<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:42:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:42:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان حکومت نے کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ کے اضلاع کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250572/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن،  دونوں بینچوں کی مخالفت کے باوجود بلوچستان حکومت نے 3 اضلاع کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ پر مشتمل لیویز فورس کو فوری طور پر صوبائی پولیس فورس میں ضم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1884633/balochistan-levies-merged-into-police-despite-opposition"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق یہ فیصلہ چیف سیکریٹری شکیل قادر کی زیر صدارت اجلاس میں ضلعی لیویز سے ضلعی پولیس کو آپریشنل کمانڈ منتقل کرنے کے حوالے سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا، اس حوالے سے ہفتے کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے تحت مذکورہ تینوں اضلاع میں افسران اور دیگر عملے سمیت مجموعی طور پر 1116 لیویز اہلکار بلوچستان پولیس میں تعینات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250475"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں لیویز فورس کے ڈائریکٹر جنرل نے محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں لیویز اہلکاروں، کوئٹہ لیویز کو کوئٹہ پولیس میں، گوادر لیویز کو گوادر پولیس میں اور لسبیلہ لیویز کو لسبیلہ اور حب پولیس میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تینوں اضلاع میں لیویز فورس کے مجموعی طور پر 1116 اہلکاروں کو اب پولیس فورس میں ضم کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان عہدوں میں اسلحہ انسپکٹر، کلرک، رسالدار، نائب رسالدار، دفادار، خاصہ دار، جمعدار، حوالدار، سپاہی، وائرلیس آپریٹرز اور فٹ مین شامل ہیں، جو گریڈ 1 سے گریڈ 11 تک کے عہدوں تک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی طور پر کوئٹہ سے 346، گوادر سے 381، لسبیلہ سے 220 اور حب سے 219 لیویز اہلکاروں کو ان اضلاع کی پولیس فورس میں ضم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیویز، تھانوں، گاڑیوں، اسلحہ اور دیگر سرکاری سازوسامان کو مکمل جائزے کے بعد منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے کچھ ارکان نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1103614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ارکان صوبائی اسمبلی نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اس فیصلے کو واپس لے، اور لیویز کو جدید ہتھیاروں، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر ضروری آلات سے لیس کرے تاکہ فورس کو مضبوط بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جام یوسف کی سربراہی میں مخلوط حکومت کے دور میں بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 2008 میں نواب اسلم رئیسانی کی قیادت والی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اس فیصلے کو واپس لے لیا اور لیویز کو ایک علیحدہ فورس کے طور پر بحال کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیویز فورس بلوچستان کے تقریباً 90 فیصد حصے کی پولیسنگ کی ذمہ دار تھی، جب کہ باقی 10 فیصد حصے میں پولیس کام کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن،  دونوں بینچوں کی مخالفت کے باوجود بلوچستان حکومت نے 3 اضلاع کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ پر مشتمل لیویز فورس کو فوری طور پر صوبائی پولیس فورس میں ضم کر دیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1884633/balochistan-levies-merged-into-police-despite-opposition">رپورٹ</a> کے مطابق یہ فیصلہ چیف سیکریٹری شکیل قادر کی زیر صدارت اجلاس میں ضلعی لیویز سے ضلعی پولیس کو آپریشنل کمانڈ منتقل کرنے کے حوالے سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا، اس حوالے سے ہفتے کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے کے تحت مذکورہ تینوں اضلاع میں افسران اور دیگر عملے سمیت مجموعی طور پر 1116 لیویز اہلکار بلوچستان پولیس میں تعینات کیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250475"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں لیویز فورس کے ڈائریکٹر جنرل نے محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں لیویز اہلکاروں، کوئٹہ لیویز کو کوئٹہ پولیس میں، گوادر لیویز کو گوادر پولیس میں اور لسبیلہ لیویز کو لسبیلہ اور حب پولیس میں ضم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔</p>
<p>ان تینوں اضلاع میں لیویز فورس کے مجموعی طور پر 1116 اہلکاروں کو اب پولیس فورس میں ضم کردیا گیا ہے۔</p>
<p>ان عہدوں میں اسلحہ انسپکٹر، کلرک، رسالدار، نائب رسالدار، دفادار، خاصہ دار، جمعدار، حوالدار، سپاہی، وائرلیس آپریٹرز اور فٹ مین شامل ہیں، جو گریڈ 1 سے گریڈ 11 تک کے عہدوں تک ہیں۔</p>
<p>خصوصی طور پر کوئٹہ سے 346، گوادر سے 381، لسبیلہ سے 220 اور حب سے 219 لیویز اہلکاروں کو ان اضلاع کی پولیس فورس میں ضم کیا گیا ہے۔</p>
<p>لیویز، تھانوں، گاڑیوں، اسلحہ اور دیگر سرکاری سازوسامان کو مکمل جائزے کے بعد منتقل کیا جائے گا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے کچھ ارکان نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1103614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان ارکان صوبائی اسمبلی نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اس فیصلے کو واپس لے، اور لیویز کو جدید ہتھیاروں، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر ضروری آلات سے لیس کرے تاکہ فورس کو مضبوط بنایا جاسکے۔</p>
<p>واضح رہے کہ جام یوسف کی سربراہی میں مخلوط حکومت کے دور میں بلوچستان میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم 2008 میں نواب اسلم رئیسانی کی قیادت والی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے اس فیصلے کو واپس لے لیا اور لیویز کو ایک علیحدہ فورس کے طور پر بحال کر دیا۔</p>
<p>لیویز فورس بلوچستان کے تقریباً 90 فیصد حصے کی پولیسنگ کی ذمہ دار تھی، جب کہ باقی 10 فیصد حصے میں پولیس کام کرتی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250572</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jan 2025 10:16:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/12101506911b24e.jpg?r=101627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/12101506911b24e.jpg?r=101627"/>
        <media:title>بلوچستان اسمبلی کے ارکان نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کی مخالفت کی تھی
— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
