<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 15:42:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 15:42:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون ختم کرنے کا اعلان کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251266/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’پیدائش پر شہریت‘ کے حق کو منسوخ کرنے کے خواہاں ہیں، جس کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو وہاں کا شہری مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین ایکسپریس نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/india/trump-end-birthright-citizenship-affect-indian-american-community-9791929/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر درج پہلے چند ’صدارتی اقدامات‘ میں سے ’پروٹیکٹنگ دی میننگ اینڈ ویلیو آف امریکن سٹیزن شپ‘ (پیدائش پر شہریت کی تعریف) کے عنوان سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو امریکا میں پیدا ہوئے، لیکن اس دائرہ اختیار میں نہیں آتے، وہ پیدائش پر حق شہریت میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے بیان کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکا میں پیدا ہونے والے مندرجہ ذیل بچے اس دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;جب کسی بچے کی ماں غیر قانونی طور پر امریکا آئی ہوں اور باپ امریکی شہری نہ ہو، یا مذکورہ بچے کی پیدائش کے وقت قانونی مستقل رہائشی نہ ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جب بچے کی پیدائش کے وقت بچے کی والدہ کی امریکا میں موجودگی جائز لیکن عارضی ہو، (جیسا کہ ویزے پر امریکا کا دورہ کرنا یا طالب علم، کام یا سیاحتی ویزا پر آئے ہوں)، جبکہ والد امریکی شہری یا قانونی طور پر مستقل رہائشی نہ ہوں۔&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کی تبدیلی واقع ہوتی ہے، تو یہ ممکنہ طور پر ایچ ون ویزا ہولڈرز، گرین کارڈ ہولڈرز (قانونی مستقل رہائشی)، عارضی ویزا کے حامل، (طلبہ یا وزیٹر ویزا) اور غیر دستاویزی تارکین وطن سے امریکا میں پیدا ہونے والے بچے متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/urdu/articles/cvge9zxrly9o"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا ہے کہ امریکی آئین میں 14ویں ترمیم کے ذریعے ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون بنایا گیا تھا، جس کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والے ’تمام افراد امریکی شہری ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-کا-ایگزیکٹو-آرڈر-چیلنج" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-کا-ایگزیکٹو-آرڈر-چیلنج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر چیلنج&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے نے مزید بتایا کہ امریکا میں شہری آزادیوں کی تنظمیوں اور انسانی حقوق کے دیگر گروہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو فوراً چیلنج کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کی اکثریت کی رائے ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون ختم نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر سائکرشن پرکاش کہتے ہیں کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کچھ ایسا کر رہے ہیں، جس سے بہت سارے لوگ پریشان ہوں گے اور بالآخر اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کا فیصلہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’پیدائش پر شہریت‘ کے حق کو منسوخ کرنے کے خواہاں ہیں، جس کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو وہاں کا شہری مانا جاتا ہے۔</p>
<p>انڈین ایکسپریس نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/india/trump-end-birthright-citizenship-affect-indian-american-community-9791929/"><strong>رپورٹ</strong></a> کیا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر درج پہلے چند ’صدارتی اقدامات‘ میں سے ’پروٹیکٹنگ دی میننگ اینڈ ویلیو آف امریکن سٹیزن شپ‘ (پیدائش پر شہریت کی تعریف) کے عنوان سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو امریکا میں پیدا ہوئے، لیکن اس دائرہ اختیار میں نہیں آتے، وہ پیدائش پر حق شہریت میں شامل نہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے بیان کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکا میں پیدا ہونے والے مندرجہ ذیل بچے اس دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔</p>
<ol>
<li>جب کسی بچے کی ماں غیر قانونی طور پر امریکا آئی ہوں اور باپ امریکی شہری نہ ہو، یا مذکورہ بچے کی پیدائش کے وقت قانونی مستقل رہائشی نہ ہو۔</li>
<li>جب بچے کی پیدائش کے وقت بچے کی والدہ کی امریکا میں موجودگی جائز لیکن عارضی ہو، (جیسا کہ ویزے پر امریکا کا دورہ کرنا یا طالب علم، کام یا سیاحتی ویزا پر آئے ہوں)، جبکہ والد امریکی شہری یا قانونی طور پر مستقل رہائشی نہ ہوں۔</li>
</ol>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کی تبدیلی واقع ہوتی ہے، تو یہ ممکنہ طور پر ایچ ون ویزا ہولڈرز، گرین کارڈ ہولڈرز (قانونی مستقل رہائشی)، عارضی ویزا کے حامل، (طلبہ یا وزیٹر ویزا) اور غیر دستاویزی تارکین وطن سے امریکا میں پیدا ہونے والے بچے متاثر ہوں گے۔</p>
<p>بی بی سی کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/urdu/articles/cvge9zxrly9o"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا گیا ہے کہ امریکی آئین میں 14ویں ترمیم کے ذریعے ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون بنایا گیا تھا، جس کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے والے ’تمام افراد امریکی شہری ہیں۔‘</p>
<h1><a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-کا-ایگزیکٹو-آرڈر-چیلنج" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-کا-ایگزیکٹو-آرڈر-چیلنج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈونلڈ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر چیلنج</h1>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے نے مزید بتایا کہ امریکا میں شہری آزادیوں کی تنظمیوں اور انسانی حقوق کے دیگر گروہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو فوراً چیلنج کر دیا ہے۔</p>
<p>قانونی ماہرین کی اکثریت کی رائے ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون ختم نہیں کر سکتے۔</p>
<p>یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر سائکرشن پرکاش کہتے ہیں کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کچھ ایسا کر رہے ہیں، جس سے بہت سارے لوگ پریشان ہوں گے اور بالآخر اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہوگا۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کا فیصلہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251266</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jan 2025 23:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/21233304fd87fed.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/21233304fd87fed.png"/>
        <media:title>— فوٹو: انڈین ایکسپریس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
