<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:49:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:49:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں ٹک ٹاک بند</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251139/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے نئے قانون کے تحت  امریکا میں اپنی سروسز 19 جنوری کا آغاز ہوتے ہی بند کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/01/18/business/trump-tiktok-ban/index.html"&gt;&lt;strong&gt;’سی این این‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی حکومت کے 2024 کے بنائے گئے قانون کے تحت چینی کمپنی نے ایپلی کیشن کی سروسز بند کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک نے 19 جنوری کے آغاز اور نئے قانون کے نفاذ سے دو گھنٹے قبل ہی اپنی سروس بند کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپلی کیشن سروسز بند ہونے کے بعد امریکی صارفین ٹک ٹاک کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے جب کہ جن کے پاس ایپلی کیشن پہلے سے ہی موجود تھی، وہ بھی اسے نہیں چلا پا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک ایپلی کیشن کو کھولتے ہی امریکی صارفین کو ایپ پر ایک تحریری میسیج پڑھنے کو مل رہا ہے، جس میں ٹک ٹاک کی سروسز کی عدم دستیابی سے متعلق صارفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسیج میں امریکی حکومت کے نئے قانون کا حوالہ دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کی سروسز پر وہاں پابندی نافذ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی میسیج میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حلف اٹھاتے ہی ٹک ٹاک کو ریلیف دینے کا پیغام دے کر اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ جلد ہی ایپ کی سروسز امریکا بھر میں بحال کردی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ امریکی حکومت نے 2024 میں قانون بنایا تھا کہ ٹک ٹاک امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اس لیے ایپلی کیشن انتظامیہ کمپنی کے امریکی آپریشنز کو کسی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرے، دوسری صورت میں ایپ پر 19 جنوری 2025 کو پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ قانون کے خلاف ٹک ٹاک نے امریکی عدالتوں میں بھی درخواستیں دائر کی تھیں لیکن اسے کہیں سے ریلیف نہیں ملا، جس وجہ سے کمپنی نے ایپلی کیشن سروسز کو 19 جنوری کو وہاں بند کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ حلف اٹھاتے ہی ٹک ٹاک کو فوری طور پر ریلیف دیں گے، وہ ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت میں 60 سے 90 دن کا اضافہ کرکے ایپلی کیشن کے تنازع کا سیاسی حل نکالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی مہم کا آغاز کیا تھا، وہ 2016 میں پہلی بار امریکی صدر بنے تھے اور انہوں نے ٹک ٹاک کو بند کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن اس بار وہ ایپلی کیشن کے حق میں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے نئے قانون کے تحت  امریکا میں اپنی سروسز 19 جنوری کا آغاز ہوتے ہی بند کردیں۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/01/18/business/trump-tiktok-ban/index.html"><strong>’سی این این‘</strong></a> کے مطابق امریکی حکومت کے 2024 کے بنائے گئے قانون کے تحت چینی کمپنی نے ایپلی کیشن کی سروسز بند کردیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک نے 19 جنوری کے آغاز اور نئے قانون کے نفاذ سے دو گھنٹے قبل ہی اپنی سروس بند کردی۔</p>
<p>ایپلی کیشن سروسز بند ہونے کے بعد امریکی صارفین ٹک ٹاک کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے جب کہ جن کے پاس ایپلی کیشن پہلے سے ہی موجود تھی، وہ بھی اسے نہیں چلا پا رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹک ٹاک ایپلی کیشن کو کھولتے ہی امریکی صارفین کو ایپ پر ایک تحریری میسیج پڑھنے کو مل رہا ہے، جس میں ٹک ٹاک کی سروسز کی عدم دستیابی سے متعلق صارفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>میسیج میں امریکی حکومت کے نئے قانون کا حوالہ دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کی سروسز پر وہاں پابندی نافذ کی گئی۔</p>
<p>ساتھ ہی میسیج میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حلف اٹھاتے ہی ٹک ٹاک کو ریلیف دینے کا پیغام دے کر اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ جلد ہی ایپ کی سروسز امریکا بھر میں بحال کردی جائیں گی۔</p>
<p>خیال رہے کہ امریکی حکومت نے 2024 میں قانون بنایا تھا کہ ٹک ٹاک امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اس لیے ایپلی کیشن انتظامیہ کمپنی کے امریکی آپریشنز کو کسی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرے، دوسری صورت میں ایپ پر 19 جنوری 2025 کو پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>مذکورہ قانون کے خلاف ٹک ٹاک نے امریکی عدالتوں میں بھی درخواستیں دائر کی تھیں لیکن اسے کہیں سے ریلیف نہیں ملا، جس وجہ سے کمپنی نے ایپلی کیشن سروسز کو 19 جنوری کو وہاں بند کردیا۔</p>
<p>تاہم نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ حلف اٹھاتے ہی ٹک ٹاک کو فوری طور پر ریلیف دیں گے، وہ ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت میں 60 سے 90 دن کا اضافہ کرکے ایپلی کیشن کے تنازع کا سیاسی حل نکالیں گے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی مہم کا آغاز کیا تھا، وہ 2016 میں پہلی بار امریکی صدر بنے تھے اور انہوں نے ٹک ٹاک کو بند کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن اس بار وہ ایپلی کیشن کے حق میں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251139</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 13:38:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/201216055c0da7c.jpg?r=121718" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/201216055c0da7c.jpg?r=121718"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
