<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:47:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:47:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں ٹک ٹاک کو ایکس کو فروخت کیے جانے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250731/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن پلیٹ فارم ٹک ٹاک کو امریکا میں مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو بیچے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم فوری طور پر دونوں کمپنیوں نے ایسے امکانات کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایجنسی پریس فرانس‘ (&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1885125/china-exploring-possible-sale-of-us-tiktok-to-musk-report"&gt;&lt;strong&gt;اے ایف پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) نے امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چینی سرکاری عہدیداروں نے اس بات پر غور کرنا شروع کردیا ہے کہ پابندی کی صورت میں ٹک ٹاک کو ایکس کے مالک ایلون مسک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بیجنگ میں مذکورہ معاملے پر بحث شروع کردی گئی ہے اور اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ امریکا میں پابندی کی صورت میں ٹک ٹاک کو ایکس کمپنی کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250425"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق چینی سرکاری حکام چاہتے ہیں کہ امریکا میں ٹک ٹاک کے آپریشنز کو ایلون مسک کی کمپنی ایکس کو فروخت کیے جائیں جو کہ وہاں کے ٹک ٹاک کے آپریشنز کو ایکس کے ساتھ چلائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے چینی حکام کی جانب سے امریکا کے ٹک ٹاک شیئرز کو ایلون مسک کو فروخت کی بات چیت کو انتہائی ابتدائی قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ابھی ان خیالات کا کوئی حل نہیں نکلا، حکام مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹک ٹک کے امریکا میں آپریشنز کے شیئر کی قیمت 40 سے 50 ارب کے درمیان ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس اور ایکس کے عہدیداروں نے مذکورہ افواہوں کو قیاس آرائیں اور تخلیقی خبریں قرار دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے معذرت کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ امریکی حکومت نے 2024 میں نیا قانون بنایا تھا، جس کے مطابق ٹک ٹاک کو اپنے امریکی آپریشنز ہر حال میں امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنے پڑیں گے، دوسری صورت میں ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے مطابق ٹک ٹاک کو اپنے آپریشنز 19 جنوری 2025 تک امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کرنے پڑیں گے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی معاملے پر ٹک ٹاک نے امریکی عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی تھیں، جہاں سے ان کی درخواستیں مسترد ہوئیں اور اب اس کی آخری درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ عدالت 19 جنوری سے قبل فیصلہ سنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ٹک ٹاک قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، مذکورہ ایپ کے ذریعے بیجنگ امریکی شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے جب کہ ٹک ٹاک ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن پلیٹ فارم ٹک ٹاک کو امریکا میں مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو بیچے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم فوری طور پر دونوں کمپنیوں نے ایسے امکانات کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’ایجنسی پریس فرانس‘ (<a href="https://www.dawn.com/news/1885125/china-exploring-possible-sale-of-us-tiktok-to-musk-report"><strong>اے ایف پی</strong></a>) نے امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چینی سرکاری عہدیداروں نے اس بات پر غور کرنا شروع کردیا ہے کہ پابندی کی صورت میں ٹک ٹاک کو ایکس کے مالک ایلون مسک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بیجنگ میں مذکورہ معاملے پر بحث شروع کردی گئی ہے اور اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ امریکا میں پابندی کی صورت میں ٹک ٹاک کو ایکس کمپنی کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250425"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق چینی سرکاری حکام چاہتے ہیں کہ امریکا میں ٹک ٹاک کے آپریشنز کو ایلون مسک کی کمپنی ایکس کو فروخت کیے جائیں جو کہ وہاں کے ٹک ٹاک کے آپریشنز کو ایکس کے ساتھ چلائے۔</p>
<p>ذرائع نے چینی حکام کی جانب سے امریکا کے ٹک ٹاک شیئرز کو ایلون مسک کو فروخت کی بات چیت کو انتہائی ابتدائی قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ابھی ان خیالات کا کوئی حل نہیں نکلا، حکام مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹک ٹک کے امریکا میں آپریشنز کے شیئر کی قیمت 40 سے 50 ارب کے درمیان ہوگی۔</p>
<p>دوسری جانب ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس اور ایکس کے عہدیداروں نے مذکورہ افواہوں کو قیاس آرائیں اور تخلیقی خبریں قرار دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے معذرت کردی۔</p>
<p>خیال رہے کہ امریکی حکومت نے 2024 میں نیا قانون بنایا تھا، جس کے مطابق ٹک ٹاک کو اپنے امریکی آپریشنز ہر حال میں امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنے پڑیں گے، دوسری صورت میں ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>قانون کے مطابق ٹک ٹاک کو اپنے آپریشنز 19 جنوری 2025 تک امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کرنے پڑیں گے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>اسی معاملے پر ٹک ٹاک نے امریکی عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی تھیں، جہاں سے ان کی درخواستیں مسترد ہوئیں اور اب اس کی آخری درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ عدالت 19 جنوری سے قبل فیصلہ سنائے گی۔</p>
<p>امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ٹک ٹاک قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، مذکورہ ایپ کے ذریعے بیجنگ امریکی شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے جب کہ ٹک ٹاک ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250731</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jan 2025 15:54:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/14153436c08358e.jpg?r=153500" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/14153436c08358e.jpg?r=153500"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
