<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 00:10:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 00:10:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی ادارے کو بلامعاوضہ نمائندگان کی درخواستیں طلب کرنے پر تنقید کا سامنا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253358/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے ماتحت خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ (اے پی پی) کو بلا معاوضہ نمائندگان کی درخواستیں طلب کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی پی وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ماتحت وفاقی حکومت کا واحد خبر رساں ادارہ ہے، تاہم اطلاعات و نشریات کے ماتحت پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) اور ریڈیو پاکستان جیسے ادارے بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی پی کو معتبر سرکاری خبر رساں ادارے کی اہمیت حاصل ہے، تاہم ادارے نے 18 فروری کو فیس بک پیج پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ادارے نے ملک بھر سے بلامعاوضہ نمائندگان کی درخواستیں طلب کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کی جانب سے شیئر کردہ اشتہار میں واضح لکھا گیا کہ معتبر سرکاری ادارے کو ملک بھر سے پارٹ ٹائم بلامعاوضہ نمائندگان کی ضرورت ہے اور دلچسپی رکھنے والے افراد اپنا دستاویزات بھجوا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fapponfb%2Fposts%2Fpfbid02vv6AGb1eWuWnTtt3okeRDJ5PojHoTNQek5YKfLR9sZyPm7oLu4EppobCrBxGfpMpl&amp;show_text=true&amp;width=800" width="600" height="610" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p&gt;اشتہار میں واضح کیا گیا کہ نمائندگان کا کام ثقافت، کھیلوں، موسیقی، کھانوں اور تفریحی مقامات سے متعلق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشتہار میں کسی طرح کی تعلیم نہیں مانگی گئی، ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ درخواست گزار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کی مہارت کو ان کی قابلیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے ملک بھر سے پارٹ ٹائم نمائندگان کی بلامعاوضہ درخواستیں طلب کرنے کی پوسٹ پر ملک بھر کے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے تبصرے کرتے ہوئے ادارے اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر صارفین نے اے پی پی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انتطامیہ کو شرم دلانے کی کوشش کی اور اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ حکومت پاکستان کا ادارہ بھی عوام سے بلا معاوضہ کام کروانا چاہتا ہے تو باقی نجی میڈیا اداروں کا کیا قصور ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ادارہ بلامعاوضہ کام کروانا چاہتا ہے تو ادارہ معتبر کیسے ہوا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/18193039c8e0811.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ افراد نے لکھا کہ اے پی پی انتظامیہ کو ’بلا معاوضہ‘ لکھتے ہوئے شرم نہیں آئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر تاحال اے پی پی کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اے پی پی کے ملک کے چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں میں علاقائی دفاتر ہونے سمیت ملک بھر میں نمائندگان بھی ہیں جب کہ ادارے کے بیرون ممالک بھی نمائندگان تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی پی اردو اور انگریزی کے علاوہ پشتو، سندھی، سرائیکی اور دیگر زبانوں میں بھی خبریں فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/18192823797b118.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت کے ماتحت خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ (اے پی پی) کو بلا معاوضہ نمائندگان کی درخواستیں طلب کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔</p>
<p>اے پی پی وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ماتحت وفاقی حکومت کا واحد خبر رساں ادارہ ہے، تاہم اطلاعات و نشریات کے ماتحت پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) اور ریڈیو پاکستان جیسے ادارے بھی ہیں۔</p>
<p>اے پی پی کو معتبر سرکاری خبر رساں ادارے کی اہمیت حاصل ہے، تاہم ادارے نے 18 فروری کو فیس بک پیج پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ادارے نے ملک بھر سے بلامعاوضہ نمائندگان کی درخواستیں طلب کیں۔</p>
<p>ادارے کی جانب سے شیئر کردہ اشتہار میں واضح لکھا گیا کہ معتبر سرکاری ادارے کو ملک بھر سے پارٹ ٹائم بلامعاوضہ نمائندگان کی ضرورت ہے اور دلچسپی رکھنے والے افراد اپنا دستاویزات بھجوا سکتے ہیں۔</p>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fapponfb%2Fposts%2Fpfbid02vv6AGb1eWuWnTtt3okeRDJ5PojHoTNQek5YKfLR9sZyPm7oLu4EppobCrBxGfpMpl&show_text=true&width=800" width="600" height="610" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share"></iframe>
<p>اشتہار میں واضح کیا گیا کہ نمائندگان کا کام ثقافت، کھیلوں، موسیقی، کھانوں اور تفریحی مقامات سے متعلق ہو۔</p>
<p>اشتہار میں کسی طرح کی تعلیم نہیں مانگی گئی، ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ درخواست گزار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کی مہارت کو ان کی قابلیت تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے ملک بھر سے پارٹ ٹائم نمائندگان کی بلامعاوضہ درخواستیں طلب کرنے کی پوسٹ پر ملک بھر کے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے تبصرے کرتے ہوئے ادارے اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔</p>
<p>زیادہ تر صارفین نے اے پی پی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انتطامیہ کو شرم دلانے کی کوشش کی اور اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ حکومت پاکستان کا ادارہ بھی عوام سے بلا معاوضہ کام کروانا چاہتا ہے تو باقی نجی میڈیا اداروں کا کیا قصور ہے؟</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ادارہ بلامعاوضہ کام کروانا چاہتا ہے تو ادارہ معتبر کیسے ہوا؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/18193039c8e0811.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ افراد نے لکھا کہ اے پی پی انتظامیہ کو ’بلا معاوضہ‘ لکھتے ہوئے شرم نہیں آئی؟</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر تاحال اے پی پی کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ اے پی پی کے ملک کے چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں میں علاقائی دفاتر ہونے سمیت ملک بھر میں نمائندگان بھی ہیں جب کہ ادارے کے بیرون ممالک بھی نمائندگان تعینات ہیں۔</p>
<p>اے پی پی اردو اور انگریزی کے علاوہ پشتو، سندھی، سرائیکی اور دیگر زبانوں میں بھی خبریں فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/02/18192823797b118.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253358</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Feb 2025 19:36:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/18193427d533379.jpg?r=193441" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/18193427d533379.jpg?r=193441"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
