<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 00:18:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 00:18:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1250880/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم اور ریگولر بینچ کے اختیار سماعت سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیےجسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کا فیصلہ کر چکے ہیں، آج کیس نہیں چل سکتا، پیر کو پہلے والا 3 رکنی بینچ ہی کیس کو سنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کو چلانے کے لیے نیا بینچ بنانا پڑے گا جسے پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں، جسٹس عرفان سعادت خان پہلے ہی بینچ میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاضل جج نے کہا کہ جائزہ لینا ہے کہ آرٹیکل 191 اے کے تحت ریگولر بینچز سے اختیار سماعت لیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ ہمیں تھوڑا وقت دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس پیر کو فکس ہونے دیں پھر مہلت کو دیکھ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل آفس کو معاونت کا نوٹس جاری کر دیا اور کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دو روز قبل انکم ٹیکس کیس میں پیر کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے تحریری حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 191 اے کے تحت بینچ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے پیر کو کسٹم ایکٹ کے سیکشن 221 اے کی ذیلی شق 2 کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ معاملہ آئین کی تشریح کا ہے اور موجودہ آئینی انتظام کے تحت اس بینچ کو یہ اختیار حاصل نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سے دائرہ اختیار واپس لیا جاسکتا ہے؟ یہ عدلیہ کی آزادی کا سوال ہے، آرٹیکل 191 اے کے ذریعے عدالت سے دائرہ اختیار چھینا گیا ہے، اس عدالت کے اندر الگ بینچ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی، بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم اور ریگولر بینچ کے اختیار سماعت سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیےجسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کا فیصلہ کر چکے ہیں، آج کیس نہیں چل سکتا، پیر کو پہلے والا 3 رکنی بینچ ہی کیس کو سنے گا۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس کو چلانے کے لیے نیا بینچ بنانا پڑے گا جسے پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں، جسٹس عرفان سعادت خان پہلے ہی بینچ میں شامل تھے۔</p>
<p>فاضل جج نے کہا کہ جائزہ لینا ہے کہ آرٹیکل 191 اے کے تحت ریگولر بینچز سے اختیار سماعت لیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ ہمیں تھوڑا وقت دیں۔</p>
<p>دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیس پیر کو فکس ہونے دیں پھر مہلت کو دیکھ لیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل آفس کو معاونت کا نوٹس جاری کر دیا اور کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دو روز قبل انکم ٹیکس کیس میں پیر کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے تحریری حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 191 اے کے تحت بینچ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا گیا تھا۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے پیر کو کسٹم ایکٹ کے سیکشن 221 اے کی ذیلی شق 2 کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ معاملہ آئین کی تشریح کا ہے اور موجودہ آئینی انتظام کے تحت اس بینچ کو یہ اختیار حاصل نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سے دائرہ اختیار واپس لیا جاسکتا ہے؟ یہ عدلیہ کی آزادی کا سوال ہے، آرٹیکل 191 اے کے ذریعے عدالت سے دائرہ اختیار چھینا گیا ہے، اس عدالت کے اندر الگ بینچ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟</p>
<p>سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی، بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1250880</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jan 2025 10:55:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/16103121814f015.jpg?r=103208" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/16103121814f015.jpg?r=103208"/>
        <media:title>فائل فوٹو—
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
