<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 06:23:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 06:23:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید افراد کی میتیں آج وطن پہنچیں گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1252470/</link>
      <description>&lt;p&gt;موریطانیہ-مراکش کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید 4 پاکستانیوں کی میتیں جمعہ (آج) کو اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1890254/more-bodies-from-migrant-shipwreck-due-today"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افریقی انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے گجرات کے سفیان علی اور قوسین حیدر، گوجرانوالہ کے محمد وقاص اور منڈی بہاالدین کے محمد اکرم کی میتیں سعودی ایئر لائنز کے ذریعے جمعہ کو پاکستان پہنچیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل گجرات کے قیصر اقبال، منڈی بہاالدین کے حامد شبیر اور سجاد علی اور ضلع شیخوپورہ کے محمد ارسلان کی میتیں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پاکستان پہنچی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیصر اقبال کی نماز جنازہ گجرات کے گاؤں حاجی والا میں ادا کی گئی، جب کہ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور مقتول شیخ ظہیر الدین بابر کی غائبانہ نماز جنازہ جمعرات کو گجرات کے گاؤں کریانوالہ میں ادا کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ ظہیر الدین بابر، گجرات یونیورسٹی کے ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلیکیشنز پروفیسر شیخ عبدالرشید کے چھوٹے بھائی، اسی علاقے میں اپنا کپڑوں کا کاروبار چھوڑ کر پاکستان آنے سے قبل کئی سال پہلے اٹلی گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بار ان کی منزل اسپین تھی، جہاں ان کے ایک اور بھائی آباد ہیں لیکن وہاں پہنچنے سے قبل ہی وہ کشتی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ ان کی لاش نہ مل سکی کیونکہ افریقی ایجنٹس نے کئی متاثرین کو بحر اوقیانوس میں پھینک دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر تین مقتولین کی نماز جنازہ منڈی بہاالدین اور شیخوپورہ کے اضلاع میں ادا کی گئی، جہاں انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق گزشتہ روز وطن پہنچنے والی چار لاشوں میں سے ایک ارسلان خان کو شیخوپورہ کے گاؤں مرزا ورکان میں سپر خاک کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کے 34 سالہ بھائی عدنان خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے ارسلان کو بہتر مستقبل بنانے کے لیے بھیجا تھا، جب کہ اسمگلرز نے بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ تمام کام قانونی طور پر ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی جائیداد اور مویشی فروخت کرکے ارسلان کو روشن مستقبل کی خاطر بھیجا تھا، تاہم اسمگلرز نے دھوکا دیا اور ہمارے بھائی کی لاش بھیج دی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق دنیا میں پاکستان سے ہجرت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ بہت سے تارکین وطن پنجاب اورآزاد کشمیر سے ہجرت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی برادریوں کے یورپ میں بسنے والے پاکستانیوں سے تاریخی تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 2023 میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ پاکستانی ہر سال 40 ہزار غیر قانونی دوروں کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سال جون میں بحیرہ روم میں تارکین وطن کے بحری جہازوں کا بدترین حادثہ پیش آیا جب ایک زنگ آلود اور گنجائش سے زیادہ بھرا ہوا ڈوب گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز میں 750 سے زائد افراد سوار تھے جن میں سے 350 پاکستانی تھے، تاہم صرف 82 لاشیں برآمد ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موریطانیہ-مراکش کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید 4 پاکستانیوں کی میتیں جمعہ (آج) کو اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1890254/more-bodies-from-migrant-shipwreck-due-today"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افریقی انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے گجرات کے سفیان علی اور قوسین حیدر، گوجرانوالہ کے محمد وقاص اور منڈی بہاالدین کے محمد اکرم کی میتیں سعودی ایئر لائنز کے ذریعے جمعہ کو پاکستان پہنچیں گی۔</p>
<p>اس سے قبل گجرات کے قیصر اقبال، منڈی بہاالدین کے حامد شبیر اور سجاد علی اور ضلع شیخوپورہ کے محمد ارسلان کی میتیں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پاکستان پہنچی تھیں۔</p>
<p>قیصر اقبال کی نماز جنازہ گجرات کے گاؤں حاجی والا میں ادا کی گئی، جب کہ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور مقتول شیخ ظہیر الدین بابر کی غائبانہ نماز جنازہ جمعرات کو گجرات کے گاؤں کریانوالہ میں ادا کی گئی۔</p>
<p>شیخ ظہیر الدین بابر، گجرات یونیورسٹی کے ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلیکیشنز پروفیسر شیخ عبدالرشید کے چھوٹے بھائی، اسی علاقے میں اپنا کپڑوں کا کاروبار چھوڑ کر پاکستان آنے سے قبل کئی سال پہلے اٹلی گئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم اس بار ان کی منزل اسپین تھی، جہاں ان کے ایک اور بھائی آباد ہیں لیکن وہاں پہنچنے سے قبل ہی وہ کشتی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ ان کی لاش نہ مل سکی کیونکہ افریقی ایجنٹس نے کئی متاثرین کو بحر اوقیانوس میں پھینک دیا تھا۔</p>
<p>دیگر تین مقتولین کی نماز جنازہ منڈی بہاالدین اور شیخوپورہ کے اضلاع میں ادا کی گئی، جہاں انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کردیا گیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق گزشتہ روز وطن پہنچنے والی چار لاشوں میں سے ایک ارسلان خان کو شیخوپورہ کے گاؤں مرزا ورکان میں سپر خاک کردیا گیا۔</p>
<p>مقتول کے 34 سالہ بھائی عدنان خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے ارسلان کو بہتر مستقبل بنانے کے لیے بھیجا تھا، جب کہ اسمگلرز نے بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ تمام کام قانونی طور پر ہوگا۔‘</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی جائیداد اور مویشی فروخت کرکے ارسلان کو روشن مستقبل کی خاطر بھیجا تھا، تاہم اسمگلرز نے دھوکا دیا اور ہمارے بھائی کی لاش بھیج دی۔‘</p>
<p>اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق دنیا میں پاکستان سے ہجرت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ بہت سے تارکین وطن پنجاب اورآزاد کشمیر سے ہجرت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی برادریوں کے یورپ میں بسنے والے پاکستانیوں سے تاریخی تعلقات ہیں۔</p>
<p>وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 2023 میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ پاکستانی ہر سال 40 ہزار غیر قانونی دوروں کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سال جون میں بحیرہ روم میں تارکین وطن کے بحری جہازوں کا بدترین حادثہ پیش آیا جب ایک زنگ آلود اور گنجائش سے زیادہ بھرا ہوا ڈوب گیا تھا۔</p>
<p>جہاز میں 750 سے زائد افراد سوار تھے جن میں سے 350 پاکستانی تھے، تاہم صرف 82 لاشیں برآمد ہوسکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1252470</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Feb 2025 11:22:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اشرف بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/071118222eaa5b0.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/071118222eaa5b0.gif"/>
        <media:title>تین مقتولین کی نماز جنازہ منڈی بہاالدین اور شیخوپورہ کے اضلاع میں ادا کی گئی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
