<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Quetta</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 08:55:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 08:55:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: ’جبل نورالقرآن‘ سے قران پاک کے قدیم نسخے چوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251469/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قرآن پاک کے ضعیف نسخوں اور اوراق کو بے حرمتی سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے معروف مرکز ’جبل نورالقرآن‘ سے نامعلوم افراد نے 120 قدیم نسخے چوری کرلیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق تھانہ بروری پولیس نے ’جبل نور القرآن‘ کے انچارج اجمل خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق منگل اور بدھ (21 اور 22 جنوری) کی درمیانی شب نامعلوم افراد غار میں موجود شو کیس کے شیشے توڑ کر قرآن مجید کے نسخے لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجمل خان نے پولیس کو بتایا ہے کہ جب وہ بدھ کی صبح 10 بجے جبلِ نورالقرآن پہنچے تو غار کے دروازے کا تالا ٹوٹا ہوا تھا اور وہاں 12 شوکیس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181260"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبل نور کمیٹی کے رکن بالاج لہڑی نے بتایا کہ ’جبل نور القرآن‘ سے ہاتھ سے لکھا گیا قرآن پاک اور احادیث کے نسخے چوری ہوئے، اس جگہ پر باہر ممالک سے لائے گئے نسخے محفوظ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جبل-نور-القرآن-کیوں-بنایا-گیا" href="#جبل-نور-القرآن-کیوں-بنایا-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جبل نور القرآن کیوں بنایا گیا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جبل نورالقرآن کوئٹہ کے مضافات میں چلتن پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جہاں پہاڑوں میں سرنگ کھود کر قرآن کریم کے ضعیف اور مخدوش نسخے اور دیگر مذہبی کتب اور ان کے اوراق رکھے گئے ہیں تاکہ انہیں بے حرمتی سے بچایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1992 میں جبل نور فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا اور میر عبد الصمد لہڑی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا جسے ان کے بھائی میر عبدالرشید لہڑی نے آگے بڑھایا، اب اس کام کو لہڑی خاندان کی دوسری اور تیسری نسل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دینی اوراق جو ضعیف اور بوسیدہ ہوجاتے ہیں انہیں بے حرمتی سے بچانے کے  لیے ایک پہاڑی میں سرنگ کھودی گئی اور ضعیف صفحات کو وہاں محفوظ کردیا گیا، 30 سال پہلے ایک سرنگ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج 100 سے زیادہ سرنگوں تک جا پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبلِ نورالقرآن میں 100 سے زیادہ سرنگیں ہیں جن میں اب تک اندازاً ڈھائی سے 3 کروڑ قرآن پاک اور دینی کتب آچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قرآن پاک کے ضعیف نسخوں اور اوراق کو بے حرمتی سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے معروف مرکز ’جبل نورالقرآن‘ سے نامعلوم افراد نے 120 قدیم نسخے چوری کرلیے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق تھانہ بروری پولیس نے ’جبل نور القرآن‘ کے انچارج اجمل خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔</p>
<p>فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق منگل اور بدھ (21 اور 22 جنوری) کی درمیانی شب نامعلوم افراد غار میں موجود شو کیس کے شیشے توڑ کر قرآن مجید کے نسخے لے گئے۔</p>
<p>اجمل خان نے پولیس کو بتایا ہے کہ جب وہ بدھ کی صبح 10 بجے جبلِ نورالقرآن پہنچے تو غار کے دروازے کا تالا ٹوٹا ہوا تھا اور وہاں 12 شوکیس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181260"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جبل نور کمیٹی کے رکن بالاج لہڑی نے بتایا کہ ’جبل نور القرآن‘ سے ہاتھ سے لکھا گیا قرآن پاک اور احادیث کے نسخے چوری ہوئے، اس جگہ پر باہر ممالک سے لائے گئے نسخے محفوظ تھے۔</p>
<h1><a id="جبل-نور-القرآن-کیوں-بنایا-گیا" href="#جبل-نور-القرآن-کیوں-بنایا-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جبل نور القرآن کیوں بنایا گیا؟</h1>
<p>جبل نورالقرآن کوئٹہ کے مضافات میں چلتن پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جہاں پہاڑوں میں سرنگ کھود کر قرآن کریم کے ضعیف اور مخدوش نسخے اور دیگر مذہبی کتب اور ان کے اوراق رکھے گئے ہیں تاکہ انہیں بے حرمتی سے بچایا جائے۔</p>
<p>1992 میں جبل نور فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا اور میر عبد الصمد لہڑی نے اس کام کا بیڑا اٹھایا جسے ان کے بھائی میر عبدالرشید لہڑی نے آگے بڑھایا، اب اس کام کو لہڑی خاندان کی دوسری اور تیسری نسل کر رہی ہے۔</p>
<p>دینی اوراق جو ضعیف اور بوسیدہ ہوجاتے ہیں انہیں بے حرمتی سے بچانے کے  لیے ایک پہاڑی میں سرنگ کھودی گئی اور ضعیف صفحات کو وہاں محفوظ کردیا گیا، 30 سال پہلے ایک سرنگ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج 100 سے زیادہ سرنگوں تک جا پہنچا ہے۔</p>
<p>جبلِ نورالقرآن میں 100 سے زیادہ سرنگیں ہیں جن میں اب تک اندازاً ڈھائی سے 3 کروڑ قرآن پاک اور دینی کتب آچکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251469</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jan 2025 15:45:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعبداللہ زہری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/24144602a5563c8.png?r=154541" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/24144602a5563c8.png?r=154541"/>
        <media:title>جبلِ نورالقرآن اب تک اندازاً ڈھائی سے 3 کروڑ قرآن پاک اور دینی موجود ہیں — فائل فوٹو: شیما صدیقی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
