<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 01:14:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 01:14:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>45 منٹ انتظار کیا مگر اپوزیشن نہیں آئی، مذاکراتی کمیٹی تحلیل نہیں ہوگی، ایاز صادق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1251723/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے مذاکراتی کمیٹی اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی عدم موجودگی پر آج کا اجلاس ملتوی کردیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی یہاں موجود ہے مگر اپوزیشن نہیں آئی، تاہم مذاکراتی کمیٹی تحلیل نہیں کر رہے، وہ برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید تھی کہ آج اپوزیشن مذاکرات کے لیے آئے گی، نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی بھی آئی تاہم تقریباً 45 منٹ انتظار کرنے کے باوجود وہ نہیں آئے، ہم نے ان کے قائد حزب اختلاف کو بھی پیغام دیا جو ہمارے پاس محفوظ بھی ہے، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع تھی کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، جب بیرسٹر گوہر میرے پاس آئے اور مذاکرات کی درخواست کی تو وزیر اعظم نے اسی روز کمیٹی تشکیل دے دی تھی، دونوں فریقین کے درمیان تین ملاقاتیں بھی ہوئیں اور آج بھی یہی توقع تھی کہ وہ آئیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے آج مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے اور آج کی میٹنگ برخاست کی جاتی ہے، تاہم میرے دروازے آج بھی کھلے ہیں اور میں ایک مرتبہ پھر حکومت اور حزب اختلاف سے یہی توقع رکھتا ہوں کہ مذاکرات کے ذریعے ہی کوئی راستہ نکالا جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایاز صادق نے کہا کہ ’جب مذاکرات کا دور چلتا ہے تو شرائط پہلے سے نہیں رکھ دی جاتیں بلکہ پہلے بات چیت ہوتی ہے، پھر مطالبات زیر غور آتے ہیں، متبادل راستے نکالے جاتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ بھی ممکن نہیں ہو سکا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’مذکراتی کمیٹی برقرار رہے گی، اسے تحلیل نہیں کر رہے، میں امید کرتا ہوں کہ شاید ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز ہوجائے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کے 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم آئے ہیں تو یقینی طور پر کوئی جواب بھی لے کر ہی آئے ہیں، تاہم میڈیا پر چلنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ کمیٹی کے ارکان کو ان کے بانی نے مذاکرات آگے بڑھانے سے روک دیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کہ آئین و قانون کی روشنی میں ہمارے پاس ان کے مطالبے کا جواب ہے اور آج وہ جواب دیا جاتا، تاہم یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے کچھ کہہ دیا تو بس ہم اس کے حق میں اعلان کردیں، بصورت دیگر وہ نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ ’میری خواہش تھی کہ وہ آج آتے، حکومت کی سوچ مثبت ہے، لیکن آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ہی مطالبات پر عمل ہوتا ہے، کوئی حل نکالا جاتا ہے، 2014 کا دھرنا بھی اسی طرح مذاکرات کے بعد ہی ختم ہوا تھا، لیکن اپوزیشن کا یہ رویہ مناسب نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مذاکرات آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’امید کرتا ہوں کہ اپوزیشن، اسپیکر سے مل کر نئی تاریخ طے کرے گی، یکطرفہ بیان دینا اصول وقواعد کے خلاف اور نامناسب ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال پر نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ’اگر وہ آج آتے تو پہلے ہم اسپیکر صاحب کو جواب پیش کرتے پھر انہیں پڑھ کر سناتے، البتہ ان کی طرح میڈیا پر پہلے ہی لیک کرکے نہیں آتے، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، ہمیں ایک دوسرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، اگر وہ نہ آئے تو معاملہ ایسے ہی جمود کا شکار رہے گا۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے مذاکراتی کمیٹی اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی عدم موجودگی پر آج کا اجلاس ملتوی کردیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی یہاں موجود ہے مگر اپوزیشن نہیں آئی، تاہم مذاکراتی کمیٹی تحلیل نہیں کر رہے، وہ برقرار رہے گی۔</p>
<p>اسلام آباد میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید تھی کہ آج اپوزیشن مذاکرات کے لیے آئے گی، نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی بھی آئی تاہم تقریباً 45 منٹ انتظار کرنے کے باوجود وہ نہیں آئے، ہم نے ان کے قائد حزب اختلاف کو بھی پیغام دیا جو ہمارے پاس محفوظ بھی ہے، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>اسپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع تھی کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، جب بیرسٹر گوہر میرے پاس آئے اور مذاکرات کی درخواست کی تو وزیر اعظم نے اسی روز کمیٹی تشکیل دے دی تھی، دونوں فریقین کے درمیان تین ملاقاتیں بھی ہوئیں اور آج بھی یہی توقع تھی کہ وہ آئیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے آج مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے اور آج کی میٹنگ برخاست کی جاتی ہے، تاہم میرے دروازے آج بھی کھلے ہیں اور میں ایک مرتبہ پھر حکومت اور حزب اختلاف سے یہی توقع رکھتا ہوں کہ مذاکرات کے ذریعے ہی کوئی راستہ نکالا جائے گا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایاز صادق نے کہا کہ ’جب مذاکرات کا دور چلتا ہے تو شرائط پہلے سے نہیں رکھ دی جاتیں بلکہ پہلے بات چیت ہوتی ہے، پھر مطالبات زیر غور آتے ہیں، متبادل راستے نکالے جاتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ بھی ممکن نہیں ہو سکا۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’مذکراتی کمیٹی برقرار رہے گی، اسے تحلیل نہیں کر رہے، میں امید کرتا ہوں کہ شاید ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز ہوجائے۔‘</p>
<p>اپوزیشن کے 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم آئے ہیں تو یقینی طور پر کوئی جواب بھی لے کر ہی آئے ہیں، تاہم میڈیا پر چلنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ کمیٹی کے ارکان کو ان کے بانی نے مذاکرات آگے بڑھانے سے روک دیا ہے۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کہ آئین و قانون کی روشنی میں ہمارے پاس ان کے مطالبے کا جواب ہے اور آج وہ جواب دیا جاتا، تاہم یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے کچھ کہہ دیا تو بس ہم اس کے حق میں اعلان کردیں، بصورت دیگر وہ نہ آئیں۔</p>
<p>اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ ’میری خواہش تھی کہ وہ آج آتے، حکومت کی سوچ مثبت ہے، لیکن آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ہی مطالبات پر عمل ہوتا ہے، کوئی حل نکالا جاتا ہے، 2014 کا دھرنا بھی اسی طرح مذاکرات کے بعد ہی ختم ہوا تھا، لیکن اپوزیشن کا یہ رویہ مناسب نہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے مذاکرات آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’امید کرتا ہوں کہ اپوزیشن، اسپیکر سے مل کر نئی تاریخ طے کرے گی، یکطرفہ بیان دینا اصول وقواعد کے خلاف اور نامناسب ہے۔‘</p>
<p>ایک سوال پر نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ’اگر وہ آج آتے تو پہلے ہم اسپیکر صاحب کو جواب پیش کرتے پھر انہیں پڑھ کر سناتے، البتہ ان کی طرح میڈیا پر پہلے ہی لیک کرکے نہیں آتے، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، ہمیں ایک دوسرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، اگر وہ نہ آئے تو معاملہ ایسے ہی جمود کا شکار رہے گا۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1251723</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jan 2025 14:08:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/01/2814070797fa9fe.jpg?r=140718" type="image/jpeg" medium="image" height="403" width="672">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/01/2814070797fa9fe.jpg?r=140718"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
