<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:20:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 15:20:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی ششماہی: غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کے اخراج میں 114 فیصد اضافہ ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251201/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈ کے اخراج میں 114 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1886695/repatriation-of-profit-surges-114pc"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بچانے کے لیے منافع کے اخراج کو محدود کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دیگر سخت شرائط کے ساتھ ساتھ پاکستان پر 37 ماہ کے نئے 7 ارب ڈالر کے قرض توسیع پروگرام کو حاصل کرنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی درآمدات اور بیرونی ترسیلات پر پابندیوں کو نرم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان نے ستمبر 2024 میں نئے قرض توسیعی معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر کی قسط حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 جولائی تا دسمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈ بڑھ کر ایک ارب 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جس کا حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران صرف 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے مالی سال میں جہاں آئی ایم ایف کی جانب سے قرض توسیعی پروگرام کی مد میں رقم موصول ہوئی، وہیں ترسیلات زر میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 33 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رقم کے حصول کی وجہ سے مرکزی بینک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقریباً 11.5 سے 12 ارب ڈالر کے درمیان برقرار رکھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک مالی سال 2025 کے اختتام پر اپنے ذخائر کو 13 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین معیشت نے کہا کہ غیر محدود منافع کا اخراج غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا اور انہیں پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کی طرف راغب کرے گا، حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں پر سرمایہ کاری کے لیے زور دیا گیا ہے تاہم اب تک نمایاں کامیابی نہیں حاصل ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 20 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر رہی، جس کا حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایک ارب 10 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اضافے کے باوجود ملک میں ایف ڈی آئی کی آمد خطے میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی، جس کا سلسلہ گزشتہ کئی سال سے برقرار ہے، اس ضمن میں برطانیہ کی جانب سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں برطانیہ کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع 42 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین مذکورہ عرصے کے دوران 9 کروڑ 10 لاکھ ڈالر منافع کیساتھ چوتھے نمبر پر رہا، جس کا منافع گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا، دیگر نمایاں سرمایہ کار ممالک میں امریکا، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ شامل ہیں، جن کی سرمایہ کاری پر منافع کا حجم بالترتیب 15 کروڑ 84 لاکھ، 14 کروڑ 50 لاکھ اور 6 کروڑ 8 لاکھ ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 کے اس عرصے  کے دوران پیداواری شعبے نے 43 کروڑ 28 لاکھ ڈالر  کا منافع حاصل کیا، اس کے بعد ہول سیل اور ریٹیل کے شعبے نے 23 کروڑ 20 لاکھ، بجلی، گیس اور دیگر سپلائی نے 16 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کا منافع حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مالیاتی اور کاروباری شعبے نے 16 کروڑ 36 لاکھ ڈالر ، جب کہ ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے شعبے نے مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا منافع حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈ کے اخراج میں 114 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1886695/repatriation-of-profit-surges-114pc">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بچانے کے لیے منافع کے اخراج کو محدود کردیا گیا تھا۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دیگر سخت شرائط کے ساتھ ساتھ پاکستان پر 37 ماہ کے نئے 7 ارب ڈالر کے قرض توسیع پروگرام کو حاصل کرنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی درآمدات اور بیرونی ترسیلات پر پابندیوں کو نرم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>خیال رہے کہ پاکستان نے ستمبر 2024 میں نئے قرض توسیعی معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر کی قسط حاصل کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیر کے روز اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 جولائی تا دسمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈ بڑھ کر ایک ارب 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جس کا حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران صرف 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا تھا۔</p>
<p>نئے مالی سال میں جہاں آئی ایم ایف کی جانب سے قرض توسیعی پروگرام کی مد میں رقم موصول ہوئی، وہیں ترسیلات زر میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 33 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس رقم کے حصول کی وجہ سے مرکزی بینک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقریباً 11.5 سے 12 ارب ڈالر کے درمیان برقرار رکھنے میں مدد ملی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک مالی سال 2025 کے اختتام پر اپنے ذخائر کو 13 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>ماہرین معیشت نے کہا کہ غیر محدود منافع کا اخراج غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا اور انہیں پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کی طرف راغب کرے گا، حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں پر سرمایہ کاری کے لیے زور دیا گیا ہے تاہم اب تک نمایاں کامیابی نہیں حاصل ہوسکی۔</p>
<p>رواں مالی سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 20 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر رہی، جس کا حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ایک ارب 10 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
<p>اس اضافے کے باوجود ملک میں ایف ڈی آئی کی آمد خطے میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی، جس کا سلسلہ گزشتہ کئی سال سے برقرار ہے، اس ضمن میں برطانیہ کی جانب سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی۔</p>
<p>مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں برطانیہ کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع 42 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔</p>
<p>چین مذکورہ عرصے کے دوران 9 کروڑ 10 لاکھ ڈالر منافع کیساتھ چوتھے نمبر پر رہا، جس کا منافع گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا، دیگر نمایاں سرمایہ کار ممالک میں امریکا، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ شامل ہیں، جن کی سرمایہ کاری پر منافع کا حجم بالترتیب 15 کروڑ 84 لاکھ، 14 کروڑ 50 لاکھ اور 6 کروڑ 8 لاکھ ڈالر رہا۔</p>
<p>مالی سال 2025 کے اس عرصے  کے دوران پیداواری شعبے نے 43 کروڑ 28 لاکھ ڈالر  کا منافع حاصل کیا، اس کے بعد ہول سیل اور ریٹیل کے شعبے نے 23 کروڑ 20 لاکھ، بجلی، گیس اور دیگر سپلائی نے 16 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کا منافع حاصل کیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ مالیاتی اور کاروباری شعبے نے 16 کروڑ 36 لاکھ ڈالر ، جب کہ ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے شعبے نے مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا منافع حاصل کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251201</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2025 13:26:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/2111362073e2c46.jpg?r=114205" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/2111362073e2c46.jpg?r=114205"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
