<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 07:37:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 07:37:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی میں شمسی توانائی سے چلنے والی جدید ریل بس سروس کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1252693/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے موقع پر آج سے شمسی توانائی سے چلنے والی نئی ’ریل بس‘ کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلف نیوز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/transport/dubai-launches-rail-bus-1.500032647"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آر ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس بس کی آپریشنل رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ اس میں 40 مسافروں کی گنجائش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ریل-بس-کیا-ہے" href="#ریل-بس-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ریل بس کیا ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ریل بس ایک  ریل کار ہے جو ریلوے لائنوں کے ذریعے آمد و رفت کرے گی، ریل بس سروس ایک جدید اور ماحول دوست سواری ہے، جو نقل و حمل کے دستیاب ذرائع میں سے ماحول دوست ، موثر اور کم  لاگت متبادل  کے طور پر پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج ٹائمز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaleejtimes.com/uae/transport/dubai-rta-unveils-new-rail-bus-vehicle-to-carry-40-passengers-per-trip"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کیپسول سے مشابہ ریل کی لمبائی 11.5 میٹر اور چوڑائی 2.65 میٹر ہے، ریل بس کو نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ بننے اور شہر بھر میں ٹریفک کے بہاؤ کو ہموار بنانے میں مدد کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے جنوری 2024 میں ریل بس سسٹم تیار کرنے کے لئے ریل بس کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے ، جو منصوبے کے لیے درکار بجلی پیدا کرنے کے لیے سولر پینل سے لیس پل پر سفر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے میوزیم آف دی فیوچر نے دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے اشتراک سے جوبی ایوی ایشن کی تیار کردہ فضائی ٹیکسی کا پروٹو ٹائپ جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق فضائی ٹیکسی کا مقصد 2030 تک سفر کو 25 فیصد سیلف ڈرائیونگ بنانا ہے، جدید برقی ٹیکنالوجی پر مشتمل اس منصوبے کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور عالمی استحکام کے مقاصد کی حمایت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی اے کی پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی میں ٹرانسپورٹیشن سسٹمز کے ڈائریکٹر خالد العوادھی نے کہا تھا کہ ہم میوزیم آف دی فیوچر میں فضائی ٹیکسی ماڈل کی نمائش کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، جو اس متحرک شہر میں نقل و حرکت کی دوبارہ تعریف کرنے کے لیے دبئی کے عزائم اور آگے کی سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے موقع پر آج سے شمسی توانائی سے چلنے والی نئی ’ریل بس‘ کا آغاز کردیا۔</p>
<p>گلف نیوز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/transport/dubai-launches-rail-bus-1.500032647"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آر ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس بس کی آپریشنل رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ اس میں 40 مسافروں کی گنجائش ہے۔</p>
<h1><a id="ریل-بس-کیا-ہے" href="#ریل-بس-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ریل بس کیا ہے؟</h1>
<p>ریل بس ایک  ریل کار ہے جو ریلوے لائنوں کے ذریعے آمد و رفت کرے گی، ریل بس سروس ایک جدید اور ماحول دوست سواری ہے، جو نقل و حمل کے دستیاب ذرائع میں سے ماحول دوست ، موثر اور کم  لاگت متبادل  کے طور پر پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>خلیج ٹائمز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaleejtimes.com/uae/transport/dubai-rta-unveils-new-rail-bus-vehicle-to-carry-40-passengers-per-trip"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کیپسول سے مشابہ ریل کی لمبائی 11.5 میٹر اور چوڑائی 2.65 میٹر ہے، ریل بس کو نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ بننے اور شہر بھر میں ٹریفک کے بہاؤ کو ہموار بنانے میں مدد کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1252099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے جنوری 2024 میں ریل بس سسٹم تیار کرنے کے لئے ریل بس کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے ، جو منصوبے کے لیے درکار بجلی پیدا کرنے کے لیے سولر پینل سے لیس پل پر سفر کرتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے میوزیم آف دی فیوچر نے دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے اشتراک سے جوبی ایوی ایشن کی تیار کردہ فضائی ٹیکسی کا پروٹو ٹائپ جاری کیا تھا۔</p>
<p>گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق فضائی ٹیکسی کا مقصد 2030 تک سفر کو 25 فیصد سیلف ڈرائیونگ بنانا ہے، جدید برقی ٹیکنالوجی پر مشتمل اس منصوبے کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور عالمی استحکام کے مقاصد کی حمایت کرنا ہے۔</p>
<p>آر ٹی اے کی پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی میں ٹرانسپورٹیشن سسٹمز کے ڈائریکٹر خالد العوادھی نے کہا تھا کہ ہم میوزیم آف دی فیوچر میں فضائی ٹیکسی ماڈل کی نمائش کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، جو اس متحرک شہر میں نقل و حرکت کی دوبارہ تعریف کرنے کے لیے دبئی کے عزائم اور آگے کی سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1252693</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Feb 2025 16:04:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/10144558ae02ea0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/10144558ae02ea0.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: گلف نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/1015033394127b8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/1015033394127b8.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: خلیج ٹائمز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
