<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:53:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:53:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>منی ٹریل ثابت کرنا تو بہت مشکل ہے، یہ تو فائز عیسٰی بھی نہیں کرسکے تھے، جسٹس کیانی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251144/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ منی ٹریل ثابت کرنا تو بہت مشکل کام ہے، منی ٹریل کا ثبوت تو قاضی فائز عیسٰی بھی پیش نہیں کر سکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہری ڈاکٹر تاشفین خان کی نیب کال اَپ نوٹس کے خلاف درخواست پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیب نے مبینہ منی لانڈرنگ پر ڈاکٹر تاشفین کو طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ قانونی طریقے سے پیسہ باہر لے کر گئے، منی ٹریل موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ منی ٹریل کا ثبوت لائیں تو میں درخواست منظور کر لوں گا، منی ٹریل ثابت کرنا تو بہت مشکل کام ہے، منی ٹریل کا ثبوت تو قاضی فائز عیسٰی بھی پیش نہیں کر سکے تھے، عدالت نے کیس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1133152"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیا تھا جب وہ سپریم کورٹ کے سینئر جج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل بینچ نے طویل سماعتوں کے بعد سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست منظور کرلی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ منی ٹریل ثابت کرنا تو بہت مشکل کام ہے، منی ٹریل کا ثبوت تو قاضی فائز عیسٰی بھی پیش نہیں کر سکے تھے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہری ڈاکٹر تاشفین خان کی نیب کال اَپ نوٹس کے خلاف درخواست پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔</p>
<p>نیب نے مبینہ منی لانڈرنگ پر ڈاکٹر تاشفین کو طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ قانونی طریقے سے پیسہ باہر لے کر گئے، منی ٹریل موجود ہے۔</p>
<p>جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ منی ٹریل کا ثبوت لائیں تو میں درخواست منظور کر لوں گا، منی ٹریل ثابت کرنا تو بہت مشکل کام ہے، منی ٹریل کا ثبوت تو قاضی فائز عیسٰی بھی پیش نہیں کر سکے تھے، عدالت نے کیس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1133152"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیا تھا جب وہ سپریم کورٹ کے سینئر جج تھے۔</p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔</p>
<p>صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل بینچ نے طویل سماعتوں کے بعد سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست منظور کرلی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251144</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 15:46:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/201341269763ca4.png?r=154640" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/201341269763ca4.png?r=154640"/>
        <media:title>— فوٹو: آئی ایچ سی ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
