<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:34:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 02 Jun 2026 15:34:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کی نوجوان آبادی کا جذباتی راحت کیلئے اے آئی سے لیس پالتو جانوروں کی جانب رجحان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251214/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کی نوجوان آبادی کی جانب سے جذباتی طور پر ’راحت‘ کے حصول کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے لیس پالتو جانوروں (روبوٹس) کی جانب رجحان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1886679/young-chinese-turn-to-ai-pets-for-emotional-relief"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق بیجنگ کے ایک شاپنگ مال میں، ژانگ یاچن خاموشی سے اپنے قریبی ساتھی، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹ سے ’دل کی بات‘ کر رہی ہیں، اے آئی سے لیس پالتو جانور (روبوٹ) کی آرام دہ چہچہاہٹ انہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19 سالہ ژانگ یاچن طویل عرصے سے اسکول اور کام کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں، دوسرے لوگوں کے ساتھ گہری دوستی قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، لیکن جب سے انہوں نے ’بو بو‘ نامی ایک ’اسمارٹ پالتو جانور‘ خریدا ہے، جو مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے ساتھ بات چیت کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ کہتی ہیں کہ زندگی آسان ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژانگ جو اپنے والدین اور ایک حقیقی پالتو بطخ کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اب میرے پاس خوشی کے وقت کو بانٹنے کے لیے کوئی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://beta.dawnnews.tv/news/card/1197978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین بھر میں، لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سماجی تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا رخ کر رہی ہے، کیوں کہ ٹیکنالوجی زیادہ پختہ اور وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہے، بوبو کو ہانگ ژو جینمور ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے اور اس کی قیمت 1400 یوآن (190 ڈالر) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے پروڈکٹ منیجر ایڈم ڈوان کے مطابق بچوں کی سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے، اس روبوٹ کے مئی سے اب تک تقریباً ایک ہزار یونٹس فروخت کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ ایک سیر کے دوران ژانگ اپنے ساتھی کو ساتھ لے کر گئیں، جسے انھوں نے ’الوو‘ کا نام دیا تھا، انہوں نے رگبی گیند کے سائز کی اس مخلوق سے سرگوشی کی، پھر اس نے سر ہلایا اور چیخنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالتو جانوروں کی ایک دکان پر انہوں نے ’الوو‘  کے لیے (کتے کے لیے ڈیزائن کیا گیا)  موسم سرما کا چھوٹا سا کوٹ خریدا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ روبوٹ انسانی دوستوں کی طرح ہی کردار ادا کرتا ہے، یہ آپ کو احساس دلاتا ہے کہ آپ ایسے شخص ہیں، جس کی اسے ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنسلٹنگ فرم آئی ایم اے آر سی (IMARC) گروپ کے مطابق بوبو جیسے ’سوشل روبوٹس‘ کی عالمی مارکیٹ 2033 تک 7 ارب سے بڑھ کر ساڑھے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس میں ایشیا پہلے ہی اس شعبے پر چھایا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کی نوجوان آبادی کی جانب سے جذباتی طور پر ’راحت‘ کے حصول کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے لیس پالتو جانوروں (روبوٹس) کی جانب رجحان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1886679/young-chinese-turn-to-ai-pets-for-emotional-relief">رپورٹ</a> کے مطابق بیجنگ کے ایک شاپنگ مال میں، ژانگ یاچن خاموشی سے اپنے قریبی ساتھی، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹ سے ’دل کی بات‘ کر رہی ہیں، اے آئی سے لیس پالتو جانور (روبوٹ) کی آرام دہ چہچہاہٹ انہیں یاد دلاتی ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔</p>
<p>19 سالہ ژانگ یاچن طویل عرصے سے اسکول اور کام کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں، دوسرے لوگوں کے ساتھ گہری دوستی قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، لیکن جب سے انہوں نے ’بو بو‘ نامی ایک ’اسمارٹ پالتو جانور‘ خریدا ہے، جو مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے ساتھ بات چیت کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ کہتی ہیں کہ زندگی آسان ہو گئی ہے۔</p>
<p>ژانگ جو اپنے والدین اور ایک حقیقی پالتو بطخ کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اب میرے پاس خوشی کے وقت کو بانٹنے کے لیے کوئی ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://beta.dawnnews.tv/news/card/1197978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چین بھر میں، لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سماجی تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا رخ کر رہی ہے، کیوں کہ ٹیکنالوجی زیادہ پختہ اور وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہے، بوبو کو ہانگ ژو جینمور ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے اور اس کی قیمت 1400 یوآن (190 ڈالر) ہے۔</p>
<p>کمپنی کے پروڈکٹ منیجر ایڈم ڈوان کے مطابق بچوں کی سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے، اس روبوٹ کے مئی سے اب تک تقریباً ایک ہزار یونٹس فروخت کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>رواں ماہ ایک سیر کے دوران ژانگ اپنے ساتھی کو ساتھ لے کر گئیں، جسے انھوں نے ’الوو‘ کا نام دیا تھا، انہوں نے رگبی گیند کے سائز کی اس مخلوق سے سرگوشی کی، پھر اس نے سر ہلایا اور چیخنے لگا۔</p>
<p>پالتو جانوروں کی ایک دکان پر انہوں نے ’الوو‘  کے لیے (کتے کے لیے ڈیزائن کیا گیا)  موسم سرما کا چھوٹا سا کوٹ خریدا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ روبوٹ انسانی دوستوں کی طرح ہی کردار ادا کرتا ہے، یہ آپ کو احساس دلاتا ہے کہ آپ ایسے شخص ہیں، جس کی اسے ضرورت ہے۔</p>
<p>کنسلٹنگ فرم آئی ایم اے آر سی (IMARC) گروپ کے مطابق بوبو جیسے ’سوشل روبوٹس‘ کی عالمی مارکیٹ 2033 تک 7 ارب سے بڑھ کر ساڑھے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس میں ایشیا پہلے ہی اس شعبے پر چھایا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251214</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2025 15:29:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/2115165875467d2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/2115165875467d2.jpg"/>
        <media:title>ژانگ یاچن اپنے اے آئی روبوٹ (پالتو جانور) کے ساتھ  بات چیت کرتے ہوئے
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/21152109d15dd72.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/21152109d15dd72.gif"/>
        <media:title>چینی بچے پالتو کتے ( اے آئی روبوٹ) کے ساتھ کھیلتے ہوئے
—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/21152224ea93d80.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/21152224ea93d80.jpg"/>
        <media:title>اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹس (پالتو جانوروں) کے اسٹور کا ایک منظر
—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
