<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 11:12:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 11:12:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا: مادورو نے تیسری بار صدارتی عہدے کا حلف اٹھالیا، امریکا کا گرفتاری کیلئے انعامی رقم میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250548/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی امریکی ملک وینیزویلا کے نکولس مادورو کے تیسری بار صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد امریکا نے ان کی گرفتاری کے لیے انعامی رقم میں اضافہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق 2013 میں پہلی بار وینزویلا کے صدر منتخب ہونے والے رہنما کو گزشتہ سال جولائی کے انتخابات میں عدالت عظمیٰ اور انتخابی حکام نے کامیاب قرار دیا تھا تاہم ان کی فتح کے تفصیلی اعداد و شمار اب تک سامنے نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ نکولس مادورو کی 12 سالہ حکمرانی کے دوران وینزویلا شدید اقتصادی اور معاشی بحران کا شکار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں تیسری صدارتی مدت کے لیے حلف اٹھانے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’وینیزویلا کے کمانڈر ان چیف اور صدر کے طور پر آئین کے مطابق اپنی خدمات انجام دیں گے،  انہیں جو اختیار دیا گیا وہ کسی غیر ملکی حکومت، صدر یا کسی حکومت نے نہیں دیا، وینزویلا میں کوئی بھی صدر کو زبردستی مسلط نہیں کر سکتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی اپوزیشن نے جولائی میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز جنہیں امریکا سمیت متعدد ممالک نے صدر تسلیم کیا ہے، نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ دوسری جانب بین  الاقوامی انتخابی مبصرین نے بھی نتائج پر سوال اٹھائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جو بائیڈن انتظامیہ نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں  نکولس مادورو کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے کے لیے رقم میں اضافہ کیا ہے، مجموعی رقم کو 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح امریکا نے وینزویلا کے وزیر داخلہ اور وزیردفاع کی گرفتاری پر بھی ڈیڑھ، ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے وینزویلا کے صدر اور دیگر پر کرپشن اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں، 2020 میں نکولس مادورو نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی امریکی ملک وینیزویلا کے نکولس مادورو کے تیسری بار صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد امریکا نے ان کی گرفتاری کے لیے انعامی رقم میں اضافہ کردیا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق 2013 میں پہلی بار وینزویلا کے صدر منتخب ہونے والے رہنما کو گزشتہ سال جولائی کے انتخابات میں عدالت عظمیٰ اور انتخابی حکام نے کامیاب قرار دیا تھا تاہم ان کی فتح کے تفصیلی اعداد و شمار اب تک سامنے نہیں آئے۔</p>
<p>خیال رہے کہ نکولس مادورو کی 12 سالہ حکمرانی کے دوران وینزویلا شدید اقتصادی اور معاشی بحران کا شکار رہا ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں تیسری صدارتی مدت کے لیے حلف اٹھانے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’وینیزویلا کے کمانڈر ان چیف اور صدر کے طور پر آئین کے مطابق اپنی خدمات انجام دیں گے،  انہیں جو اختیار دیا گیا وہ کسی غیر ملکی حکومت، صدر یا کسی حکومت نے نہیں دیا، وینزویلا میں کوئی بھی صدر کو زبردستی مسلط نہیں کر سکتا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وینزویلا کی اپوزیشن نے جولائی میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز جنہیں امریکا سمیت متعدد ممالک نے صدر تسلیم کیا ہے، نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جبکہ دوسری جانب بین  الاقوامی انتخابی مبصرین نے بھی نتائج پر سوال اٹھائے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب جو بائیڈن انتظامیہ نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں  نکولس مادورو کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے کے لیے رقم میں اضافہ کیا ہے، مجموعی رقم کو 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کردیا گیا ہے۔</p>
<p>اسی طرح امریکا نے وینزویلا کے وزیر داخلہ اور وزیردفاع کی گرفتاری پر بھی ڈیڑھ، ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہے۔</p>
<p>امریکا نے وینزویلا کے صدر اور دیگر پر کرپشن اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے ہیں، 2020 میں نکولس مادورو نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250548</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jan 2025 19:25:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/1119214327392a7.png?r=192546" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/1119214327392a7.png?r=192546"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
