<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:38:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 08:38:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر پابندی کیلئے درخواست دائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250523/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ میں یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کرنے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق شہری اسلم نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو فریق بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں ہر دوسرے شخص کا یوٹیوب چینل ہے، جسے وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے وِیوز لیے جارہے ہیں اور پیسہ کمایا جا رہا ہے، یوٹیوب اور فیس بک پر بغیر کسی لائسنس کے کسی بھی قسم کی ویڈیو اپ لوڈ کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215717"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق یوٹیوب، فیس بک، انسٹا گرام، ٹک ٹاک پر فیک ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی ہیں، جبکہ یوٹیوبرز اپنے ولاگز میں اپنے گھروں کی خواتین کو دکھا رہے ہیں جو کہ خاندانی نظام تباہ کرنے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری نے استدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ سٹیزن پروٹیکشن رولز پر عملدرآمد کرنے کا حکم دے، لاہور ہائی کورٹ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز بند کرنے کا حکم جاری کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ میں یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کرنے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق شہری اسلم نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو فریق بنایا ہے۔</p>
<p>درخواست گزار نے پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں ہر دوسرے شخص کا یوٹیوب چینل ہے، جسے وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے وِیوز لیے جارہے ہیں اور پیسہ کمایا جا رہا ہے، یوٹیوب اور فیس بک پر بغیر کسی لائسنس کے کسی بھی قسم کی ویڈیو اپ لوڈ کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1215717"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست گزار کے مطابق یوٹیوب، فیس بک، انسٹا گرام، ٹک ٹاک پر فیک ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی ہیں، جبکہ یوٹیوبرز اپنے ولاگز میں اپنے گھروں کی خواتین کو دکھا رہے ہیں جو کہ خاندانی نظام تباہ کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p>شہری نے استدعا کی کہ لاہور ہائی کورٹ سٹیزن پروٹیکشن رولز پر عملدرآمد کرنے کا حکم دے، لاہور ہائی کورٹ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز بند کرنے کا حکم جاری کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250523</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jan 2025 12:31:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکرانا بلال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/11114156d72853a.jpg?r=123136" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/11114156d72853a.jpg?r=123136"/>
        <media:title>درخواست گزار کے مطابق سوشل میڈیا پر گھروں کی خواتین کو دکھا کر خاندانی نظام تباہ کیا جارہا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
