<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 20 May 2026 11:06:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 20 May 2026 11:06:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا اسمبلی سے زرعی انکم ٹیکس بل منظور، کسانوں پر سپر ٹیکس لگے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251673/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس بل منظور کر لیا گیا، جس کے تحت زیادہ آمدن والے کسانوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 14 نومبر 2024 کو پنجاب اسمبلی میں بھی زرعی انکم ٹیکس پنجاب بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز نے رپورٹ کیا کہ زرعی انکم ٹیکس یکم جنوری  2025 سے عائد ہوگا، بل کے مطابق صوبے کی زمین کو تین ڈویژنز اور 4 زونز میں تقسیم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل  کے متن میں کہا گیا ہے کہ 12 لاکھ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر فیصد 15 فیصد انکم ٹیکس کے علاوہ 90 ہزار سپر ٹیکس بھی عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 16 لاکھ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر 30 فیصد انکم ٹیکس او ایک لاکھ 70 ہزار روپے سپر ٹیکس عائد ہوگا جبکہ 32 لاکھ سے زائد زرعی آمدن پر 40 فیصد انکم ٹیکس اور 6 لاکھ 50 ہزار روپے سپر ٹیکس عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246408"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مطابق 56 لاکھ سے زائد زرعی آمدن پر 45 فیصد انکم ٹیکس اور  16 لاکھ 10 ہزار سپر ٹیکس جمع کرانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بل میں کارپورٹ فارمنگ پر بھی ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے، بل کے متن کے مطابق چھوٹی کمپنی پر 20 فیصد جبکہ  بڑی کمپنی پر 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل  کے مطابق 15 کروڑ روپے سے زائد سالانہ زرعی انکم پر ایک فیصد ٹیکس لیا جائے گا، اسی طرح 20 کروڑ سے زائد زرعی آمدن پر 2 فیصد جبکہ  25 کروڑ سے زائد آمدن پر 3 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں کہا گیا ہے کہ 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 4 فیصد اور 35 کروڑ پر 6 فیصد ٹیکس لیا جائے گا، اسی طرح 40 کروڑ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر 8 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مطابق 50 کروڑ سے زائد آمدن پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، انکم ٹیکس کے علاوہ اراضی ٹیکس بھی عائد کیا گیا ہے، مختلف زون کے حساب سے اراضی ٹیکس لیا جائیگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں کہا گیا ہے کہ زون ون میں ساڑھے بارہ ایکڑ سے زائد زمین پر 12 سو روپے فی ایکڑ کے حساب سے اراضی ٹیکس لیا جائے گا، اسی طرح25 سے 50 ایکڑ زمین پر فی ایکڑ 25 سو روپے سالانہ اراضی ٹیکس عائد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مطابق زون (ون) میں 50 ایکڑ سے زائد زمین پر سالانہ فی ایکڑ  3 ہزار 500 روپے ٹیکس لیا جائے گا، جبکہ زون ٹو اور تھری میں زون ون سے ٹیکس کم لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 14 نومبر 2024 کو  پنجاب اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس پنجاب بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا، جس کے بعد لائیو اسٹاک پر بھی ٹیکس لاگو اور زیادہ آمدن والے کسانوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں کہا گیا تھا کہ زرعی زمین پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے گی جبکہ لائیو اسٹاک پر ٹیکس بھی زرعی ٹیکس میں شمار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے متن کے مطابق زرعی انکم ٹیکس نادہندہ کو ٹیکس کی رقم کا اعشاریہ ایک فیصد فی اضافی دن جرمانہ عائد ہو گا، 12 لاکھ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نادہندہ کو 10 ہزار جرمانہ بھی ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1244124"&gt;&lt;strong&gt;14 اکتوبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کے لیے ترجیحی سلوک، ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر پروٹیکشنز کو فوری طور پر ختم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام سے متعلق رپورٹ میں آئی ایم ایف نے زور دیا تھا کہ پاکستان بار بار ’بوم بسٹ سائیکل‘ (معاشی بہتری پھر تنزلی) سے بچنے کے لیے گزشتہ 75 سالوں کے اپنے معاشی طریقوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی تھی کہ پاکستان اپنے جیسے دیگر ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے، اور جمود کی شکار معیشت نے معیار زندگی کو متاثراور 40.5 فیصد سے زیادہ آبادی کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق برآمدات کا جھکاؤ صرف زراعت اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی جانب ہے جبکہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی جانب سے اپنے ذرائع منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس بل منظور کر لیا گیا، جس کے تحت زیادہ آمدن والے کسانوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ بھی ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 14 نومبر 2024 کو پنجاب اسمبلی میں بھی زرعی انکم ٹیکس پنجاب بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>ڈان نیوز نے رپورٹ کیا کہ زرعی انکم ٹیکس یکم جنوری  2025 سے عائد ہوگا، بل کے مطابق صوبے کی زمین کو تین ڈویژنز اور 4 زونز میں تقسیم کیا جائے گا۔</p>
<p>بل  کے متن میں کہا گیا ہے کہ 12 لاکھ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر فیصد 15 فیصد انکم ٹیکس کے علاوہ 90 ہزار سپر ٹیکس بھی عائد ہوگا۔</p>
<p>اسی طرح 16 لاکھ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر 30 فیصد انکم ٹیکس او ایک لاکھ 70 ہزار روپے سپر ٹیکس عائد ہوگا جبکہ 32 لاکھ سے زائد زرعی آمدن پر 40 فیصد انکم ٹیکس اور 6 لاکھ 50 ہزار روپے سپر ٹیکس عائد ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246408"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بل کے مطابق 56 لاکھ سے زائد زرعی آمدن پر 45 فیصد انکم ٹیکس اور  16 لاکھ 10 ہزار سپر ٹیکس جمع کرانا ہوگا۔</p>
<p>اسی طرح بل میں کارپورٹ فارمنگ پر بھی ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے، بل کے متن کے مطابق چھوٹی کمپنی پر 20 فیصد جبکہ  بڑی کمپنی پر 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔</p>
<p>بل  کے مطابق 15 کروڑ روپے سے زائد سالانہ زرعی انکم پر ایک فیصد ٹیکس لیا جائے گا، اسی طرح 20 کروڑ سے زائد زرعی آمدن پر 2 فیصد جبکہ  25 کروڑ سے زائد آمدن پر 3 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔</p>
<p>بل میں کہا گیا ہے کہ 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 4 فیصد اور 35 کروڑ پر 6 فیصد ٹیکس لیا جائے گا، اسی طرح 40 کروڑ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر 8 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔</p>
<p>بل کے مطابق 50 کروڑ سے زائد آمدن پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، انکم ٹیکس کے علاوہ اراضی ٹیکس بھی عائد کیا گیا ہے، مختلف زون کے حساب سے اراضی ٹیکس لیا جائیگا۔</p>
<p>بل میں کہا گیا ہے کہ زون ون میں ساڑھے بارہ ایکڑ سے زائد زمین پر 12 سو روپے فی ایکڑ کے حساب سے اراضی ٹیکس لیا جائے گا، اسی طرح25 سے 50 ایکڑ زمین پر فی ایکڑ 25 سو روپے سالانہ اراضی ٹیکس عائد ہوگا۔</p>
<p>بل کے مطابق زون (ون) میں 50 ایکڑ سے زائد زمین پر سالانہ فی ایکڑ  3 ہزار 500 روپے ٹیکس لیا جائے گا، جبکہ زون ٹو اور تھری میں زون ون سے ٹیکس کم لیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 14 نومبر 2024 کو  پنجاب اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس پنجاب بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا، جس کے بعد لائیو اسٹاک پر بھی ٹیکس لاگو اور زیادہ آمدن والے کسانوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ ہوگا۔</p>
<p>بل میں کہا گیا تھا کہ زرعی زمین پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائے گی جبکہ لائیو اسٹاک پر ٹیکس بھی زرعی ٹیکس میں شمار کیا جائے گا۔</p>
<p>بل کے متن کے مطابق زرعی انکم ٹیکس نادہندہ کو ٹیکس کی رقم کا اعشاریہ ایک فیصد فی اضافی دن جرمانہ عائد ہو گا، 12 لاکھ سے کم زرعی آمدنی والے زرعی ٹیکس نادہندہ کو 10 ہزار جرمانہ بھی ہو سکے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1244124"><strong>14 اکتوبر</strong></a> کو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کے لیے ترجیحی سلوک، ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر پروٹیکشنز کو فوری طور پر ختم کرے۔</p>
<p>منظور شدہ 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام سے متعلق رپورٹ میں آئی ایم ایف نے زور دیا تھا کہ پاکستان بار بار ’بوم بسٹ سائیکل‘ (معاشی بہتری پھر تنزلی) سے بچنے کے لیے گزشتہ 75 سالوں کے اپنے معاشی طریقوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی تھی کہ پاکستان اپنے جیسے دیگر ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے، اور جمود کی شکار معیشت نے معیار زندگی کو متاثراور 40.5 فیصد سے زیادہ آبادی کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق برآمدات کا جھکاؤ صرف زراعت اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی جانب ہے جبکہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی جانب سے اپنے ذرائع منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251673</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jan 2025 20:49:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارف حیاتویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/2720474064bf63f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/2720474064bf63f.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
