<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 13:17:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 13:17:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈی چوک احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی 13 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250718/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کی 13 درخواستیں 7 فروری تک منظور کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ڈی چوک میں پی ٹی آئی احتجاج کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 13 مقدمات میں عبوری درخواست ضمانتیں دائر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران فائلیں تیار کر کے نہ آنے پر جج نے وکیل خالد یوسف چوہدری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، میری عدالت میں آکر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249240"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں وکلا کی جانب سے تمام عبوری درخواست ضمانتوں پر 7 فروری کی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاضل جج نے وکلا سے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں 7 فروری کی تاریخ دیگر ملزمان کی بھی ہے، لیکن کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت وکلا کی جانب سے ملزمہ بشریٰ بی بی کا سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے پر جج طاہر عباس سپرا نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ کہتے ہیں وی آئی پی پروٹوکول ملے ایسا نہیں ہو سکتا، میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، میں فیصلہ لکھوا رہا تھا وہ چھوڑ کر آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں، جب عدالتی حکم نامہ نکلے گا اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے دوران سماعت وکیل ڈاکٹر قدیر خواجہ کے بولنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یقین کرنا سیکھیں، عدالت پر یقین کیا کریں، آپ یقین کریں گے تو لوگ پھر آپ پر یقین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے 5، 5 ہزار روپے مچلکوں کے عوض بشریٰ بی بی کی 13 عبوری درخواست ضمانتیں 7 فروری تک منظور کرلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں، سابق خاتون اول کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ اور تھانہ کراچی کمپنی میں 2، 2 مقدمات درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کی 13 درخواستیں 7 فروری تک منظور کرلی۔</p>
<p>اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ڈی چوک میں پی ٹی آئی احتجاج کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔</p>
<p>دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 13 مقدمات میں عبوری درخواست ضمانتیں دائر کی گئیں۔</p>
<p>سماعت کے دوران فائلیں تیار کر کے نہ آنے پر جج نے وکیل خالد یوسف چوہدری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، میری عدالت میں آکر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249240"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت میں وکلا کی جانب سے تمام عبوری درخواست ضمانتوں پر 7 فروری کی تاریخ مقرر کرنے کی استدعا کی گئی۔</p>
<p>فاضل جج نے وکلا سے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں 7 فروری کی تاریخ دیگر ملزمان کی بھی ہے، لیکن کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔</p>
<p>دوران سماعت وکلا کی جانب سے ملزمہ بشریٰ بی بی کا سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے پر جج طاہر عباس سپرا نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ کہتے ہیں وی آئی پی پروٹوکول ملے ایسا نہیں ہو سکتا، میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، میں فیصلہ لکھوا رہا تھا وہ چھوڑ کر آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں، جب عدالتی حکم نامہ نکلے گا اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔</p>
<p>عدالت نے دوران سماعت وکیل ڈاکٹر قدیر خواجہ کے بولنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یقین کرنا سیکھیں، عدالت پر یقین کیا کریں، آپ یقین کریں گے تو لوگ پھر آپ پر یقین کریں گے۔</p>
<p>عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے 5، 5 ہزار روپے مچلکوں کے عوض بشریٰ بی بی کی 13 عبوری درخواست ضمانتیں 7 فروری تک منظور کرلیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں، سابق خاتون اول کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ اور تھانہ کراچی کمپنی میں 2، 2 مقدمات درج ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔</p>
<h1><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h1>
<p>یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250718</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jan 2025 15:33:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/14130155844a87b.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/14130155844a87b.png"/>
        <media:title>جج نے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اورانگوٹھا لگوانے پر اظہار برہمی کیا — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
