<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 20:37:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 20:37:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: حسینہ واجد کے سوشل میڈیا پر عوام کو اکسانے کےخلاف مشتعل ہجوم نے شیخ مجیب کا گھر جلا دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1252410/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہزاروں مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی رہنما کے گھر کو آگ لگا دی، یہ واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب ان کی بیٹی اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں سے عبوری حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لاٹھیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے لیس ہزاروں مظاہرین تاریخی گھر اور آزادی کی یادگار کے ارد گرد جمع ہوئے، جب کہ دیگر عمارت کو منہدم کرنے کے لیے کرین اور کھدائی کرنے والی مشین لے کر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریلی کا اہتمام گزشتہ رات 9 بجے حسینہ واجد کے طے شدہ آن لائن خطاب میں خلل ڈالنے کے لیے ’بلڈوزر جلوس‘ کے نام سے ایک وسیع تر کال کے ساتھ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ’اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمنٹ‘ گروپ سے تھا، نے حسینہ واجد کی تقریر پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا، جسے وہ نو تشکیل شدہ عبوری حکومت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں اگست 2024 کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جب بڑے پیمانے پر مظاہروں نے حسینہ واجد کو پڑوسی ملک بھارت بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کو اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، کیونکہ احتجاج اور بدامنی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے حسینہ واجد کی حکومت کی علامتوں پر حملہ کیا ہے، جس میں شیخ مجیب الرحمٰن کا گھر بھی شامل ہے، جسے پہلی بار اگست میں نذر آتش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے قیام کی علامت یہ گھر وہ جگہ ہے جہاں 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند سال بعد یہ ایک قومی سانحے کا مرکز بن گیا تھا، جب مجیب الرحمٰن اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد کو 1975 میں اسی گھر میں قتل کردیا گیا تھا، حسینہ واجد، جو اس حملے میں بچ گئی تھیں، انہوں نے بعد میں اس عمارت کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا جو ان کے والد کی وراثت کے لیے وقف تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ وہ کسی عمارت کو منہدم کر سکتے ہیں، لیکن تاریخ کو نہیں، تاریخ اس کا بدلہ لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے غیر آئینی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے عوام پر زور دیا کہ وہ عبوری حکومت کے خلاف کھڑے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مظاہروں کے پیچھے طلبہ کی زیر قیادت تحریک نے ملک کے 1972 کے آئین کو ختم کرنے کے منصوبوں کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ حسینہ واجد کے والد کی حکمرانی کی وراثت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہزاروں مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی رہنما کے گھر کو آگ لگا دی، یہ واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب ان کی بیٹی اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں سے عبوری حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل کی تھی۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لاٹھیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے لیس ہزاروں مظاہرین تاریخی گھر اور آزادی کی یادگار کے ارد گرد جمع ہوئے، جب کہ دیگر عمارت کو منہدم کرنے کے لیے کرین اور کھدائی کرنے والی مشین لے کر آئے۔</p>
<p>اس ریلی کا اہتمام گزشتہ رات 9 بجے حسینہ واجد کے طے شدہ آن لائن خطاب میں خلل ڈالنے کے لیے ’بلڈوزر جلوس‘ کے نام سے ایک وسیع تر کال کے ساتھ کیا گیا تھا۔</p>
<p>مظاہرین، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ’اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمنٹ‘ گروپ سے تھا، نے حسینہ واجد کی تقریر پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا، جسے وہ نو تشکیل شدہ عبوری حکومت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بنگلہ دیش میں اگست 2024 کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جب بڑے پیمانے پر مظاہروں نے حسینہ واجد کو پڑوسی ملک بھارت بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔</p>
<p>نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کو اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، کیونکہ احتجاج اور بدامنی جاری ہے۔</p>
<p>مظاہرین نے حسینہ واجد کی حکومت کی علامتوں پر حملہ کیا ہے، جس میں شیخ مجیب الرحمٰن کا گھر بھی شامل ہے، جسے پہلی بار اگست میں نذر آتش کیا گیا تھا۔</p>
<p>ملک کے قیام کی علامت یہ گھر وہ جگہ ہے جہاں 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>
<p>چند سال بعد یہ ایک قومی سانحے کا مرکز بن گیا تھا، جب مجیب الرحمٰن اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد کو 1975 میں اسی گھر میں قتل کردیا گیا تھا، حسینہ واجد، جو اس حملے میں بچ گئی تھیں، انہوں نے بعد میں اس عمارت کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا جو ان کے والد کی وراثت کے لیے وقف تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ وہ کسی عمارت کو منہدم کر سکتے ہیں، لیکن تاریخ کو نہیں، تاریخ اس کا بدلہ لیتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے غیر آئینی طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے عوام پر زور دیا کہ وہ عبوری حکومت کے خلاف کھڑے ہوں۔</p>
<p>ان مظاہروں کے پیچھے طلبہ کی زیر قیادت تحریک نے ملک کے 1972 کے آئین کو ختم کرنے کے منصوبوں کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ حسینہ واجد کے والد کی حکمرانی کی وراثت کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1252410</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Feb 2025 15:40:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/06141658bbdd145.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/06141658bbdd145.jpg"/>
        <media:title>حسینہ واجد نے کہا کہ عوام عبوری حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
