<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 06:58:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 06:58:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیف علی خان حملہ: گرفتارمؤکل کے بنگلہ دیشی ہونے کے دعوے جھوٹے ہیں، وکیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251159/</link>
      <description>&lt;p&gt;بولی وڈ اسٹار سیف علی خان پر حملے کے الزام میں پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مؤکل کے بنگلہ دیشی ہونے سے متعلق پولیس کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب معاملے نے نیارخ اختیارکرلیا، پولیس کے زیرحراست محمد شریف الاسلام شہزاد کے وکیل نے اپنے مؤکل پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کی تحقیقات پر بھی سوال اٹھا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://https://timesofindia.indiatimes.com/india/saif-ali-khan-attack-accuseds-lawyer-claims-police-have-no-proof-he-is-a-bangladeshi/articleshow/117371165.cms"&gt;&lt;strong&gt;ٹائمزآف انڈیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سیف علی خان پر حملہ کیس کے مبینہ ملزم کے وکیل سندیپ شیکھانے کا کہنا ہے کہ پولیس بناچھان بین اورٹھوس شواہد ان کے مؤکل کو بنگلہ دیشی شہری بتا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251096"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندیپ شیکھانے کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے صرف5 روز کے لیے محمد شریف الاسلام شہزاد کو پولیس کی تحویل میں رکھنے کی اجازت دی  ہے جب کہ اسی عرصے میں پولیس کو تمام شواہد جمع کروانے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے  مؤکل سے متعلق پولیس کا دعویٰ غلط ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں، ان کے  مؤکل گزشتہ 7 سال سے اہل خانہ سمیت ممبئی میں رہائش پذیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مبینہ ملزم کے وکیل نے پولیس کے دعووں کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ ان کے  مؤکل کے بنگلہ دیشی ہونے سے متعلق دعویٰ غلط ہے، تاہم انہوں نے اپنے  مؤکل کی شہریت کی وضاحت نہیں کی کہ ان کے پاس کہاں کی شہریت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ  ممبئی پولیس نے 19جنوری کو محمد شریف الاسلام شہزاد کو گرفتار کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد ان کے بنگلہ دیشی شہری ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو ممبئی کے مضافات سے گرفتار کیا گیا، جو وجے داس کا نام استعمال کررہا تھا لیکن اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اصلی نام محمد شریف الاسلام شہزاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ حملہ آور کے حوالے سے پولیس کا مزید کہنا تھا کہ وہ 5 یا 6 ماہ قبل بنگلہ دیش سے ممبئی آئے اور ایک ہاؤس کیپنگ ایجنسی میں کام کرتے رہے لیکن شہزاد کے وکیل کا تمام الزامات کو بے بنیاد ٹھہراتے ہوئے کہنا ہے کہ ان کے مؤکل گزشتہ سات برس سے زائد عرصے سے اپنے خاندان کے ساتھ ممبئی میں مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیف علی خان پر 16 جنوری کی رات دیر گئے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا تھا اور پولیس نے پہلے بھی ایک مبینہ ملزم سے تفتیش کی تھی، تاہم اسے گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پولیس نے ایک مبینہ ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم کو تعلق بنگلہ دیش سے ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بولی وڈ اسٹار سیف علی خان پر حملے کے الزام میں پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مؤکل کے بنگلہ دیشی ہونے سے متعلق پولیس کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔</p>
<p>تاہم اب معاملے نے نیارخ اختیارکرلیا، پولیس کے زیرحراست محمد شریف الاسلام شہزاد کے وکیل نے اپنے مؤکل پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کی تحقیقات پر بھی سوال اٹھا دیے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://https://timesofindia.indiatimes.com/india/saif-ali-khan-attack-accuseds-lawyer-claims-police-have-no-proof-he-is-a-bangladeshi/articleshow/117371165.cms"><strong>ٹائمزآف انڈیا</strong></a> کے مطابق سیف علی خان پر حملہ کیس کے مبینہ ملزم کے وکیل سندیپ شیکھانے کا کہنا ہے کہ پولیس بناچھان بین اورٹھوس شواہد ان کے مؤکل کو بنگلہ دیشی شہری بتا رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251096"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سندیپ شیکھانے کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے صرف5 روز کے لیے محمد شریف الاسلام شہزاد کو پولیس کی تحویل میں رکھنے کی اجازت دی  ہے جب کہ اسی عرصے میں پولیس کو تمام شواہد جمع کروانے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے  مؤکل سے متعلق پولیس کا دعویٰ غلط ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں، ان کے  مؤکل گزشتہ 7 سال سے اہل خانہ سمیت ممبئی میں رہائش پذیر ہیں۔</p>
<p>اگرچہ مبینہ ملزم کے وکیل نے پولیس کے دعووں کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ ان کے  مؤکل کے بنگلہ دیشی ہونے سے متعلق دعویٰ غلط ہے، تاہم انہوں نے اپنے  مؤکل کی شہریت کی وضاحت نہیں کی کہ ان کے پاس کہاں کی شہریت ہے؟</p>
<p>خیال رہے کہ  ممبئی پولیس نے 19جنوری کو محمد شریف الاسلام شہزاد کو گرفتار کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد ان کے بنگلہ دیشی شہری ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔</p>
<p>ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو ممبئی کے مضافات سے گرفتار کیا گیا، جو وجے داس کا نام استعمال کررہا تھا لیکن اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اصلی نام محمد شریف الاسلام شہزاد ہے۔</p>
<p>مبینہ حملہ آور کے حوالے سے پولیس کا مزید کہنا تھا کہ وہ 5 یا 6 ماہ قبل بنگلہ دیش سے ممبئی آئے اور ایک ہاؤس کیپنگ ایجنسی میں کام کرتے رہے لیکن شہزاد کے وکیل کا تمام الزامات کو بے بنیاد ٹھہراتے ہوئے کہنا ہے کہ ان کے مؤکل گزشتہ سات برس سے زائد عرصے سے اپنے خاندان کے ساتھ ممبئی میں مقیم ہیں۔</p>
<p>سیف علی خان پر 16 جنوری کی رات دیر گئے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا تھا اور پولیس نے پہلے بھی ایک مبینہ ملزم سے تفتیش کی تھی، تاہم اسے گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>اب پولیس نے ایک مبینہ ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم کو تعلق بنگلہ دیش سے ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251159</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jan 2025 17:43:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/201653001d12a2c.png?r=165358" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/201653001d12a2c.png?r=165358"/>
        <media:title>— فوٹو: ہندوستان ٹائمز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
