<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 10:35:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 18 Jun 2026 10:35:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر تجارت کو اشیا کی برآمد، درآمد پر یک وقتی چھوٹ کا اختیار تفویض</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251520/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے تجارت سے متعلق دو پارلیمانی قوانین میں ترمیم کے ذریعے وفاقی کابینہ سے اشیا کی یک وقتی برآمدات اور درآمدات کی منظوری کا اختیار وفاقی وزیر تجارت کو تفویض کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1887534/commerce-minister-empowered-to-grant-one-time-import-export-waivers"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 2023 میں پارلیمان سے منظور ہونے والے بلوں پر سابق صدر عارف علوی نے یہ کہتے ہوئے دستخط نہیں کیے تھے کہ وفاقی وزیر تجارت کابینہ کے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتے، تاہم اب ان بلوں پر صدر آصف علی زرداری نے دستخط کر کے اسے پارلیمان کا ایکٹ بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول بل 2023 میں ’1950 کے برآمدات اور درآمدات ایکٹ‘ میں مزید ترمیم متعارف کروانے کے بعد کابینہ کے اختیارات کو وزیر تجارت تک منتقل کیا گیا، فیصلے کا اطلاق فوری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم کے مطابق وزیر تجارت جام کمال خان اب سامان کی برآمد، درآمد، دوبارہ درآمد یا برآمد کرنے کی اجازت جاری کرسکتے ہیں، اس اقدام کو ایک باضابطہ نوٹی فکیشن کے ذریعے کیا جائے گا جس کی وجوہات تحریری طور پر دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اجازت کا مقصد مخصوص صورتوں میں پاکستان کی تجارت اور معیشت کو فائدہ پہنچانے کے لیے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت نے ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ان افراد کے لیے آسانی پیدا کرے گا جو سامان کی برآمد اور درآمد کے لیے ایک بار کی چھوٹ کے خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وزارت ایسی درخواستوں کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے پاس بھیجتی تھی، یہ عمل گاڑیوں کی درآمد کی درخواست کے ساتھ عام تھا جس میں امپورٹ پالیسی آرڈر کی خلاف ورزی کی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی ترمیم کے تحت حکومت نے وزیر تجارت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بعض قوانین یا مقررہ حد کی خلاف ورزی کرنے والی اشیا کی درآمد اور برآمد پر چھوٹ دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اختیار کو اس سے قبل وزارت تجارت سے وفاقی کابینہ کو منتقل کیا گیا تھا تاکہ اشیا کے استثنیٰ کی سہولت کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امپورٹ اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ 1950 پاکستان میں بین الاقوامی تجارت کا قانون ہے، سامان کی درآمد اور برآمد کے عمل کو امپورٹ پالیسی آرڈر (آئی پی او) اور ایکسپورٹ پالیسی آرڈر (ای پی او) کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے تجارت سے متعلق دو پارلیمانی قوانین میں ترمیم کے ذریعے وفاقی کابینہ سے اشیا کی یک وقتی برآمدات اور درآمدات کی منظوری کا اختیار وفاقی وزیر تجارت کو تفویض کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1887534/commerce-minister-empowered-to-grant-one-time-import-export-waivers">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 2023 میں پارلیمان سے منظور ہونے والے بلوں پر سابق صدر عارف علوی نے یہ کہتے ہوئے دستخط نہیں کیے تھے کہ وفاقی وزیر تجارت کابینہ کے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتے، تاہم اب ان بلوں پر صدر آصف علی زرداری نے دستخط کر کے اسے پارلیمان کا ایکٹ بنا دیا۔</p>
<p>امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول بل 2023 میں ’1950 کے برآمدات اور درآمدات ایکٹ‘ میں مزید ترمیم متعارف کروانے کے بعد کابینہ کے اختیارات کو وزیر تجارت تک منتقل کیا گیا، فیصلے کا اطلاق فوری ہوگا۔</p>
<p>ترمیم کے مطابق وزیر تجارت جام کمال خان اب سامان کی برآمد، درآمد، دوبارہ درآمد یا برآمد کرنے کی اجازت جاری کرسکتے ہیں، اس اقدام کو ایک باضابطہ نوٹی فکیشن کے ذریعے کیا جائے گا جس کی وجوہات تحریری طور پر دی جائیں گی۔</p>
<p>اس اجازت کا مقصد مخصوص صورتوں میں پاکستان کی تجارت اور معیشت کو فائدہ پہنچانے کے لیے دی جائے گی۔</p>
<p>وزارت تجارت نے ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ان افراد کے لیے آسانی پیدا کرے گا جو سامان کی برآمد اور درآمد کے لیے ایک بار کی چھوٹ کے خواہاں ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل وزارت ایسی درخواستوں کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے پاس بھیجتی تھی، یہ عمل گاڑیوں کی درآمد کی درخواست کے ساتھ عام تھا جس میں امپورٹ پالیسی آرڈر کی خلاف ورزی کی جاتی تھی۔</p>
<p>نئی ترمیم کے تحت حکومت نے وزیر تجارت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بعض قوانین یا مقررہ حد کی خلاف ورزی کرنے والی اشیا کی درآمد اور برآمد پر چھوٹ دے سکتے ہیں۔</p>
<p>اس اختیار کو اس سے قبل وزارت تجارت سے وفاقی کابینہ کو منتقل کیا گیا تھا تاکہ اشیا کے استثنیٰ کی سہولت کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔</p>
<p>امپورٹ اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ 1950 پاکستان میں بین الاقوامی تجارت کا قانون ہے، سامان کی درآمد اور برآمد کے عمل کو امپورٹ پالیسی آرڈر (آئی پی او) اور ایکسپورٹ پالیسی آرڈر (ای پی او) کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251520</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Jan 2025 14:55:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/2512485346c2139.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/2512485346c2139.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
