی کیشن کے قانون کی مدت میں توسیع نہیں کی تو ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ عارضی بنیادوں پر ٹک ٹاک کو بند کرنے کے قانون میں ریلیف فراہم کرتے ہوئے پابندی کی مدت کو بڑھائے گی لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے 19 جنوری تک ایپلی کیشن کو امریکا میں بند کرنے کا عندیہ دے دیا۔</p>
<p>ٹک ٹاک انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکی حکومت یا سپریم کورٹ نے ایپلی کیشن کی پابندی کی تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی یا اسے رعایت دینے کا اعلان نہیں کیا گیا تو ایپلی کیشن کو امریکا میں 19 جنوری کو بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کمپنی کو 19 جنوری تک ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو کسی بھی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنے کا قانون بنا رکھا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1248971"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کے مطابق ٹک ٹاک کی مالک کمپنی امریکا میں ٹک ٹاک کے آپریشنز 19 جنوری تک کسی بھی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنے کی پابند ہے، دوسری صورت میں ایپلی کیشن کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>مذکورہ معاملے پر ٹک ٹاک نے امریکی عدالتوں میں درخواست دائر کی تھیں، جہاں سے دونوں نچلی عدالتوں میں ٹک ٹاک کو کوئی ریلیف نہیں ملا، اب کمپنی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت جلد ہی ہونے والی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ عدالت ٹک ٹاک پر پابندی کے کیس میں چینی ایپلی کیشن کو رعایت فراہم کرے، امریکی حکومت اس کا سیاسی حل تلاش کرے گی۔</p>
<p>اب خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/supreme-court-tiktok-china-speech-national-security-22d672d946b6b4065ae5fb7f3e0d8bed"><strong>اے پی</strong></a>) نے بتایا ہے کہ ٹک ٹاک کی مالک کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکی حکومت یا سپریم کورٹ نے ایپلی کیشن کے قانون کی مدت میں توسیع نہیں کی تو ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ عارضی بنیادوں پر ٹک ٹاک کو بند کرنے کے قانون میں ریلیف فراہم کرتے ہوئے پابندی کی مدت کو بڑھائے گی لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250425</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jan 2025 20:41:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/09201145b64a210.jpg?r=201225" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/09201145b64a210.jpg?r=201225"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
