<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 16:42:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 16:42:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی اخبار ’دی سن‘ اور شہزادہ ہیری کے درمیان تصفیہ طے پاگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251322/</link>
      <description>&lt;p&gt;سنسنی سے بھرپور خبریں شائع کرنے اور معروف شخصیات کی ذاتی زندگی سے متعلق بے بنیاد دعوے کرنے والے معروف برطانوی اخبار ’دی سن‘ کی مالک کمپنی ’نیوز گروپ پیپرز‘ (این جی این) کے درمیان تصفیہ طے پاگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://images.dawn.com/news/1193162/prince-harry-hails-monumental-legal-win-over-murdoch-newspapers"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق شہزادہ ہیری اور ان کے ساتھ برطانوی اخبار پر مقدمہ کرنے والے سیاست دان ٹام واٹسن نے مشترکہ بیان میں اپنی جیت کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ برطانوی اخبار نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی جب کہ اپنی غلطی پر معافی بھی مانگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزادہ ہیری نے ’دی سن‘ پر لندن کی عدالت میں نجی معلومات کو غلط طریقے سے حاصل کرنے اور معلومات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ مقدمے میں دی سن کی مالک کمپنی کئی سال سے شہزادہ ہیری کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کو مسترد کرتی آ رہی تھی، تاہم اب نشریاتی ادارے کے گروپ نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق دی سن کی مالک کمپنی نے تسلیم کیا کہ اس نے 1996 سے 2011 تک شہزادہ ہیری کے خاندان کی ذاتی زندگی میں غلط انداز میں دخل اندازی کرکے ان کی نجی معلومات حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار پر الزام تھا کہ اس نے 1996 سے 2011 تک شہزادہ ہیری اور ان کی آنجھانی والدہ لیڈی ڈیانا سمیت خاندان کے دوسرے افراد کی انتہائی ذاتی معلومات کو غلط اور غیر قانونی انداز میں حاصل کرکے بے بنیاد دعوے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اخبار نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے شہزادہ ہیری اور ٹام واٹسن کو مجموعی طور پر ہرجانے کی مد میں ایک ارب پاؤنڈ سے زائد کی رقم ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے ٹام واٹسن کے حوالے سے بھی اپنی غلطی تسلیم کی اور ان سے بھی معذرت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی گروپ کے بدنام زمانہ جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.newsoftheworld.co.uk/"&gt;&lt;strong&gt;’نیوز آف دی ورلڈ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بھی عدالت نے 2011 میں اہم اور بڑی شخصیات کی ذاتی زندگی کی معلومات غیر قانونی انداز میں حاصل کرکے انہیں بدنام کرنے کے الزامات کے تحت بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد کمپنی نے ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کو بند کردیا تھا، بعد میں معلوم ہوا تھا کہ کمپنی نے 1300 سے زائد مقدمات میں ہرجانے کی رقم بھی ادا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نیوز آف دی ورلڈ‘ کسی زمانے میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ہفتہ روزہ جریدہ تھا، اس کی شروعات 1843 میں ہوئی تھی اور رسالہ 150 سال سے زائد عرصے تک شائع ہوتا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سنسنی سے بھرپور خبریں شائع کرنے اور معروف شخصیات کی ذاتی زندگی سے متعلق بے بنیاد دعوے کرنے والے معروف برطانوی اخبار ’دی سن‘ کی مالک کمپنی ’نیوز گروپ پیپرز‘ (این جی این) کے درمیان تصفیہ طے پاگیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a href="https://images.dawn.com/news/1193162/prince-harry-hails-monumental-legal-win-over-murdoch-newspapers"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق شہزادہ ہیری اور ان کے ساتھ برطانوی اخبار پر مقدمہ کرنے والے سیاست دان ٹام واٹسن نے مشترکہ بیان میں اپنی جیت کا دعویٰ کیا۔</p>
<p>دونوں کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ برطانوی اخبار نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی جب کہ اپنی غلطی پر معافی بھی مانگی۔</p>
<p>شہزادہ ہیری نے ’دی سن‘ پر لندن کی عدالت میں نجی معلومات کو غلط طریقے سے حاصل کرنے اور معلومات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے کا مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ مقدمے میں دی سن کی مالک کمپنی کئی سال سے شہزادہ ہیری کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کو مسترد کرتی آ رہی تھی، تاہم اب نشریاتی ادارے کے گروپ نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق دی سن کی مالک کمپنی نے تسلیم کیا کہ اس نے 1996 سے 2011 تک شہزادہ ہیری کے خاندان کی ذاتی زندگی میں غلط انداز میں دخل اندازی کرکے ان کی نجی معلومات حاصل کی۔</p>
<p>اخبار پر الزام تھا کہ اس نے 1996 سے 2011 تک شہزادہ ہیری اور ان کی آنجھانی والدہ لیڈی ڈیانا سمیت خاندان کے دوسرے افراد کی انتہائی ذاتی معلومات کو غلط اور غیر قانونی انداز میں حاصل کرکے بے بنیاد دعوے کیے۔</p>
<p>اب اخبار نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے شہزادہ ہیری اور ٹام واٹسن کو مجموعی طور پر ہرجانے کی مد میں ایک ارب پاؤنڈ سے زائد کی رقم ادا کرے گا۔</p>
<p>اخبار نے ٹام واٹسن کے حوالے سے بھی اپنی غلطی تسلیم کی اور ان سے بھی معذرت کی۔</p>
<p>اسی گروپ کے بدنام زمانہ جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.newsoftheworld.co.uk/"><strong>’نیوز آف دی ورلڈ‘</strong></a> کو بھی عدالت نے 2011 میں اہم اور بڑی شخصیات کی ذاتی زندگی کی معلومات غیر قانونی انداز میں حاصل کرکے انہیں بدنام کرنے کے الزامات کے تحت بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p>عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد کمپنی نے ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کو بند کردیا تھا، بعد میں معلوم ہوا تھا کہ کمپنی نے 1300 سے زائد مقدمات میں ہرجانے کی رقم بھی ادا کی۔</p>
<p>’نیوز آف دی ورلڈ‘ کسی زمانے میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ہفتہ روزہ جریدہ تھا، اس کی شروعات 1843 میں ہوئی تھی اور رسالہ 150 سال سے زائد عرصے تک شائع ہوتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251322</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jan 2025 19:43:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/221804311a27474.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/221804311a27474.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
