<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:57:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:57:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاعر آکاش انصاری گھر میں لگی آگ میں جھلس کر جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253121/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھی زبان کے مزاحمتی شاعر، لکھاری، سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر آکاش انصاری گھر میں لگی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.app.com.pk/domestic/renowned-sindhi-poet-akash-ansari-die-in-house-fire/"&gt;&lt;strong&gt;اے پی پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق حیدرآباد کی سوسائٹی ہیپی ہوم میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی، جس میں شاعر اور ان کے بیٹے شدید زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ کے شعلوں نے گھر کو لپیٹ میں لے لیا، جس میں ڈاکٹر آکاش انصاری موقع پر ہی جھلس کر جاں بحق ہوگئے جب کہ ان کے بیٹے کو تشویش ناک حالت میں دوسرے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز نے ضروری کارروائی کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا اور ڈاکٹر آکاش انصاری کی لاش کو تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر بدین بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253110"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری دسمبر 1956 میں ضلع بدین کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام اللہ بخش تھا، تاہم انہوں نے شاعرانہ نام آکاش رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ثانوی تعلیم بدین سے حاصل کرنے کے بعد 1984 میں لیاقت میڈیکل کالیج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹری پیشے سے وابستہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری کی شاعری کی دو کتابوں ’ادھورا ادھورا‘ اور ’کیسے رہوں جلا وطن‘ کا شمار سندھی ادب کی مشہور کتابوں میں ہوتا ہے، ان کے تراجم انگریزی سمیت دوسری زبانوں میں بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری کو مزاحمتی شاعری لکھنے پر شہرت حاصل رہی، انہوں نے ضیا الحق کے دور میں بھی مزاحمتی شاعری لکھی جب کہ وہ ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شاعری کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری نے مزاحمتی شاعری میں عدالتی اور نظام انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ ان کے رومانوی گانے بھی متعدد فنکاروں نے گائے اور ان کے گانے ہر دور میں پسند کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش انصاری کے آگ میں جھلس کر جاں بحق ہونے پر وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر ثقافت سندھ سمیت سیاسی و ادبی شخصیات نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعائیں کیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھی زبان کے مزاحمتی شاعر، لکھاری، سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر آکاش انصاری گھر میں لگی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.app.com.pk/domestic/renowned-sindhi-poet-akash-ansari-die-in-house-fire/"><strong>اے پی پی</strong></a>) کے مطابق حیدرآباد کی سوسائٹی ہیپی ہوم میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی، جس میں شاعر اور ان کے بیٹے شدید زخمی ہوئے۔</p>
<p>آگ کے شعلوں نے گھر کو لپیٹ میں لے لیا، جس میں ڈاکٹر آکاش انصاری موقع پر ہی جھلس کر جاں بحق ہوگئے جب کہ ان کے بیٹے کو تشویش ناک حالت میں دوسرے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>ڈاکٹرز نے ضروری کارروائی کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا اور ڈاکٹر آکاش انصاری کی لاش کو تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر بدین بھیج دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1253110"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری دسمبر 1956 میں ضلع بدین کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام اللہ بخش تھا، تاہم انہوں نے شاعرانہ نام آکاش رکھا۔</p>
<p>انہوں نے ثانوی تعلیم بدین سے حاصل کرنے کے بعد 1984 میں لیاقت میڈیکل کالیج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹری پیشے سے وابستہ ہوگئے۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری کی شاعری کی دو کتابوں ’ادھورا ادھورا‘ اور ’کیسے رہوں جلا وطن‘ کا شمار سندھی ادب کی مشہور کتابوں میں ہوتا ہے، ان کے تراجم انگریزی سمیت دوسری زبانوں میں بھی ہوئے۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری کو مزاحمتی شاعری لکھنے پر شہرت حاصل رہی، انہوں نے ضیا الحق کے دور میں بھی مزاحمتی شاعری لکھی جب کہ وہ ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شاعری کرتے رہے۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری نے مزاحمتی شاعری میں عدالتی اور نظام انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ ان کے رومانوی گانے بھی متعدد فنکاروں نے گائے اور ان کے گانے ہر دور میں پسند کیے گئے۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش انصاری کے آگ میں جھلس کر جاں بحق ہونے پر وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر ثقافت سندھ سمیت سیاسی و ادبی شخصیات نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعائیں کیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253121</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Feb 2025 18:25:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/15164256174aee9.jpg?r=164323" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/15164256174aee9.jpg?r=164323"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
