<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:46:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:46:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی، امریکی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250532/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی شارٹ ویڈیو ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر امریکا میں ممکنہ پابندی کے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں 10 جنوری کو سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/c79192g7yqxt"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں ٹک ٹاک، امریکی حکومت اور ٹک ٹاک کے کانٹینٹ کریئیٹرز نے دلائل دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کے وکیل نے دلیل دیا کہ امریکی حکومت کسی کو اظہار رائے کی آزادی سے نہیں روک سکتی جب کہ عدالت کو ایپ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے درمیانہ راستہ نکالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کے کانٹینٹ کریئیٹرز کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت مواد تخلیق کاروں کی آواز کو بند یا دبا نہیں سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250493"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ چین ٹک ٹاک کو امریکا کے خلاف ہتھیار کے طور پر تیار کر رہا ہے، جس سے کبھی بھی نقصان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی 9 رکنی بینچ نے ٹک ٹاک کی درخواست پر سماعت کی، تاہم جیوری نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cz9g91gn5ddo"&gt;&lt;strong&gt;بی بی سی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے ججز حکومتی فیصلے کی تائید کرنے کے حق میں لگتے ہیں اور ممکنہ طور پر عدالت ٹک ٹاک کی درخواست مسترد کردے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ قانون نافذ ہونے سے قبل یعنی 19 جنوری سے قبل اپنا فیصلہ سنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے قانون بنا رکھا ہے کہ ٹک ٹاک 19 جنوری تک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کر دے، دوسری صورت میں ایپ پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت نے گزشتہ برس پارلیمنٹ سے قوانین کو منظور کروانے کے بعد صدر کے دستخط ہوتے ہی نافذ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون میں ٹک ٹاک کو 19 جنوری 2025 تک مہلت دی گئی تھی کہ وہ ایپ کے امریکی مالکانہ حقوق امریکیوں کو فروخت کرے، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی نہ لگانے کا عندیہ دیا ہے اور انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے کہ ایپ پر پابندی نہ لگائے جائے بلکہ ایپ کی قسمت کا فیصلہ نئی امریکی حکومت پر چھوڑا جائے جو کہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے اقدامات کیے تھے لیکن اس وقت عدالتوں کی جانب سے ٹک ٹاک کو ریلیف ملا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی شارٹ ویڈیو ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر امریکا میں ممکنہ پابندی کے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں 10 جنوری کو سماعت ہوئی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/live/c79192g7yqxt"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> کے مطابق تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں ٹک ٹاک، امریکی حکومت اور ٹک ٹاک کے کانٹینٹ کریئیٹرز نے دلائل دیے۔</p>
<p>ٹک ٹاک کے وکیل نے دلیل دیا کہ امریکی حکومت کسی کو اظہار رائے کی آزادی سے نہیں روک سکتی جب کہ عدالت کو ایپ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے درمیانہ راستہ نکالنا چاہیے۔</p>
<p>ٹک ٹاک کے کانٹینٹ کریئیٹرز کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت مواد تخلیق کاروں کی آواز کو بند یا دبا نہیں سکتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250493"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی حکومت کی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ چین ٹک ٹاک کو امریکا کے خلاف ہتھیار کے طور پر تیار کر رہا ہے، جس سے کبھی بھی نقصان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کی 9 رکنی بینچ نے ٹک ٹاک کی درخواست پر سماعت کی، تاہم جیوری نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cz9g91gn5ddo"><strong>بی بی سی</strong></a> کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے ججز حکومتی فیصلے کی تائید کرنے کے حق میں لگتے ہیں اور ممکنہ طور پر عدالت ٹک ٹاک کی درخواست مسترد کردے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ قانون نافذ ہونے سے قبل یعنی 19 جنوری سے قبل اپنا فیصلہ سنائے گی۔</p>
<p>امریکی حکومت نے قانون بنا رکھا ہے کہ ٹک ٹاک 19 جنوری تک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کر دے، دوسری صورت میں ایپ پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>امریکی حکومت نے گزشتہ برس پارلیمنٹ سے قوانین کو منظور کروانے کے بعد صدر کے دستخط ہوتے ہی نافذ کردیا تھا۔</p>
<p>قانون میں ٹک ٹاک کو 19 جنوری 2025 تک مہلت دی گئی تھی کہ وہ ایپ کے امریکی مالکانہ حقوق امریکیوں کو فروخت کرے، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی نہ لگانے کا عندیہ دیا ہے اور انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے کہ ایپ پر پابندی نہ لگائے جائے بلکہ ایپ کی قسمت کا فیصلہ نئی امریکی حکومت پر چھوڑا جائے جو کہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے اقدامات کیے تھے لیکن اس وقت عدالتوں کی جانب سے ٹک ٹاک کو ریلیف ملا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250532</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jan 2025 17:55:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/11141245343ef7a.jpg?r=141252" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/11141245343ef7a.jpg?r=141252"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
