<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 15:04:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 15:04:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: ڈی چوک میں احتجاج کرنے والے وکلا واپس روانہ، ریڈ زون کے راستے کھل گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1252675/</link>
      <description>&lt;p&gt;26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس کے خلاف وکلا ایکشن کمیٹی نے احتجاج ختم کردیا جس کے بعد ریڈ زون کے راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وکلا ایکشن کمیٹی نے احتجاج کے دوران اسلام آباد کے سرینا چوک سے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو وکلا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی، پولیس نے احتجاجی وکلا پر لاٹھی چارج بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کا آغاز کیا، اس دوران انتظامیہ نے سرینا چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تھا، انتظامیہ نے ریڈ زون کو بھی مکمل سیل کر رکھا تھا، تاہم وکلا کسی طرح ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور وکلا کے درمیان جھڑپ کے بعد احتجاجی وکلا منتشر ہوگئے اور سری نگر ہائی وے پر دھرنا دے دیا، اس دوران  مری جانے والی سڑک کو بند کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ueb8M3OdBCI?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد کے ریڈ زون کے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جس کی وجہ سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد پولیس کی پیش قدمی پر وکلا ایکشن کمیٹی نے سری نگر ہائی وے بھی خالی کر دیا، وکلا سری نگر ہائی وے خالی کرکے ایک بار پھر سرینا چوک روڈ پر پہنچ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وکلا ایکشن کمیٹی کی احتجاجی ریلی ڈی چوک پہنچ گئی، وکلا نے ڈی چوک پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد وکلا بھی احتجاج ختم کرتے ہوئے واپس روانہ ہوگئے جس کے بعد ڈی چوک ٹریفک کو کیلئے کھول دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی آپریشنز شعیب خان ڈی چوک میں موجود رہے، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی ٹریفک بھی ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہے جب کہ ڈی سی اسلام آباد اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز بھی مختلف پوائنٹس پر موجود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان کی تمام بار کونسلز نے مشترکہ اعلامیے میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف ہڑتال کو مسترد کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، خیبرپختونخوا بار کونسل، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ اعلامیے میں ہڑتال کو مسترد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ قانونی برادری کے منتخب نمائندے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر انتشاری لوگوں کی کال کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا کہ قانونی برادری میں کچھ نام نہاد شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، منتخب نمائندے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کی مکمل حمایت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جوڈیشل-کمیشن-کے-اجلاس-میں-کیا-ہوگا" href="#جوڈیشل-کمیشن-کے-اجلاس-میں-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کیا ہوگا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں 8 اضافی ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے 2، 2 جب کہ پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک ایک جج کو سپریم کورٹ میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے قبل سپریم کورٹ کے 4 جج، جن میں جوڈیشل کمیشن کے 2 ارکان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں، نے اجلاس موخر کرنے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، جب کہ کمیشن میں شامل  پی ٹی آئی کے رکن علی ظفر نے بھی اجلاس مشروط طور پر موخر کرنے کے لیے خط تحریر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر علی ظفر نے خط میں لکھا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سنیارٹی کا معاملہ حل ہونے تک اجلاس مؤخر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا تھا کہ ججز کے ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی ہے، ججز کے تبادلے سے تاثر ہے کہ یہ سارا بندوبست بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر علی ظفر کے خط میں کہا گیا تھا کہ مناسب ہوگا ججز سنیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک کمیشن اجلاس مؤخر کیا جائے، اور اگر کمیشن کو اجلاس کرنا ہی ہے تو ٹرانسفر شدہ ججز کا معاملہ زیرغور نہ لایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>26ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس کے خلاف وکلا ایکشن کمیٹی نے احتجاج ختم کردیا جس کے بعد ریڈ زون کے راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وکلا ایکشن کمیٹی نے احتجاج کے دوران اسلام آباد کے سرینا چوک سے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو وکلا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی، پولیس نے احتجاجی وکلا پر لاٹھی چارج بھی کیا۔</p>
<p>وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کا آغاز کیا، اس دوران انتظامیہ نے سرینا چوک کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تھا، انتظامیہ نے ریڈ زون کو بھی مکمل سیل کر رکھا تھا، تاہم وکلا کسی طرح ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔</p>
<p>پولیس اور وکلا کے درمیان جھڑپ کے بعد احتجاجی وکلا منتشر ہوگئے اور سری نگر ہائی وے پر دھرنا دے دیا، اس دوران  مری جانے والی سڑک کو بند کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ueb8M3OdBCI?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد کے ریڈ زون کے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جس کی وجہ سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اسلام آباد پولیس کی پیش قدمی پر وکلا ایکشن کمیٹی نے سری نگر ہائی وے بھی خالی کر دیا، وکلا سری نگر ہائی وے خالی کرکے ایک بار پھر سرینا چوک روڈ پر پہنچ گئے تھے۔</p>
<p>بعد ازاں وکلا ایکشن کمیٹی کی احتجاجی ریلی ڈی چوک پہنچ گئی، وکلا نے ڈی چوک پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔</p>
<p>تاہم، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد وکلا بھی احتجاج ختم کرتے ہوئے واپس روانہ ہوگئے جس کے بعد ڈی چوک ٹریفک کو کیلئے کھول دیا گیا۔</p>
<p>ایس ایس پی آپریشنز شعیب خان ڈی چوک میں موجود رہے، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی ٹریفک بھی ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہے جب کہ ڈی سی اسلام آباد اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز بھی مختلف پوائنٹس پر موجود رہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان کی تمام بار کونسلز نے مشترکہ اعلامیے میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف ہڑتال کو مسترد کردیا ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل، خیبرپختونخوا بار کونسل، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ اعلامیے میں ہڑتال کو مسترد کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ قانونی برادری کے منتخب نمائندے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر انتشاری لوگوں کی کال کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔</p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا کہ قانونی برادری میں کچھ نام نہاد شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، منتخب نمائندے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کی مکمل حمایت کریں گے۔</p>
<h1><a id="جوڈیشل-کمیشن-کے-اجلاس-میں-کیا-ہوگا" href="#جوڈیشل-کمیشن-کے-اجلاس-میں-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کیا ہوگا؟</h1>
<p>سپریم کورٹ میں 8 اضافی ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کریں گے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے 2، 2 جب کہ پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک ایک جج کو سپریم کورٹ میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>اجلاس سے قبل سپریم کورٹ کے 4 جج، جن میں جوڈیشل کمیشن کے 2 ارکان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں، نے اجلاس موخر کرنے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، جب کہ کمیشن میں شامل  پی ٹی آئی کے رکن علی ظفر نے بھی اجلاس مشروط طور پر موخر کرنے کے لیے خط تحریر کیا تھا۔</p>
<p>سینیٹر علی ظفر نے خط میں لکھا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سنیارٹی کا معاملہ حل ہونے تک اجلاس مؤخر کیا جائے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا تھا کہ ججز کے ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی ہے، ججز کے تبادلے سے تاثر ہے کہ یہ سارا بندوبست بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p>سینیٹر علی ظفر کے خط میں کہا گیا تھا کہ مناسب ہوگا ججز سنیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک کمیشن اجلاس مؤخر کیا جائے، اور اگر کمیشن کو اجلاس کرنا ہی ہے تو ٹرانسفر شدہ ججز کا معاملہ زیرغور نہ لایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1252675</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Feb 2025 18:32:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/1012423905c0f87.png?r=150520" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/1012423905c0f87.png?r=150520"/>
        <media:title>پاکستان کی تمام بار کونسلز نے مشترکہ اعلامیے میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف ہڑتال کو مسترد کیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
